رسائی کے لنکس

افغانستان کی اعلٰی امن کونسل نے چین کی طرف سے طالبان کے ایک وفد کو بات چیت کی دعوت دینے کے فیصلے کو خوش آئندہ قرار دیا ہے۔وائس آف امریکہ کی افغان سروس کے مطابق طالبان نے بھی ان اطلاعات کی تصدیق کہ ہے کہ اُن کے ایک وفد نے چین کا دورہ کیا۔تاہم اس بارے میں مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

گزشتہ سال کے وسط میں بھی یہ اطلاعات سامنے آئیں کے طالبان کے ایک وفد نے چین کا دورہ کیا ہے۔ افغانستان میں امن و مصالحت کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے دسمبر 2015 میں جو چار ملکی گروپ تشکیل دیا گیا تھا اُس میں افغانستان اور پاکستان کے علاوہ چین اور امریکہ بھی شامل ہیں۔ پاکستان کی طرف سے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ چار ملکی گروپ فعال ہے اور اس میں شامل ممالک افغان امن و مصالحت کے لیے اپنے اپنے طور پر کوششیں کر رہے ہیں۔

چار ملکی گروپ کی تشکیل سے قبل جولائی 2015 کے اوائل میں افغان طالبان اور کابل حکومت کے درمیان براہ راست مذاکرات کے ایک دور کی میزبانی پاکستان نے کی تھی، یہ بات چیت اسلام آباد کے قریب سیاحتی مقام مری میں ہوئی۔

جولائی 2015 ہی میں بات چیت کے دوسرے دور پر اتفاق ہوا تھا لیکن اس بات چیت سے قبل طالبان کے بانی امیر ملا عمر کی موت کی خبر سامنے آنے کے بعد یہ سلسلہ آگے نا بڑھ سکا۔ ملا عمر کے بعد ملا منصور کو طالبان کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا، اس دوران بھی مذاکراتی عمل کی بحالی کے لیے کوششیں تو جاری رہیں تاہم افغان امن و مصالحت کا عمل آگے نہیں بڑھ سکا۔

تاہم مئی 2016ء میں بلوچستان میں افغان طالبان کے سربراہ ملا منصور ایک امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے، جس کے بعد ایک مرتبہ پھر امن بات چیت کے امکانات کو دھچکا لگا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG