رسائی کے لنکس

logo-print

طالبان نے افغانستان کے کئی اہم اضلاع پر قبضہ کر لیا


فائل فوٹو

طالبان جنگجوؤں نے افغانستان کے شمالی صوبے قندوز کے اہم ضلع پر قبضہ کرتے ہوئے صوبائی دارالحکومت کو گھیرے میں لے لیا ہے۔

افغان سیکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان قندوز کے ضلع امام صاحب میں اتوار کی شب لڑائی کا آغاز ہوا جو پیر تک جاری رہی۔

صوبائی پولیس ترجمان امام الدین رحمانی کے مطابق، طالبان نے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اور پولیس ہیڈکوارٹر پر قبضہ کرلیا ہے اور وہ صوبائی دارالحکومت سے صرف آدھا کلو میٹر دوری پر ہیں۔ تاہم، وہ شہر میں داخل نہیں ہوئے۔

یہ اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں کہ بعض طالبان جنگجو قندوز کے نواح میں موجود ہیں جس کی وجہ سے مقامی شہری کابل کی جانب سفر کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ یکم مئی کو امریکہ اور نیٹو افواج کے انخلا کے عمل کے آغاز سے ہی طالبان کی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک درجنوں اضلاع ان کے قبضے میں جا چکے ہیں۔

طالبان کی جانب سے حالیہ کارروائیاں ایسے موقع پر کی جا رہی ہیں جب افغان حکومت اور طالبان کے درمیان قطر میں ہونے والے مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔

طالبان نے پیر کو قندوز صوبے کے جس ضلعے پر قبضہ کیا ہے وہ پڑوسی ملک تاجکستان کی سرحد سے متصل ہے جو وسطی ایشیا سے رسد کی سپلائی کا اہم راستہ ہے۔

قندوز پولیس ترجمان نے مزید بتایا کہ افغان نیشنل آرمی اور پولیس نے امام صاحب ضلعے کے دفاع کے لیے مشترکہ کوششیں کیں۔ تاہم، اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ طالبان سے لڑائی میں دونوں جانب کتنی ہلاکتیں واقع ہوئیں۔

دوسری جانب طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے تصدیق کی ہے کہ امام صاحب پر انہوں نے قبضہ کر لیا ہے۔

قندوز پولیس ترجمان کے بقول طالبان نے حالیہ جھڑپوں کے دوران دیگر کئی اضلاع سمیت قندوز صوبے کے ضلع دشتِ آرچی پر بھی قبضہ کیا ہے، یہ ضلع امام صاحب سے متصل ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق حالیہ چند روز کے دوران طالبان نے تین شمالی صوبوں قندوز، بغلان اور بلخ کے متعدد اضلاع پر قبضہ کیا ہے۔

طالبان کی جانب سے اپنی ویب سائٹ اور واٹس ایپ گروپوں میں کئی ایسی ویڈیوز جاری کی گئی ہیں جن میں وہ سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے ہتھیار ڈالنے کے دعوے کر رہے ہیں۔

ہتھیار ڈالنے والے اہلکاروں سے واپس اپنے گھروں میں جانے کا کہا جا رہا ہے جہاں انہیں طالبان کی جانب سے نقد رقم بھی دی جا رہی ہے۔

دوسری جانب طالبان کے سربراہ مولوی ہیبت اللہ اخونزادہ نے اتوار کو جاری اپنے ایک بیان میں جنگجوؤں کو حکم دیا ہے کہ وہ ہتھیار ڈالنے والے اہلکاروں کے ساتھ بہتر طریقے سے پیش آئیں اور اچھا برتاؤ کریں۔

افغان صدر اشرف غنی نے ہفتے کو طالبان سے جھڑپوں میں سیکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت اور اعلیٰ سطح پر رابطوں میں تعاون میں کمی پر ہونے والی تنقید کے بعد فوج کے سربراہ، وزیرِ دفاع اور وزیرِ داخلہ کو تبدیل کر دیا تھا۔

صدر غنی کے اقدامات کے باوجود طالبان کی جانب سے علاقوں پر قبضوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کے خلاف کارروائیوں میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔

پینٹاگون کے پریس سیکرٹری جان کربی نے پیر کو کہا تھا کہ وزیرِ دفاع لائیڈ آسٹن روزانہ کی بنیاد پر امریکی فوج کے انخلا کے معاملات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ان کے بقول، انخلا کا عمل اپنی رفتار سے جاری ہے اور اسے ستمبر کے شروع میں مکمل کر لیا جائے گا۔

بین الافغان امن مذاکرات کا عمل تعطل کا شکار

افغان حکومت اور طالبان کے درمیان قطر میں شروع ہونے والا بین الافغان امن مذاکرات کا عمل تعطل کا شکار ہے۔ البتہ، طالبان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ بات چیت کے لیے تیار ہیں۔

رواں ہفتے کے اختتام پر امریکہ کے صدر جو بائیڈن افغان صدر اشرف غنی اور افغان مفاہمتی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ سے ملاقات کریں گے۔

جمعے کو ہونے والی ملاقات میں وائٹ ہاؤس کے بقول امریکہ کی جانب سے افغان عوام کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا جائے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG