رسائی کے لنکس

logo-print

دوحہ بات چیت محتاط انداز میں آگے بڑھ رہی ہے: طالبان


فائل فوٹو

افغان طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں جاری بات چیت‘‘ محتاط انداز میں آگے بڑھ رہی ہے ۔’’

طالبان ترجمان ذبیع اللہ مجاہد نے اتوار دیر گئے ایک بیان میں کہا کہ دوحہ میں طالبان اور امریکی وفد کے درمیان جاری بات چیت کے دوران زیر غور معاملات ’’ا نتہائی نازک اور حساس ہیں جس پر بہت ہی احتیاط کے ساتھ پیش رفت ہورہی ہے۔‘‘

طالبان ترجمان نے مزید کہا کہ رواں سال جنوری میں امریکہ اور طالبان کے درمیان قطر میں ہونے والی بات چیت کے دوران غیر ملکی فورسز کے انخلا اور مستقبل میں افغان سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے کی یقینی دہانی کروانے سے متعلق اتفاق رائے ہو گیا ہے اور طالبان ترجمان کے بقول بات چیت کے حالیہ دور کا محور ان دو معاملات کی تفصیلات طے کرنے سے متعلق ہے۔

تاہم طالبان ترجمان نے وضاحت کی کہ دوحہ میں ابھی تک ہونے والی بات چیت کے دوران کسی مجوزہ سمجھوتے یا کسی دستاویز کے بارے میں کوئی اتفاق رائے نہیں ہوا ہے۔ ذبیع اللہ نے ان اطلاعات کو قیاس آرائی قرار دیا کہ دوحہ مذاکرات کے دوران بعض دیگر امور پر بھی بات چیت ہورہی ہے۔ تاہم طالبان ترجمان نے ان امور کی کوئی وضاحت نہیں کی ہے۔

دوسری طرف امریکہ کے طرف سے دوحہ بات چیت سے متعلق تاحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ امریکہ طالبان پر افغان تنازع کے حل کے لیے عارضی جنگ بندی اور طالبان پر کابل حکومت سے براہ راست بات چیت کرنے پر زور دے رہا ہے۔ تاہم طالبان ان مطالبات کو مسترد کرتے ہیں۔

دوسری طرف امن کے مشاورتی لویہ جرگے کا اجلاس ملتوی کر دیا گیا ہے۔ افغانستان میں ہائی پیس کونسل کا کہنا ہے کہ وہ سردی اور دیگر وجوہات کی بنا پر 17 مارچ کو منعقد ہونے والے لویہ جرگے کو ملتوی کرنے کا جائزہ لے رہی ہے۔ تاہم بعض مبصرین کا خیال ہے کہ اس لویہ جرگہ کا اجلاس منعقد کرنے سے پہلے افغان حکومت امریکہ اور طالبان کے درمیان جاری بات چیت کے نتائج کی منتظر ہے۔

تجزیہ کار وں کا کہنا ہے کہ اگرچہ بات چیت سست روی سے جاری ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ افغان تنازع کے حل کے لیے امریکہ اور طالبان کے درمیان جاری بات چیت میں تعطل پید ا نہیں ہوا ہے۔

سلامتی کے امور کے تجزیہ کار سعد محمد نے جمعہ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ طالبان پر افغان تناز ع کے حل کے لیے جنگ بندی اور افغان طالبان کی کابل حکومت سے براہ راست بات چیت پر زور دے رہا ہے۔

دوسری طرف افغان اعلیٰ امن کونسل افغان عمائدین کا رواں ماہ کے وسط میں ہونے والے امن کے مشاورتی لوئی جرگہ کا اجلاس سرد موسم اور بعض دیگر وجوہات کی بنا پر ممکنہ التوا کے معاملے پر غور کر رہی ہے۔ افغان اعلیٰ امن کونسل کے ترجمان احسان طاہری کا کہنا ہے کہ کونسل اس بارے میں جلد فیصلہ کرے گی۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اس لو یہ جرگہ کا اجلاس منعقد کرنے سے پہلے افغان حکومت امریکہ اور طالبان کے درمیان جاری بات چیت کے نتائج کی منتظر ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG