رسائی کے لنکس

logo-print

افغان طالبان کے مذاکرات کا ایجنڈا، امریکی افواج کا انخلا


طالبان ترجمان سہیل شاہین (فائل فوٹو)

افغان طالبان کے اعلٰی عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے آئندہ دور میں غیر ملکی افواج کے انخلا کے لئے درکار وقت پر بات ہو گی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے ساتھ ایک انٹرویو میں طالبان کے سیاسی امور کے ترجمان سہیل شاہین نے دعویٰ کیا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں غیر ملکی افواج کے مکمل انخلا پر اتفاق ہوا تھا۔ تاہم اب اس کا طریقہ کار طے کرنا باقی ہے۔

سہیل شاہین نے ہفتے کو دوحہ میں دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ طالبان نے مذاکرات کے دوران افغانستان کی سرزمین کو دوسرے ملکوں کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے کی یقین دہانی کروائی تھی۔

طالبان ترجمان سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ ابھی بھی بہت سے معاملات حل طلب ہیں جن پر آئندہ مذاکرات میں گفتگو ہو گی۔

امریکہ اور طالبان کے درمیان بات چیت کا آئندہ دور اگلے چند ہفتوں کے دوران دوحہ میں ہونے کی توقع ہے تاہم باضابطہ طور پر اس کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

امریکہ کے خصوصی نمائندے برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد گزشتہ چھ ماہ سے زائد عرصے کے دوران طالبان کے ساتھ متعدد ملاقاتیں کر چکے ہیں۔

زلمے خلیل زاد نے امریکہ اور طالبان کے درمیان دوحہ میں بات چیت کے بعد کہا تھا کہ متعدد معاملات پر مثبت پیش رفت ہوئی ہے تاہم غیر ملکی افواج کے انخلا کے لیے کسی ٹائم فریم پر اتفاق نہیں ہوا۔

گزشتہ ماہ دوحہ کے مذاکراتی دور کے بعد خلیل زاد نے کہا تھا کہ امریکہ اور طالبان نے افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا اور افغان سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے مسودے پر اتفاق کیا تھا۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ مکمل جنگ بندی اور افغان گروپوں کے درمیان مذاکرات پر تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

مائیک پومپیو کا افغان صدر کو ٹیلی فون، امن عمل پر تبادلہ خیال

امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے افغانستان کے صدر اشرف غنی سے ٹیلی فون پر گفتگو کی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ نے صدر اشرف غنی سے افغان امن عمل سمیت دیگر معاملات پر بات چیت کی ہے۔

ہفتے کو ہونے والی اس بات چیت میں امریکی وزیر خارجہ نے طالبان کی طرف سے موسم بہار میں امریکہ، نیٹو اور افغان افواج پر نئے حملوں کے اعلان کی مذمت کی۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی افغان طالبان کے بیان کی مذمت کی تھی کہ ان حملوں کی وجہ سے افغان عوام کی مشکلات بڑھیں گی اور یہ حملے افغانستان کو عدم استحکام سے دوچار کریں گے۔

امریکہ کے محکمہ خارجہ کے بیان کے مطابق پومپیو نے صدر غنی سے گفتگو کے دوران افغانستان کے عوام کی بہتری کے لیے کسی قابل عمل سمجھوتے تک پہنچنے کے امکانات کا جائزہ لیا۔

امریکہ محکمہ خارجہ کے مطابق امریکی وزیر خارجہ نے افغان فریقین کے درمیان دوحہ بات چیت ملتوی ہونے پر مایوسی کا اظہار بھی کیا ہے۔

بیان کے مطابق وزیر خارجہ اور صدر غنی نے اتفاق کیا کہ دوحہ کانفرنس امن عمل کو آگے بڑھانے کا ایک اہم موقع ہے۔

وزیر خارجہ نے تمام فریقین کو مشورہ دیا کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر کانفرنس کے شرکاء کے بارے میں اتفاق رائے پیدا کریں، تاکہ دوحہ میں افغانستان کے تمام نمائندہ افراد پر مشتمل مذاکراتی عمل دوبارہ شروع کیا جا سکے۔

افغان فریقین کے درمیان دو روزہ مذاکرات ہفتے کو دوحہ میں شروع ہونے تھے لیکن افغان حکومت کی طرف سے مذاکرات میں شریک ہونے والے افغان معاشرے کے مختلف طبقات پر مشتمل 250 افراد کی فہرست پر طالبان کے اعتراض کے بعد یہ کانفرنس ملتوی ہو گئی تھی۔

وفد کے شرکا کی فہرست ذرائع ابلاغ پر جاری ہونے کے بعد طالبان نے کہا تھا کہ مذاکرات کے میزبانوں کا اتنے بڑے وفد کو قبول کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

گزشتہ چھ ماہ کے دوران متحدہ عرب امارات اور دوحہ میں طالبان کے ساتھ متعدد بار بات چیت کرنے والے امریکہ وفد کے سربراہ امریکہ کے نمائندۂ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد نے کانفرنس کے التوا پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔

کانفرنس کے ملتوی ہونے کے بعد اب بھی پس پردہ کانفرنس کے انعقاد کے لیے کوششیں جاری ہیں تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ آیا یہ کوششیں کامیاب ہوں گی یا نہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG