رسائی کے لنکس

افغانستان: غزنی سےطالبان کی حکومت مخالف ریڈیو نشریات


غزنی (فائل)

افغان طالبان نے دو روز قبل افغانستان کے شہر غزنی میں حکومت مخالف ایف ایم ریڈیو نشریات کا آغاز کیا ہے، ایسے میں جب شہریوں میں تشویش پائی جاتی ہے کہ اگر شدت پسند گروپ کی نشریات جاری رہیں تو اس سے مقامی آبادی میں دہشت گردی کا خوف و ہراس بڑھے گا۔

نشریات کی مندرجات میں طالبان باغیوں کی ثناخوانی پر مبنی گانے اور خودکش حملوں کے لیے تعریفی کلمات کا استعمال شامل ہے۔

طالبان ریڈیو براڈکاسٹنگ اسٹیشن کا نام ’وائس آف شریعت‘ ہے۔ یہ اسٹیشن 2001ء کے اواخر میں طالبان کی حکومت ختم ہونے کے بعد بند ہوگیا تھا، جسے دوبارہ غزنی کے اندرونِ شہر پھر سے شروع کیا گیا ہے۔

غزنی کی صوبائی کونسل کے رُکن، عبدالجامی جامی نے بتایا ہے کہ ’’چند ہی روز قبل اس اسٹیشن نے پھر سے نشریات شروع کردی ہیں، اور ہو سکتا ہے کہ یہ اندرون شہر کے کسی قریبی مقام سے ہو رہی ہوں۔ اس میں بہت سخت باتیں کی جاتی ہیں‘‘۔

غزنی شہر کے مکینوں کا کہنا ہے کہ غزنی میں طالبان ریڈیو کی نشریات لوگوں کو اُن کے مستقبل کے بارے میں مایوس کر دیں گی، ایسے میں جب صوبے میں شدت پسند حملوں میں اضافہ آتا جا رہا ہے۔

غزنی کے گورنر کے ترجمان عارف نور نے طالبان کے ریڈیو کی نشریات کی تصدیق نہیں کی۔ اُنھوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ عبوری نوعیت کا حربہ ہو یا یہ نشریات کسی موبائل اسٹیشن سے کی جارہی ہوں۔

عارف نوری نے بتایا کہ ’’ہمارے غیر مصدقہ ذرائع کے مطابق، یہ ریڈیو افغانستان اور پاکستان کے سرحدی خطے میں واقع ہے جو علاقہ جنوبی وزیر ستان سے ملتا ہے؛ جب کہ کبھی کبھار عارضی طور پر اس کی نشریات پکتیکا کے علاقے میں بھی سنائی دیتی ہیں۔ لیکن، ہمیں ابھی تک طالبان ریڈیو اسٹیشن کی فریکوئینسی کا پتا نہیں لگ پایا‘‘۔

تاہم، غزنی کے اندرون شہر کے مکینوں کا کہنا ہے کہ گذشتہ دو روز سے وہ ایف ایم ریڈیو نشریات صاف سن رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG