رسائی کے لنکس

طالبان کا بھی افغان حکومت کے 20 قیدی رہا کرنے کا اعلان


افغان حکومت پہلے ہی 300 طالبان قیدی رہا کر چکی ہے۔ (فائل فوٹو)

طالبان نے بھی افغانستان کی حکومت کے زیرحراست 20 اہلکار رہا کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

افغان طالبان کے قطر میں واقع دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے ایک ٹوئٹ میں اعلان کیا کہ امارات اسلامی افغانستان کابل انتظامیہ کے 20 قیدی رہا کر رہی ہے۔

سہیل شاہین کا مزید کہنا تھا کہ رہا کیے جانے والے قیدی قندھار میں انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس (آئی سی آر سی) کے حوالے کیے جائیں گے۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق گزشتہ پانچ دن میں افغان حکومت کی جانب سے 300 سے زائد قیدی رہا کیے جا چکے ہیں۔

قیدیوں کی رہائی کا معاملہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے گزشتہ ہفتے ہی قیدیوں کی رہائی میں تاخیر پر طالبان نے افغان حکومت سے قیدیوں کے تبادلے پر مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

طالبان نے کہا تھا کہ افغان حکومت قیدیوں کی رہائی میں حیلے بہانے کر رہی ہے جب کہ قیدیوں کی رہائی میں تاخیر کی ذمہ دار صدر اشرف غنی کی انتظامیہ ہے۔

اس سے قبل طالبان کی ایک ٹیم کابل میں افغان حکام سے کئی روز سے مذاکرات کر رہی تھی۔

طالبان اور افغان حکومت کی درمیان قیدیوں کی رہائی کے لیے کابل میں ہونے مذاکرات کے ناکام ہونے کے ایک دن کے بعد افغان حکومت نے 100 طالبان قیدیوں کو رہا کر دیے تھے۔

افغانستان کی قومی سلامتی کونسل کی طرف ہونے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ان قیدیوں کی رہائی ان کی صحت، عمر اور ان کی باقی ماندہ قید کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے۔

طالبان قیدیوں کو نہ لڑنے کے وعدے پر رہائی ملے گی
please wait

No media source currently available

0:00 0:05:20 0:00

افغان حکومت نے کہا تھا کہ ان قیدیوں کی رہائی امن کوششوں اور کرونا وائرس کے پھیلاو کو روکنے کی کوشش کو مد نظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے۔

دو دن قبل افغانستان میں متعین امریکی کمانڈر جنرل اسکات ملر اور طالبان رہنماؤں کی قطر کے دارالحکومت میں ملاقات ہوئی تھی۔

طالبان ترجمان نے ایک ٹوئٹ میں بتایا تھا کہ جمعہ کی رات میں طالبان لیڈروں اور امریکی جنرل کے درمیان ملاقات ہوئی ہے جس میں افغانستان میں تشدد کو کم کرنے کے بارے میں بات چیت ہوئی۔

ترجمان نے کہا تھا کہ دونوں وفود نے امریکہ طالبان امن معاہدے پر عمل درآمد کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔

یاد رہے کہ امریکہ اور طالبان نے رواں سال فروری کے اواخر میں قطر کے دارالحکومت دوحہ میں معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت بین الافغان مذاکرات شروع ہونے سے پہلے افغان حکومت نے 5 ہزار طالبان قیدیوں کو رہا کرنا تھا، جب کہ اس کے بدلے طالبان نے افغان حکومت کے ایک ہزار قیدیوں کو رہا کرنا تھا۔

فریقین کے درمیان اختلافات کی وجہ سے یہ معاملہ تعطل کا شکار ہوا۔ طالبان یہ کہہ چکے ہیں کہ جب تک تمام طالبان قیدی رہا نہیں ہو جاتے اس وقت تک بین الافغان مذاکرات شروع نہیں ہو سکتے۔

طالبان نے حال ہی میں ایک بیان میں امریکہ پر زور دیا کہ وہ کابل حکومت پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے، تاکہ طالبان قیدیوں کی جلد رہائی ممکن ہوسکے۔ طالبان کا کہنا ہے کہ اگر طالبان قیدیوں کی رہائی جلد عمل میں آتی ہے تو اس کے نتیجے میں بین الافغان مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG