رسائی کے لنکس

logo-print

طالبان کا سرنگ کھود کر افغان فوجی مرکز میں دھماکہ، چھ فوجی ہلاک


اس نقشے میں افغان صوبے قندھار کے علاقے میوند کو دکھایا گیا ہے۔

طالبان عسکریت پسندوں نے افغانستان کے جنوبی صوبے قندھار میں ایک اہم فوجی چھاونی کو دھماکے سے اڑا دیا جس سے کم ازکم 5 فوجی ہلاک اور 6 زخمی ہو گئے۔

یہ دھماکہ منگل کی رات شورش زدہ علاقے میوند میں ہوا جہاں باغی طالبان نے افغان نیشنل آرمی کے مرکز تک دو کلومیٹر لمبی سرنگ کھود کر دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا۔

ایک سیکیورٹی عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وائس آف امریکہ کو حملے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔

طالبان کے ترجمان قاری یوسف احمدی نے دعویٰ کیا کہ ایک خاص تکنیک سے کیے جانے والے دھماکے میں کم ازکم 40 سیکیورٹی اہل کار ہلاک ہو گئے۔ طالبان اپنے دعووں میں اکثر اوقات مبالغہ آمیزی کرتے ہیں۔

ایک اور واقعہ میں بدھ کے روز ایک افغان فوجی نے مغربی صوبے ہرات میں اپنے افغان ساتھیوں اور اٹلی کے فوجیوں پر بندوق تان لی۔ جنرل نوراللہ قادری نے اس اندرونی حملے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی فوجی اپنی جان بچانے کے لیے بھاگ گئے اور انہیں کوئی گزند نہیں پہنچا، جب کہ ایک افغان فوجی زخمی ہو گیا۔ حملہ آور کو فوری طور پر گولی مار دی گئی۔

کسی نے ابھی تک حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ نہیں کیا۔ عموماً طالبان اس طرح کے حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے رہے ہیں۔

اٹلی کے فوجی افغانستان میں نیٹو کا حصہ ہیں اور وہاں غیر فوجی مشن پر تعینات ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG