رسائی کے لنکس

logo-print

’داعش‘ کے ہاتھوں افغان قیدیوں کے قتل پر طالبان کی مذمت


طالبان نے کہا ہے کہ قیدیوں سے کبھی اس طرح کا سلوک نہیں کیا جانا چاہیئے مگر خود طالبان پر پکڑے جانے والے افغان فوجیوں کے ساتھ بیہمانہ سلوک کا الزام عائد کیا جا چکا ہے۔

طالبان نے رواں ہفتے منظر عام پر آنے والی اُس ویڈیو کی مذمت کی ہے جس میں بظاہر ’داعش‘ سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کے ہاتھوں افغان عمائدین کو بارودی مواد میں دھماکے کر کے ہلاک کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

وڈیو کی عکس بندی بظاہر افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار میں جون میں کی گئی، لیکن اس آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

طالبان کی ویب سائٹ پر ایک بیان میں کہا گیا کہ ’’ایک خوفناک وڈیو(منگل کو) جاری کی گئی جس میں دکھایا گیا ہے کہ داعش سے وابستہ اغوا کاروں نے متعدد باریش قبائلی عمائدین اور دیہاتیوں کو دھماکہ خیر مواد سے اڑا دیا۔‘‘

طالبان نے کہا ہے کہ قیدیوں سے کبھی اس طرح کا سلوک نہیں کیا جانا چاہیئے مگر خود طالبان پر کئی مرتبہ الزام عائد کیا جا چکا ہے کہ وہ پکڑے جانے والے افغان فوجیوں کے ساتھ بیہمانہ سلوک کرتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ ’’چند غیر ذمہ دار اور جاہل افراد کا اسلام اور مسلمانوں کے نام پر یہ جرم اور اس طرح کے دیگر ظالمانہ جرائم ناقابل برداشت ہیں۔‘‘

حالیہ مہینوں میں داعش نے کئی افغان جنگجوؤں کو اپنی طرف راغب کیا ہے اور افغانستان میں اپنی جگہ بنائی ہے، جس سے طالبان کے اثرورسوخ میں کمی آئی ہے۔

پکڑے جانے والے قیدی بظاہر مقامی افراد تھے جنہوں نے طالبان کے ساتھ جنگ میں حصہ لیا یا ان کی مدد کی۔

دھماکہ دکھانے کے بعد وڈیو عربی میں ایک پیغام کے ساتھ ختم ہو جاتی ہے جس میں مقامی لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ سبق سیکھیں۔

افغانستان کے مشرقی صوبہ ننگر ہار میں موجود ’داعش‘ کے جنگجوؤں اور طالبان کے درمیان لڑائی کی اطلاعات بھی ملتی رہی ہیں۔

’داعش‘ شام اور عراق میں سرگرم ہے جہاں اُس نے اپنے زیر قبضہ علاقے میں نام نہاد خلافت کے قیام کا اعلان کر رکھا ہے۔

لیکن اس شدت پسند گروپ میں حال ہی میں پاکستان اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے کئی جنگجوؤں کی شمولیت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔۔

واضح رہے کہ ’داعش‘ سے تعلق رکھنے والے کئی مشتبہ جنگجو افغانستان میں ڈرون حملوں میں مارے جا چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG