رسائی کے لنکس

بھارت کے زیر ِ انتظام کشمیر میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کیوں بڑھ رہے ہیں؟


فائل فوٹو
فائل فوٹو

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں حالیہ دنوں میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ گزشتہ چند روز کے دوران اس طرح کے واقعات میں ایک معروف فارماسسٹ سمیت پانچ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ٹارگٹ کلنگ کے تازہ واقعے میں نامعلوم مسلح افراد نے جمعرات کی صبح سری نگر کے سنگھم عید گاہ علاقے میں واقع ایک سرکاری اسکول کی پرنسپل ستیندر کور اور ایک استاد دیپک چند کو نزدیک سے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے پولیس سربراہ دلباغ سنگھ نے جائے وقوع کے دورے کے دوراں صحافیوں کو بتایا کہ نہتے اور معصوم (غیر مسلم) شہریوں کو ہلاک کرنے کا مقصد کشمیر کی اکثریتی مسلم آبادی کو بدنام کرنا اور اس کے اور اقلیتوں کے درمیان خلیج پیدا کرنا ہے۔

بھارت کے اقلیتی امور کے وزیر مختار عباس نقوی نے جو ان دنوں وادیٔ کشمیر کے دورے پر ہیں کہا ہے کہ اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنا حکومتِ ہند کی "قومی ذمہ داری" ہے اور جن لوگوں نے سری نگر میں اقلیتی فرقوں سے وابستہ افراد کو ہلاک کیا ہے انہیں ڈھونڈ نکالا جائے گا.

اس سے قبل منگل کی شب مسلح افراد نے دارالحکومت سری نگر کے ایک مصروف علاقے اقبال پارک میں واقع ادویات کی ایک دکان میں داخل ہوکر وہاں موجود اس کے مالک مکھن لال بِندرو کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔ اڑسٹھ سالہ دوا فروش ایک کشمیری پنڈت اور برہمن ہندو تھے۔

خیال رہے کہ 1990 میں بھارتی کشمیر میں مسلح جدوجہد شروع ہونے کے بعد ہزاروں کشمیر پنڈت وادی چھوڑ کر جموں اور بھارت کے مختلف علاقوں میں آباد ہو گئے تھے۔ البتہ کچھ پنڈت گھرانوں نے وادی میں ہی رہنے کو ترجیح دی تھی۔

مذکورہ واقعے کے کچھ ہی دیر بعد مسلح افراد نے سری نگر کے ہی لال بازار میں ریاست بہار سے تعلق رکھنے والے ایک خوانچہ فروش وریندر پاسوان کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

ایک اور واقعے میں جو سری نگر سے 14 کلو میٹر شمال میں واقع حاجن علاقے میں پیش آیا ایک مقامی کیب ڈرائیور محمد شفیع کو قتل کیا گیا۔ اس سے پہلے دو اکتوبر کو سری نگر کے دو شہری عبد المجید گورو اور محمد شفیع ڈار ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہوئے تھے۔

لوگوں میں خوف و ہراس پھیلایا جارہا ہے: پولیس

پولیس عہدیداروں نے ان واقعات کے لیے علیحدگی پسند عسکریت پسندوں کو ذمے دار ٹھیراتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کی کارروائیوں کا مقصد لوگوں میں خوف و ہراس پیدا کرنا اور وادیٔ کشمیر میں امن کی بحالی کے لیے کی جا رہی کامیاب کوششوں میں رخنہ ڈالنا ہے۔

ایک اعلیٰ پولیس عہدیدار وجے کمار نے کہا کہ عسکری تنظیمیں اُن کے بقول دہشت گردی کے خلاف سیکیورٹی فورسز کے مؤثر اور نتیجہ خیز آپریشنز کی وجہ سے بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئی ہیں اور اس کا اظہار نہتے اور بے قصور شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنا کر کیا جا رہا ہے۔

اگرچہ ٹارگٹ کلنگ کے تازہ واقعات کی بھارتی کشمیر میں سرگرم کسی بھی عسکری تنظیم نے ذمے داری قبول نہیں کی۔ تاہم ماضی میں'دی ریزسٹنس فرنٹ' یا ٹی آر ایف نامی تنظیم کا دعویٰ رہا ہے کہ یہ افراد دشمن کے ساتھ خفیہ تعاون کرتے تھے جس کی اُنہیں سزا دی گئی۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ ٹی آر ایف مسلم جانباز فورس جیسی تنظیمیں جو ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہیں اصل میں کالعدم عسکری تنظیم لشکرِ طیبہ کے "شیڈو گروپ" ہیں۔ لشکرِ طیبہ اور ٹی آر ایف نے اس الزام کی بارہا تردید کی ہے۔

ہلاکتوں کی بڑے پیمانے پر مذمت

ان ٹارگٹ کلنگز کی مختلف سیاسی جماعتوں اور قائدین نے جن میں استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والی کشمیری جماعتوں کا وہ دھڑا بھی شامل ہے جس کی قیادت سرکردہ مذہبی اور سیاسی رہنما میر واعظ عمر فاروق کر رہے ہیں شدید مذمت کی ہے۔

سوشل میڈیا پر ان ہلاکتوں کی مذمت کی جا رہی ہے۔ تاہم ان میں سے بعض کا استفسار تھا کہ نہتے شہریوں بالخصوص بِندرو کو ہلاک کرنے کا فائدہ کس کو ہو سکتا ہے کیونکہ اس طرح کی کارروائیوں سے کشمیریوں کی تحریکِ مزاحمت بدنام ہوتی ہے۔

سابق وزیرِ اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے بُدھ کو سری نگر کے ہائی سیکیورٹی اندرا نگر میں بِندرو کے گھر جاکر سوگوار خاندان سے تعزیت کی۔

اس موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بِندرو ایک سیدھا سادھا ایماندار شخص تھا جس نے اپنی پوری زندگی وادیٔ کشمیر کے لوگوں کی خدمت کی۔

حریت کانفرنس ( میر واعظ) نے بِندرو کی ہلاکت کو کشمیری معاشرے کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔ ایک بیان میں حریت کانفرنس نے کہا "ہم مزید دو اور نہتے شہریوں کے ہلاکتوں کی بھی شدید مذمت کرتے ہیں ۔یہ انسانیت کے خلاف پُرتشدد کارروائی اور قتلِ عام کے مترادف ہے۔"

اُن کا کہنا تھا کہ کشمیر کا مسئلہ حل ہو جائے گا تو اس طرح کے واقعات بھی رک جائیں گے۔

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے حالات پر گہری نظر رکھنے والے بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ اب جب کہ علیحدگی پسند جماعتیں سیاسی منظر نامے سے تقریباً غائب ہیں اور عسکریت پسندوں کو سیکیورٹی فورسز نے شدید نقصان پہنچایا ہے تو وہ ایسی کارروائیاں کر کے اپنی موجودگی کا احساس دلا رہے ہیں۔

  • 16x9 Image

    یوسف جمیل

    یوسف جمیل 2002 میں وائس آف امریکہ سے وابستہ ہونے سے قبل بھارت میں بی بی سی اور کئی دوسرے بین الاقوامی میڈیا اداروں کے نامہ نگار کی حیثیت سے کام کر چکے ہیں۔ انہیں ان کی صحافتی خدمات کے اعتراف میں اب تک تقریباً 20 مقامی، قومی اور بین الاقوامی ایوارڈز سے نوازا جاچکا ہے جن میں کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کی طرف سے 1996 میں دیا گیا انٹرنیشنل پریس فریڈم ایوارڈ بھی شامل ہے۔

XS
SM
MD
LG