رسائی کے لنکس

غنی کے فرار سے افغانستان میں پرامن اقتدار کا منصوبہ دھرا رہ گیا، خلیل زاد

افغان مفاہمت کے لیے امریکہ کے خصوصی سفیر زلمے خلیل زاد نے کہا ہے کہ طالبان نے وعدہ کیا تھا کہ پرامن انتقال اقتدار کے لیے وہ 15 روز تک کابل میں داخل نہیں ہوں گے، لیکن غنی کابل سے فرار ہو گئے۔


فائل فوٹو
03:34

کیا افغانستان کے لیے سی پیک اہمیت کا حامل ہے؟ تجزیہ کاروں کی رائے

سی پیک کے لئے افغانستان کی اہمیت اس لحاظ سے بہت زیادہ ہے کہ اس کے لیے کہا جاتا ہے کہ یہ وسطی ایشیاء میں داخلے کا دروازہ ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ چین اور پاکستان دونوں کی جانب سے اسے سی پیک میں لانے کی کوششیں جاری ہیں۔ خاص طور پر ایسے میں جب افغانستان کے حالات بدل چکے ہیں اور ان بدلے ہوئے حالات میں طالبان کو بدحال معیشت کو سنبھالنے اور زر مبادلہ کی حالت بہتر بنانے کے لئے مالی مدد کی ضرورت ہے۔

افغانستان کی سی پیک میں شمولیت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کی پارلیمانی کمیٹی برائے سی پیک کے سربراہ ارباب شیر علی نے کہا کہ افغانستان کی معشیت کا انحصار امداد پرتھا اور ایسے میں جب اسے عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے کوئی مدد نہیں مل رہی ہے، نہ مغربی ملکوں میں اسکے منجمد فنڈز ریلیز کئے جا رہے ہیں وہ اپنی بقا کے لئے کسی بھی ایسے ملک یا ملکوں کے ساتھ آگے چلنے کے لئے آمادہ ہوگا جو اس مشکل صورت حال سے نکلنے میں اسکی مدد کریں۔ دوسری جانب،چین یہ چاہے گا کہ افغانستان 'بیلٹ اینڈ روڈ' منصوبے میں اسکا پارٹنر بنے۔ یعنی دونوں کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔

بقول ارباب شیر علی، آج کی دنیا 'جیو اکانامکس' کی دنیا ہے؛ اور جو بھی ملک چاہے وہ چین ہو یا روس یا کوئی اور ملک جو اسے اس مرحلے پر سہارا دے گا وہ اس کے ساتھ جائیگا۔

انکا کہنا تھا کہ پاکستان کی پہلے بھی خواہش تھی کہ افغانستان سی پیک کا حصہ بنے اور وہ اب بھی اس کے لئے کوشاں ہے اور اپنے طور پر اقدامات بھی کر رہا ہے۔ اور وہ سمجھتا ہے کہ مستحکم افغانستان خطے میں خاص طور پر وسط ایشیائی خطے میں تجارت اور معاشی سرگرمیوں کے لئے بہت اہم ہے۔

پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں گوادر کا کردار کتنا اہم؟

اس سوال کے جواب میں کہ کیا چین سی پیک میں مزید سرمایہ کاری نہیں کر رہا، ارباب شیر علی نے کہا کہ ایسا نہیں ہے۔ البتہ، سیکیورٹی کے حوالے سے کچھ مسائل تھے، جن پر حکومتی سطح پر کام ہو رہا ہے۔

ڈاکٹر ایوب مہر ہاکستان کے ایک ممتاز ماہر معاشیات اور اکنامک کوآپریشن کونسل یا 'ای سی او چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری' کے معاشی مشیر ہیں۔ سی ہیک کے لئے افغانستان کی اہمیت کے بارے میں وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ای سی او ملکوں کی تعداد بنیادی طور پر گیارہ ہے۔ اور ان میں افغانستان کی سینٹرل لوکیشن بنتی ہے۔ اور ان گیارہ ملکوں کے ساتھ اگر چین اور منگولیا کو بھی شامل کرلیا جائے تو ان سب کے لئے افغانستان مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔

بقول ان کے، سی پیک چین اور پاکستان کا منصوبہ ہے لیکن یہ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ یا 'بی آر آئی' منصوبے کا بھی ایک حصہ ہے۔ اس بی آر آئی کے تین روٹس ہیں۔ ان میں سےایک ملیشیا سے شروع ہو کر ترکی تک جاتا ہے۔ یہ سدرن روٹ کہلاتا ہے۔

یہ روٹ جب چین کے شہر کاشغر پہنچتا ہے تو وہاں وہ ایک روٹ سے ملتا ہے جسے سی پیک کہا جاتا ہے۔ یہ کاشغر سے شروع ہو کر تاجکستان اور کرغزستان سے ہوتا ہوا پاکستان تک آجاتا ہے۔ لیکن اس روٹ کی صحیح معنوں میں افادیت اسی وقت ہو سکتی ہے جب دو لینڈ لاک ممالک ترکمانستان اور ازبکستان بھی اسکے دائرہ کار میں آجائیں۔ لیکن، سی پیک کو ترکمنستان اور ازبکستان کے ساتھ اسوقت تک نہیں جوڑا جاسکتا جب تک کہ افغانستان سی پیک سے نہ جڑ جائے۔

کیونکہ افغانستان کے مغرب میں ترکمنستان اور ازبکستان اور مشرق میں پاکستان ہے؛ اس لحاظ سے سی پیک کے لئے افغانستان کی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے۔

کیا افغانستان کے لیے سی پیک اہمیت کا حامل ہے؟ تجزیہ کاروں کی آرا

ڈاکٹر ایوب مہر نے کہا کہ سی پیک اس وقت تک مطلوبہ نتائج نہیں دے سکتا جب تک ازبکستان جو ایک بڑی آبادی والا ملک ہے اور ترکمنستان جو ایک صنعتی اور دولتمند ملک ہے، اس میں شامل نہ ہوں، جہاں کاروبار اور سرمایہ کاری کے بھاری مواقع ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں یہ تاثر درست نہیں کہ چین سی پیک کے دوسرے مرحلے میں سرمایہ کاری میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتا۔ تاہم، یہ بات درست ہے کہ سیکیورٹی کے حوالے سے اسکے تحفظات یقیناً ہونگے جو حکومتی سطح ہر زیر غور آ سکتے ہیں۔

03:28

افغانستان میں القاعدہ کے دوبارہ قدم جمانے کے خدشات

ایسے اشاروں مل رہے ہیں کہ القاعدہ اور اسلامک اسٹیٹ، دونوں دہشت گرد گروہوں کے حامیوں نے گزشتہ ماہ طالبان کی جانب سے ملک پر قبضے سے حوصلہ پا کر اپنی نگاہیں افغانستان پر مرکوز کر لی ہیں۔

پچھلے ایک ہفتے کی ابتدائی رپورٹوں سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ دہشت گردوں کے درمیان ایسی گفتگو میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس میں افغانستان جانے کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے، لیکن امریکی انٹیلیجنس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے منگل کو کہا کہ کچھ دہشت گردوں نے افغانستان کی جانب اپنا پہلے ہی سفر شروع کر دیا ہے۔

سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈیوڈ کوہن نے واشنگٹن کے باہر منعقدہ انٹیلی جنس کے ایک اجلاس میں پینل ڈسکشن کے دوران کہا، "ہم پہلے ہی سے افغانستان میں القاعدہ کی ممکنہ نقل و حرکت کے کچھ آثار دیکھ رہے ہیں۔

"لیکن یہ ابتدائی دن ہیں،" انہوں نے انتباہ کرتے ہوئے کہا کہ القاعدہ ایک سال سے بھی کم عرصے میں دوبارہ تشکیل پا سکتی ہے۔ "ہم واضح طور پر اس پر بہت گہری نظر رکھیں گے۔"

امریکی انٹیلی جنس حکام نے القاتدہ کے ارکان کی افغانستان کی طرف واپسی کے متعلق تفصیلات بتانے، یا اس بارے میں کچھ کہنے سے انکار کیا کہ وہ کہاں سے آ رہے ہیں، جب کہ آن لائن پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں القاعدہ کے امین الحق کو اپنے آبائی وطن ننگرہار کی جانب لوٹتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ وہ تورا بورا کی لڑائی کے دوران القاعدہ کے بانی اسامہ بن لادن کے ساتھ تھا۔

ہلاکت کی افواہوں کے باوجود نائن الیون پر ایمن الظواہری کا مبینہ ویڈیو پیغام

دیگر خفیہ ایجنسیوں میں بھی اس بارے میں شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں جیسا کہ اس وقت ایران میں القاعدہ کے کچھ اہم رہنما موجود ہیں جن کے متعلق خدشات ہیں کہ وہ اس گروپ کے سیکنڈ ان کمانڈ سیف العدل کی طرح افغانستان واپس جائیں گے جہاں ان کے مضبوط تعلقات ہیں۔

سی آئی اے کے انتباہ کی طرح دہشت گردی کے خلاف کام کرنے والے بین الاقوامی عہدیداروں اور تجزیہ کاروں کے بھی یہ خدشات ہیں کہ افغانستان دوبارہ دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

اسلامک اسٹیٹ گروپ، القاعدہ اور طالبان کی نگرانی کرنے والی اقوام متحدہ کی ٹیم کے کوآرڈینیٹر ایڈمنڈ فٹن براؤن نے جمعہ کو ایک آن لائن فورم کو بتایا، "اس بارے میں ہونے والی گفتگو شک و شبہے سے بالاتر ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ یقینی طور پر ان میں افغانستان جانے کے لیے ایک بہت توانا جوش و جذبہ پایا جاتا ہے۔

واشنگٹن میں قائم مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے تجزیہ کار چارلس لیسٹر کی طرح دیگر تجزیہ کاروں نے بھی القاعدہ کے اہم حریف گروپ دولت اسلامیہ (داعش) کے حامیوں کی جانب سے افغانستان میں ان کی بڑھتی ہوئی دلچسپی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

'القاعدہ نظریاتی طور پر پہلے سے زیادہ طاقت ور ہوئی ہے'

اس خطرے سے متعلق ایک سوال پر گزشتہ ہفتے وائس آف امریکہ سے بات کرنے والے امریکی حکام نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ یہ تشویش کی بات ہے اور امریکہ کے افغانستان سے انخلا مکمل کرنے سے پہلے ہی، امریکی خفیہ ایجنسیوں نے افغانستان آنے والے غیر ملکی جنگجوؤں سے خبردار کرنا شروع کر دیا تھا۔

امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے اب تشویش کی بات یہ ہے کہ افغانستان سے انخلا کے بعد وہاں زمین پر ہونے والی پیش رفت ان کی نگاہوں سے اوجھل رہے گی۔

سی آئی اے کے کوہن نے کہا، "افغانستان میں ہماری موجودہ صلاحیت وہ نہیں ہے جو چھ ماہ پہلے یا ایک سال پہلے تھی۔" تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ ناقابل عبور رکاوٹ نہیں ہے۔۔

انہوں نے کہا، "ہمیں ایجنسی اور ہمارے شراکت داروں کے ساتھ ان علاقوں میں جہاں جانے کی اجازت نہیں ہے، انٹیلی جنس اکٹھا کرنے کا تجربہ ہے اور ہم زمین پر اپنی موجودگی کے بغیر ایسا کر رہے ہیں۔" انہوں نے کہا "ہم افغانستان میں اسی طرح کے بہت سی طریقوں کا استعمال کریں گے جن کو ہم بنیادی طور پر استعمال کرتے رہے ہیں، میرا خیال ہے کہ ہم وہاں ممکنہ حد تک کام کرنے کے طریقے بھی تلاش کر لیں گے۔"

اب تک کی خفیہ اطلاعات یہ بتاتی ہیں کہ القاعدہ اور آئی ایس خراسان دونوں اپنی صلاحیتوں کو دوبارہ مستحکم بنانے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

خطے میں انسداد دہشت گردی کے لیے کام کرنے والے دیگر مغربی عہدیداروں اور امدادی کارکنوں نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ القاعدہ مستقبل قریب میں نمایاں طور پر سامنے نہیں آئے گی، تاہم آئی ایس خراسان گروپ کئی مہینوں سے افغانستان اور پڑوسی ممالک میں اپنا انفراسٹرکچر قائم کر رہا ہے۔

03:23

غنی کے فرار سے افغاننستان میں اقتدار کی پرامن منتقلی کا منصوبہ دھرا رہ گیا، خلیل زاد

فائل فوٹو
فائل فوٹو

امریکی ایلچی برائے افغان مفاہمت نے کہا ہے کہ اگست کے وسط میں انھوں نے طالبان کے ساتھ آخری لمحات میں ایک معاہدہ طے کیا تھا جس میں مذاکرات کے ذریعے سیاسی عبوری دور کے معاملات طے پائے، تاکہ سرکش عناصر کو کابل سے باہر رکھا جا سکے۔

لیکن، انھوں نے بتایا کہ صدر اشرف غنی کی جانب سے ملک سے بھاگ نکلنے کے فیصلے کے نتیجے میں یہ منصوبہ دھرے کا دھرا رہ گیا۔

افغان نژاد امریکی خصوصی ایلچی، زلمے خلیل زاد نے یہ انکشاف روزنامہ 'فنانسشل ٹائمز' کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کیا۔

انھوں نے کہا کہ 15 اگست کو طالبان کی جانب سے دارلحکومت پر قبضہ کرنے سے چند گھنٹے قبل انھوں نے طالبان دو ہفتے کی مہلت کا معاملہ طئے کیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ غنی کے چلے جانے سے شہر میں سیکیورٹی کا ایک خلا پیدا ہو گیا۔ جس کی وجہ سے اس دن اسلام پسند گروپ نے تیزی سے شہر کے اندر قدم جما لیے۔

خلیل زاد نے وضاحت کی کہ اس معاہدے کی رو سے غنی اس وقت تک اقتدار میں رہتے جب تک مستقبل کی حکومت سے متعلق دوحہ میں کوئی سمجھوتا نہ ہو جاتا؛ باوجود اس بات کے کہ اس وقت تک طالبان کابل کے دروازے پر دستک دے رہے تھے۔

طالبان کی تصدیق

طالبان کے ایک اہل کار نے بدھ کے روز قطر کے دارالحکومت دوحہ میں خلیل زاد کے ساتھ ہونے والی مفاہمت کی تفصیل کی تصدیق کی، جہاں ان کا سیاسی دفتر ہوا کرتا تھا۔

طالبان کے ترجمان، سہیل شاہین نے دوحہ سے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ''ہاں، ہماری طرف سے اس بات کا یقین دلایا گیا تھا کہ ہماری فوج کابل شہر کے اندر داخل نہیں ہو گی، اور ہم اقتدار کی پر امن منتقلی کے بارے میں بات کرنے پر تیار تھے''۔

خلیل زاد نے 'فنانشل ٹائمز' کو بتایا کہ انھیں کوئی اندازاہ نہیں تھا کہ غنی متحدہ عرب امارات میں سیاسی پناہ لینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

امریکی ایلچی نے کہا کہ ''غنی کے جانے کے بعد کابل میں امن و امان سے متعلق سوالات اٹھ کھڑے ہوئے۔ پھر طالبان نے کہنا شروع کیا: ''کیا آپ اب کابل کی سیکیورٹی کی ذمہ داری لیں گے''؟ ''پھر جو کچھ ہوا وہ آپ کو پتا ہے، ہم یہ ذمے داری نہیں لے سکتے تھے''۔

زلمے خلیل زاد نے فروری 2020 میں طالبان کے ساتھ ایک معاہدے پر بات چیت کی، جس سے امریکہ کی افغان جنگ میں تقریباً 20 سال کی شمولیت کے بعد افغانستان سے تمام امریکی فوجیوں کی واپسی کی راہ ہموار ہوئی۔

وزیر خارجہ انٹنی بلنکن نے بھی حالیہ دنوں میں متعدد بار یہ کہا ہے کہ جب صدر غنی ملک سے فرار ہو رہے تھے اور ان دنوں انہوں نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ واشنگٹن کے منصوبے سے متفق ہیں۔

اس مہینے کے شروع میں افغانستان کے ایک نیوز چینل 'طلوع' سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا، غنی نے ملک سے فرار ہونے سے ایک رات پہلے مجھ سے گفتگو کی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ آخری سانس تک لڑنے کے لیے تیار ہیں۔

غنی نے حالیہ دنوں میں متحدہ عرب امارات سے اپنے بیانات میں کہا ہے کہ وہ افغان باشندوں کو چھوڑ دینے پر ان سے معافی مانگتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے صدارتی محل کی سیکیورٹی کے مشورے پر عمل کیا۔ سابق صدر نے لاکھوں ڈالر چوری کرنے کے الزامات کو بھی مسترد کردیا۔

نگران حکومت

افغان طالبان نے 20 سال قبل امریکی قیادت میں بین الاقوامی افواج کے حملے کے بعد حالیہ دنوں میں اپنی عبوری حکومت کا اعلان کیا ہے۔ امریکہ نے یہ حملہ اس لیے کیا تھا، کیونکہ طالبان نے القاعدہ کے رہنماؤں کو ملک سے نکالنے کا مطالبہ ماننے سے انکار کر دیا تھا۔

طالبان نے اپنے پہلے دور حکومت میں 1996 سے 2001 کے دوران اپنے انداز کے سخت قوانین نافذ کیے تھے، جس میں ظالمانہ نظام انصاف تھا، افغان اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک کیا جاتا تھا، خواتین کو عوامی زندگی سے دور کر دیا گیا تھا اور لڑکیوں پر تعلیم کے دروازے بند کر دیے گئے تھے، جس کے سبب اس وقت افغانستان عالمی تنہائی کا ہدف بن گیا تھا۔

امریکہ اور کئی دوسرے ممالک اب طالبان پر زور دے رہے ہیں کہ اگر وہ چاہتے ہیں کہ ان کا ملک عالمی برادری کا حصہ رہے اور کابل میں ان کی زیر قیادت حکومت سفارتی قبولیت حاصل کرے تو انہیں ماضی کا اپنا سخت گیر نظام واپس لانے سے احتراز کرنا ہو گا۔

02:40 15.9.2021

امریکہ کے تین سابق صدور افغان پناہ گزینوں کی امداد کے لیے سرگرم

فائل فوٹو
فائل فوٹو

امریکہ کے سابق صدر براک اوباما، بل کلنٹن اور جارج بش ایک نئے گروپ کے تحت ان افغان پناہ گزینوں کی مدد کے لئے سرگرم ہوگئے ہیں جو امریکہ کے افغانستان سے انخلا کے بعد امریکہ میں آباد کئے جا رہے ہیں۔

امریکہ میں کاروباروں اور امدادی گروپوں کے اتحاد 'ویلکم یو ایس' نے کہا ہے کہ منگل کے روز سے امریکہ کے یہ سابق صدور اور ان کی بیگمات اس گروپ کے ساتھ مل کر کام کریں گی۔

اتحاد نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ امداد اور رضاکاروں کو حرکت میں لاکر ان ہزاروں افغان باشندوں کی امریکہ میں آبادکاری میں مدد دے گا جو افغانستان سے فوجی انخلا کے بعد امریکہ لائے گئے ہیں۔

ان میں بہت سے پناہ گزین ایسے ہیں جو 20 برس کی جنگ کے دوران، افغانستان میں امریکہ اور اتحادی فوجیوں کے ساتھ یا امریکی اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ کام کر چکے ہیں اور اگر وہ طالبان کے قبضے کے بعد افغانستان میں رہتے تو ان کی جان کو خطرہ ہو سکتا تھا۔

امریکہ: نئی زندگی شروع کرنے والا افغان پناہ گزین خاندان

امریکہ کے 43ویں صدر جارج ڈبلیو بش نے اپنی اہلیہ کے ساتھ ایک بیان میں کہا ہے کہ ہزاروں افغان شہری ایک محفوظ دنیا کی کوشش میں ہمارے ساتھ اگلے محاذ پر کھڑے رہے اور اب انہیں ہماری مدد کی ضرورت ہے۔ ہمیں 'ویلکم یو ایس' کی مدد اور اس کام پر فخر ہے جو وہ افغان خاندانوں کو دوبارہ آباد کرنے اور انکی زندگیوں کی دوبارہ تعمیر کے لئے کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا، "ہم اپنے نئے افغان ہمسایوں اور باقی دنیا کو یہ دکھانے کے لیے تیار ہیں کہ کیسے خیر مقدم کرنے کا جذبہ اور کشادہ دلی ہمارے ملک کو عظیم تر بنانے کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔"

خبر رساں ادارے رائٹرز کا کہنا ہے کہ سابق صدر بل کلنٹن اور ان کی اہلیہ سابق وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن اور سابق صدر براک اوباما اور ان کی اہلیہ سابق خاتونِ اول مشیل اوباما کے خیالات جاننے کے لئے ان کے نمائندوں سے رابطہ کیا گیا، لیکن فوری طور پر رابطہ نہیں ہو سکا۔

'ویلکم یو ایس' نامی اس کونسل کو 80 سے زیادہ امریکی شخصیات،اداروں اور کاروباروں کی حمایت حاصل ہے جن میں مائیکروسافٹ کارپوریشن، سٹار بکس کارپوریشن، سی وی ایس ہیلتھ کارپوریشن اور ائیر بی این بی نامی کمپنیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سی غیر منافع بخش تنظیمیں، سابق فوجیوں کے گروپ اور نو آبادکاری کے ادارے بھی اس میں شامل ہیں۔

اس کے علاوہ ریپبلکن اور ڈیمو کریٹک پارٹی کے متعدد موجودہ اور سابق گورنر اور امریکہ کے ریاستی اور مقامی لیڈر کہہ چکے ہیں کہ وہ پناہ گزینوں کو اپنے ہاں خوش آمدید کہیں گے۔ تاہم، امیگریشن کے مسائل فی الحال موجود ہیں۔

حالیہ ہفتوں میں ہزاروں افغان شہریوں کو ہوائی جہازوں کے ذریعے افغانستان سے نکالا گیا ہے اور اس پر کافی تنقید بھی ہوئی ہے۔ لیکن،صدر بائیڈن کی انتظامیہ 50,000 کے لگ بھگ پناہ گزینوں کو امریکی فوجی اڈوں پر رہائش مہیا کر رہی ہے اور دیگر امریکہ آنے کے بعد اسی ائیرپورٹ پر امریکی عمارتوں میں رکھے گئے ہیں۔

اسی دوران خسرہ کی وباء کے پیشِ نظر افغانستان سے امریکہ کے لئے مزید پروازیں ابھی معطل کر دی گئی ہیں۔

(اس خبر میں معلومات رائٹرز سے لی گئی ہے)

مزید لوڈ کریں

فیس بک فورم

متعلقہ

XS
SM
MD
LG