رسائی کے لنکس

logo-print

طالبان کا ملا یعقوب کو مذاکراتی ٹیم کا سربراہ بنانے کا اعلان


فروری میں سمجھوتے پر دستخط کے لیے افغان طالبان وفد کے ارکان کی دوحہ آمد (فائل)

طالبان نے اپنی مذاکراتی ٹیم میں متعدد با اثر شخصیات کو شامل کیا ہے، جب کہ اس کا سربراہ تحریک کے سخت گیر بانی کے بیٹے کو تجویز کیا ہے، جو ان کے عسکری دھڑے کے انچارج رہے ہیں۔

کئی سالوں بعد کی جانے والی یہ تبدیلی ایک ایسے وقت کی گئی ہے جب افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات متوقع ہیں، جس کا مقصد عشروں سے جاری افغان لڑائی کو ختم کرانا ہے۔

نئے تشکیل دیے گئے متحدہ عسکری دھڑے کے سربراہ کی حیثیت سے، 30 برس کے ملا محمد یعقوب اپنے والد کا سخت گیر شہرہ رکھتے ہیں، جو میدان جنگ میں غیر مصالحانہ انداز رکھتے تھے۔

طالبان اہلکاروں نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ سرکش گروپ کی قیادت کی کونسل کی جانب سے تشکیل کردہ 20 رکنی مذاکراتی ٹیم میں چار ارکان کا اضافہ کیا گیا ہے، جو اقدام خاص اہمیت کا حامل ہے۔

اس تبدیلی کی نگرانی طالبان لیڈر ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کرتے ہیں، جس کا مقصد تحریک کے عسکری اور سیاسی دھڑوں پر ان کا کنٹرول مضبوط کرنا ہے۔ یہ بات اہل کاروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتائی، چونکہ انھیں اختیار حاصل نہیں کہ وہ طالبان کی اندرونی کہانی عام کر سکیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان کی سیاسی قیادت کے ساتھ مذاکرات کرنے کے لیے کی گئی تبدیلیاں ایک خوش آئند خبر ہے، چونکہ اس سے اس بات کا بھی بخوبی اظہار ہوتا ہے کہ طالبان اس دوسرے مرحلے کو کس قدر سنجیدگی کے ساتھ لیتے ہیں، جو شاید اہم ترین مرحلہ ہے، جس معاہدے پر فروری میں باغیوں نے امریکہ کے ساتھ معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

اینڈریو وائلڈر واشنگٹن میں قائم یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس میں ایشیا پروگرام کے نائب صدر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ''میں یہی کہوں گا کہ یہ ایک مثبت پیش رفت ہے چونکہ طالبان ایک وفد تشکیل دے رہے ہیں جو زیادہ تجربہ کار اور زیادہ وسیع بنیاد لگتا ہے، جب کہ اب تک ایسا نہیں تھا؛ یا پھر یہ بات مذاکرات کی ابتدا کے لیے لازمی ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''اگر آپ گلاس نصف بھرا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں تو طالبان کے مضبوط وفد کے لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ گروپ مذاکرات کے لیے سنجیدہ ہے''۔

امریکہ نے 29 فروری کو طالبان کے ساتھ معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

چار عشروں کی لڑائی کے بعد اس پیش رفت کو افغانستان میں امن لانے کی کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے بہترین قرار دیا جا رہا ہے۔ اسے افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے نظام الاوقات کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے، جس سے امریکہ کی طویل ترین لڑائی کا خاتمہ ہو سکے۔

پیر کے روز، معاہدے پر دستخط کے ساڑھے چار ماہ بعد، امریکہ کے سربراہ مذاکرات کار اور امن کے ایلچی، زلمے خلیل زاد نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ ''امریکہ طالبان سمجھوتے پر عمل درآمد کا ایک کلیدی سنگ میل طے ہوگیا ہے''، ایسے میں جب کہ امریکی فوج کی نفری 12000 سے کم ہو کر 8600 رہ گئی ہے، جو افغانستان کے پانچ اڈوں پر موجود ہے۔

حالانکہ خلیل زاد نے طالبان کی جانب سے افغان سیکیورٹی فورسز پر سرکش حملوں پر برہمی کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ طالبان نے امریکی اور نیٹو افواج پر حملہ نہ کرنے کے عہد کی پابندی کی ہے۔

اپنی ٹوئٹ میں انھوں نے کہا کہ ''افغانستان میں طالبان کی پر تشدد کارروائیوں میں کسی امریکی فوجی کی جان نہیں گئی۔ علاقائی تعلقات میں بہتری آئی ہے''۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG