رسائی کے لنکس

logo-print

ملا عمر امریکی فوجی اڈے کے نزدیک مقیم رہے، کتاب میں دعویٰ


طالبان کے بانی ملا عمر (فائل فوٹو)

طالبان کے بانی ملا عمر کی زندگی سے متعلق شائع ہونے والی ایک کتاب میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ طالبان کے سربراہ افغانستان میں امریکہ کے فوجی اڈے کے قریب کئی سالوں تک مقیم رہے۔

واشنگٹن کا خیال تھا کہ ملا عمر فرار ہو کر پاکستان چلے گئے تھے تاہم ان کی زندگی سے متعلق شائع ہونے والی نئی کتاب میں بتایا گیا ہے کہ درحقیقت وہ 2013ء میں اپنی موت تک اپنے آبائی صوبے زابل میں امریکہ کے فوجی اڈے کے قریب رہائش پذیر رہے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک ٹویٹ میں تصدیق کی ہے کہ ملا عمر تمام عمر افغانستان میں ہی مقیم رہے اور اُنہوں نے کبھی بھی ایک دن بھی پاکستان یا کسی دوسرے ملک میں نہیں گزارا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ اُن کا انتقال افغانستان میں اس لیے ہوا کہ اُنہوں نے کسی بھی دوسرے ملک میں علاج کرانے سے انکار کر دیا تھا۔

تاہم افغان صدر کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف اور ترجمان ہارون چخان صوری نے ایک ٹوئٹ میں اس بات کی سختی سے تردید کی ہے کہ ملا عمر نے اپنی زندگی کے آخری سال افغانستان میں گزارے تھے۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہ اقدام طالبان اور اُس کے مغربی حامیوں کے درمیان بظاہر ایک نئی شناخت پیدا کرنے کی کوشش ہے۔

ہالینڈ سے تعلق رکھنے والی صحافی بیٹ ڈم نے اپنی کتاب "دشمن کی تلاش" میں انکشاف کیا ہے کہ طالبان سربراہ تنہائی میں زندگی بسر کرتے رہے۔ یہاں تک کہ وہ اپنے گھر والوں سے بھی ملاقات نہیں کرتے تھے۔ بس ایک کتاب پر ایک خیالی زبان میں کچھ تحریر کرتے رہتے تھے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق بیٹ ڈم پانچ سال تک اپنی کتاب کے لیے مواد حاصل کرتی اور اس پر تحقیق کرتی رہیں۔ انہوں نے ملا عمر کے محافظ جبار عمری کا انٹرویو کیا جنھوں نے طالبان کا اقتدار ختم ہونے کے بعد نہ صرف انہیں چھپائے رکھا بلکہ ان کی حفاظت بھی کی۔

کتاب میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملا عمر شام کو بی بی سی پشتو سروس پر نشر ہونے والی خبریں سنتے تھے۔ لیکن جب انہوں نے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کی خبر سنی تو انہوں نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

2001ء میں امریکہ میں نائن الیون کے حملوں کے بعد افغانستان میں طالبان کا اقتدار ختم ہونے کے بعد امریکہ نے ملا عمر کے سر کی قیمت ایک کروڑ ڈالر مقرر کی تھی۔

بیٹ ڈم نے اپنی کتاب میں دعویٰ کیا ہے کہ اس کے بعد ملا عمر زابل کے دارالحکومت قلات میں ایک چھوٹے سے احاطے میں مقیم رہے۔ اسی احاطے میں مقیم ایک خاندان نے اپنے پراسرار مہمان کی شناخت کبھی ظاہر نہیں کی۔ تاہم امریکی فورسز دو مرتبہ ان کی تلاش کے قریب پہنچی تھیں۔

ایک موقع پر امریکہ کی ایک گشتی ٹیم اس وقت احاطے کے قریب پہنچی جب عمر اور عمری وہاں موجود تھے۔ اس وقت یہ دونوں افراد لکڑیوں کے گٹھے کے پیچھے چھپ گئے اور امریکی فوجی احاطے میں داخل ہوئے بغیر وہاں سے گزر گئے۔

دوسرے موقع پر امریکی فوجیوں نے گھر کی تلاشی بھی لی۔ لیکن ان کے بند کمرے کے اندر داخل نہیں ہوئے۔ مگر یہ واضح نہیں کہ تلاش کا یہ عمل ایک معمول کی کارروائی تھا یا یہ کارروائی کسی خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کی گئی تھی۔

ملا عمر نے اس وقت یہ جگہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا جب 2004ء میں امریکہ نے لغمان میں اپنا فارورڈ آپریٹنگ بیس ان کے ٹھکانے سے صرف چند سو میٹر کے فاصلے پر تعمیر کرنا شروع کیا۔

جب پینٹاگون نے ولورین میں اپنا فارورڈ آپریٹنگ بیس تعمیر کر لیا تو ملا عمر ایک دوسری عمارت میں منتقل ہو گئے۔ اس فوجی اڈے پر تقریباً ایک ہزار فوجی مقیم تھے اور بسا اوقات وہاں امریکہ اور برطانیہ کی اسپیشل فورسز بھی موجود رہتی تھیں۔

پکڑے جانے کے خطرے کے باوجود ملا عمر نے دوبارہ یہاں سے کسی اور جگہ منتقل ہونے کا خطرہ مول نہ لیا اور وہ باہر نہیں نکلتے تھے اور بعض اوقات وہ ایسی سرنگوں میں چھپے رہے جن کے اوپر سے امریکی طیارے پرواز کرتے رہے۔

ملا عمر کی قیادت میں طالبان 1996ء سے 2001ء کے دوران افغانستان میں اقتدار میں رہے اور اس کے بعد سے طالبان افغان حکومت کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔ 2001ء کے بعد سے ملا عمر نے طالبان کے انتظامی امور کی ذمہ داری دیگر رہنماؤں کو تفویض کر دی تھی۔ طالبان نے 2013ء میں ان کی وفات کے بعد دو سال تک ان کی موت کی خبر کو راز میں رکھا۔

امریکی ردعمل

امریکہ کے پاکستان میں سابق سفیر ریکس اولسن نے کہا ہے کہ امریکہ چاہتا تھا کہ ملا عمر کا پتا چل سکے لیکن ظاہر ہے کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ کہاں مقیم تھے۔ تاہم یہ ان کے بقول طالبان کی باقی قیادت کے پاکستان میں موجود محفوظ ٹھکانے ایک اہم مسئلہ ہے۔

وائس امریکہ کی اردوُ سروس کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں سابق سفیر کا کہنا تھا کہ "اس دور میں امریکہ چاہتا تھا کہ ملا عمر کے ٹھکانے کا پتا چلایا جائے لیکن ظاہر ہے یہ واضح نہیں تھا کہ وہ کہاں ہیں۔ یہ ایک معمہ تھا جو شاید اب حل ہو گیا ہے۔"

یہ بات انہوں نے ہالینڈ سے تعلق رکھنے والی صحافی بیٹ ڈم کی کتاب "دشمن کی تلاش" میں ملا عمر کی افغانستان میں موجودگی سے متعلق انکشافات پر ردِ عمل دیتے ہوئی کہی۔

مسٹر اولسن نے زور دیا کہ ایک شخص کی موجودگی سے زیادہ اہم مسئلہ طالبان قیادت کے پاکستان میں محفوظ ٹھکانوں کا ہے۔

انہوں نے کہا "میرے خیال میں امریکہ اور پاکستان کے درمیان تشویش کا پہلو طالبان کی دیگر قیادت ہے۔ اور یہ کہ کوئٹہ شوریٰ اور پشاور شوریٰ کے کسی حد تک پاکستان کے اندر محفوظ ٹھکانے تھے۔ خاص طور پر سردی کے موسم میں جب ان کی جنگی کارروائیوں میں کمی آتی تھی تو وہ پاکستان چلے جاتے تھے۔ یہ پاکستان کی جانب سے طالبان کی مدد سے متعلق ایک دیرینہ مسئلہ رہا ہے۔"

اس سوال پر کہ ماضی کی طرح ایک مرتبہ پھر پاکستانی حکومت یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ وہ تمام انتہاپسند گروہوں کے خلاف کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے۔ تو افغانستان میں امن کے لیے کیا پاکستان کے ان تازہ دعووں سے امریکہ اور پاکستان کے درمیان اعتبار کی فضا قائم ہونا کا اب کوئی امکان ہے؟ ان کا کہنا تھا "یہاں ہمارے پاس آ کر خود سفارت کار خلیل زاد یہ کہہ چکے ہیں کہ طالبان کی قیادت کو مذاکرات کی میز پر لانے میں پاکستان مدد گار ثابت ہو رہا ہے۔"

انہوں مزید کہا، "میرے خیال ہے کہ ابھی ہمارے پاس جواز ہے کہ ہم امید رکھیں کہ پاکستان ثالثی کا کردار جاری رکھے گا۔ کیونکہ میرے خیال میں امریکہ اور پاکستان افغانستان میں امن کے معاملے پر متفق ہیں۔"

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG