رسائی کے لنکس

logo-print

غزنی میں طالبان کا جیل پر حملہ، لگ بھگ 350 قیدی فرار


افغان حکام کے مطابق طالبان نے یہ حملہ انتہائی منظم طریقے سے کیا، جس میں سب سے پہلے خودکش کار بم دھماکا کیا گیا جس کے بعد جنگجو جیل میں داخل ہو گئے۔

افغانستان کے صوبے غزنی کے مضافات میں ایک جیل پر طالبان کے حملے کے بعد 355 قیدی فرار ہو گئے۔

طالبان کے اس حملے میں سات پولیس اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی بھی ہو گئے جب کہ حکام کے مطابق جھڑپ میں پانچ طالبان حملہ آور بھی مارے گئے۔

حکام کے مطابق طالبان نے یہ حملہ انتہائی منظم طریقے سے کیا، جس میں سب سے پہلے خودکش کار بم دھماکا کیا گیا جس کے بعد جنگجو جیل میں داخل ہو گئے۔

افغان حکام کے مطابق جیل میں 436 قیدی موجود تھے جن میں 355 فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، عہدیداروں کے مطابق فرار ہونے والوں میں سے 148 افغانستان کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ تھے۔

غزنی کے صوبائی نائب گورنر محمد علی احمدی کا کہنا تھا کہ شدت پسندوں کی طرف سے جیل کی جانب جانے والے راستوں میں بارودی سرنگیں بچھائی گئیں تھیں تاکہ مزید دستے تیزی سے وہاں نا پہنچ سکیں۔

افغان حکام کے مطابق حملے کے بعد جیل کی طرف جانے والی ایک فوجی گاڑی سڑک میں نصب بم سے تباہ ہو گئی۔

محمد علی احمدی نے کہا کہ جس جیل پر حملہ کیا گیا، وہ غزنی کے مرکز سے سات کلو میٹر کے فاصلے پر تھی اور وہاں اس لیے بہت زیادہ سکیورٹی نہیں تھی کیوں کہ خیال کیا جاتا تھا کہ کسی بھی مسئلے کی صورت میں مزید کمک فوری طور پر وہاں پہنچ سکتی ہے۔

ایک افغان سکیورٹی عہدیدار کے مطابق راکٹوں اور جدید خودکار ہتھیاروں سے لیس حملہ آوروں نے سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی وردیاں پہن رکھی تھیں۔

افغان طالبان کے ترجمان ذبیع اللہ مجاہد نے کہا کہ 10 خودکش بمباروں کی ایک ٹیم نے اس حملے میں حصہ لیا جن میں سے تین مارے گئے۔

طالبان کے ترجمان نے جیل سے چھڑوائے گئے قیدیوں میں اہم جنگجو کمانڈر بھی شامل تھے۔

پاکستان کے سابق وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں قیدیوں کو چھڑا کر لے جانا یقیناً ایک بہت بڑا واقع ہے اور اُن کے بقول دہشت گردی کے خلاف پاکستان اور افغانستان کو بھرپور کارروائی کی ضرورت ہے۔

حالیہ مہینوں میں افغانستان میں شدت پسندوں کے حملوں میں تیزی آئی ہے، گزشتہ ماہ کابل میں ہونے والے پے در پے حملوں میں 60 سے زائد افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو گئے تھے۔

تازہ حملہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ افغان حکومت اور سکیورٹی فورسز کو اب بھی بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے۔

طالبان کی طرف سے افغانستان میں جیلوں پر حملہ کر کے قیدیوں کو چھڑوانے کا یہ تیسرا بڑا واقعہ ہے۔

2008ء میں قندھار میں ایک ایسے حملے میں نو سو قیدی فرار ہو گئے تھے جب کہ 2011ء میں قندھار ہی میں انتہائی سکیورٹی والی ایک جیل تک طالبان نے سرنگ کھودی، جس کے ذریعے لگ بھگ 500 قیدی وہاں سے بھاگ گئے۔

​دریں اثنا افغانستان میں نیٹو ریزولیوٹ سپورٹ مشن کے سربراہ جنرل جان کیمبل نے پیر کو راولپنڈی میں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے ملاقات کی۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ کے ایک بیان کے مطابق اس ملاقات میں باہمی دلچسپی کے دو طرفہ اُمور کے علاوہ علاقائی سلامتی کی صورت حال پر بھی بات چیت کی۔

بیان میں کہا گیا کہ اس ملاقات میں خاص طور پر افغانستان میں امن و مصالحت سے جڑے معاملات پر بات چیت کے علاوہ پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر نگرانی سے متعلق بہتر تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

XS
SM
MD
LG