رسائی کے لنکس

logo-print

طالبان کا پاکستان سے ملحقہ سرحد اسپن بولدک پر کنٹرول کا دعویٰ، افغان حکام کی تردید


اسپن بولدک پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے شہر چمن سے ملحقہ افغان شہر ہے۔

افغان طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ اُنہوں نے بدھ کو پاکستان کی سرحد کے قریب اسپن بولدک کے علاقے کا بھی کنٹرول سنبھال کر پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی گزرگاہ پر قبضہ کر لیا ہے۔

افغان وزارتِ داخلہ نے اسپن بولدک میں طالبان کے حملے کی تصدیق کی ہے۔ تاہم اس کا کہنا ہے کہ طالبان کے حملے کو ناکام بنا دیا گیا ہے اور علاقہ بدستور افغان فورسز کے کنٹرول میں ہے۔

خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' نے پاکستانی سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ افغان طالبان کا سفید جھنڈا اسپن بولدک میں لہراتا دیکھا گیا ہے۔

البتہ، آزاد ذرائع سے ان دعوؤں کی تاحال تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ تاہم سوشل میڈیا پر طالبان جنگجوؤں کی تصویریں گردش کر رہی ہیں جن میں بظاہر وہ سرحدی علاقے میں موجود ہیں۔

مبصرین کے مطابق اگر طالبان کا یہ دعویٰ درست ہے تو ایران اور تاجکستان کے بارڈرز کے قریب اہم گزرگاہوں کے کنٹرول کی طرح پاکستان سے ملحقہ سرحد پر بھی اُن کا کنٹرول ایک اہم پیش رفت ہے۔

خیال رہے کہ اسپن بولدک پاکستان کے صوبے بلوچستان کے شہر چمن کی سرحد سے ملحقہ افغان شہر ہے۔

ماہرین کے مطابق طالبان کے یہاں قبضے کی صورت میں اُن کی پاکستان کے صوبے بلوچستان تک رسائی کی راہ ہموار ہو جائے گی جہاں افغان طالبان کی قیادت کئی دہائیوں سے مقیم رہی ہے۔

افغان فورسز اور طالبان کے درمیان کئی روز سے لڑائی جاری ہے۔
افغان فورسز اور طالبان کے درمیان کئی روز سے لڑائی جاری ہے۔

قندھار میں گزشتہ دنوں طالبان اور افغان سیکیورٹی فورسز کے درمیان لڑائی جاری تھی اور فریقین ایک دوسرے کے خلاف کامیابی کے دعوے کر رہے تھے۔

افغان حکومت نے طالبان کی پیش قدمی روکنے کے لیے قندھار میں کمانڈوز بھی تعینات کر دیے تھے تاکہ طالبان قندھار میں اپنے قدم نہ جما سکیں۔

ایک بیان میں افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اسپن بولدک کے تاجروں اور رہائشیوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ انہیں مکمل تحفظ حاصل ہو گا۔

افغان وزارتِ داخلہ کے ترجمان طارق آریان نے ایک بیان میں کہا کہ "طالبان دہشت گردوں نے سرحدی شہر کی جانب پیش قدمی کی کوشش کی جسے افغان فورسز نے ناکام بنا دیا ہے۔"

طالبان کی حالیہ پیش قدمی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور اتحادی افواج کا افغانستان سے انخلا جاری ہے۔

طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات

خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کی رپورٹ کے مطابق طالبان اور افغان حکومت کے اعلیٰ سطح کے وفد کے درمیان آئندہ چند روز میں دوحہ میں امن مذاکرات متوقع ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ممکنہ طور پر جمعے کو ہونے والے ان مذاکرات میں طالبان کی اعلٰی قیادت جب کہ افغان حکومت کی نمائندگی قومی مفاہمی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ کریں گے۔

افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات ایسے وقت میں شروع ہو رہے ہیں جب حال ہی میں افغانستان سے جانے والی امریکی فوج کے کمانڈر جنرل اسکاٹ ملر نے خبردار کیا تھا کہ بڑھتا ہوا تشدد افغانستان میں قیامِ امن کے امکانات کو ختم کر سکتا ہے۔

اس خبر کے لیے معلومات خبر رساں اداروں 'اے ایف پی' اور 'ایسوسی ایٹڈ پریس' سے لی گئی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG