رسائی کے لنکس

logo-print

اڑن طشتریوں پر تحقیق کے لیے پینٹاگون کی ٹاسک فورس قائم


امریکی محکمہ دفاع کی طرف سے جاری کردہ نیوی کی ویڈیو میں اڑن طشتری دکھائی دے رہی ہے۔

امریکہ کے محکمۂ دفاع نے اڑن طشتریوں پر تحقیقات کے لیے ایک نئی ٹاسک فورس قائم کر دی ہے جو گزشتہ کئی برسوں کے دوران متعدد واقعات میں امریکی فوجی طیاروں کے مشاہدے میں آئی تھیں۔

پینٹاگون کی طرف سے جمعے کو جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نئی ٹاسک فورس دفاع کے ڈپٹی سیکرٹری ڈیوڈ نارکوسٹ کی نگرانی میں کام کرے گی۔

پینٹاگون کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ چار اگست کو ڈپٹی سیکرٹری ڈیفنس نے فضا میں پرواز کرنے والی غیرشناخت شدہ اشیا پر تحقیق کے لیے ایک نئی ٹاسک فورس ' یو اے پی ٹی ایف' کے قیام کی منظوری دی ہے۔

ٹاسک فورس کا مشن اڑن طشتریوں کا کھوج لگانا، ان کا تجزیہ کرنا اور یہ معلوم کرنا ہے کہ آیا وہ امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ تو نہیں ہیں۔

نئی ٹاسک فورس نیوی کے تحت کام کرے گی اور اپنی پیش رفت سے انٹیلی جینس کے انڈر سیکرٹری کو آگاہ رکھے گی۔

اڑن طشتریوں اور خلائی مخلوق پر فلمیں بچے اور بڑے سبھی شوق سے دیکھتے ہیں۔
اڑن طشتریوں اور خلائی مخلوق پر فلمیں بچے اور بڑے سبھی شوق سے دیکھتے ہیں۔

2018 سے امریکی نیوی، اڑن طشتریوں سے منسلک ان واقعات کی باضابطہ تحقیقات کر رہی ہے جو اس کے پائلٹوں اور دوسرے عہدے داروں کو پیش آئے تھے۔

کانگریس کے ارکان اور پینٹاگون کے عہدے دار ان غیرشناخت شدہ اڑنے والی چیزوں کے بارے میں، جنہیں عموماً اڑن طشریوں کے نام سے جانا جاتا ہے، اپنی تشویش اور خدشات کا اظہار کر چکے ہیں۔ ان اڑن طشتریوں کو امریکی فوجی مراکز پر پرواز کرتے دیکھا گیا، جس سے فوجی طیاروں کو خطرہ لاحق ہو سکتا تھا۔

ان غیر شناخت شدہ اڑن طشتریوں کی حقیقت کے متعلق کسی ایک نظریے پر اتقاق رائے نہیں پایا جاتا۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ وہ کرہ ارض کے باہر سے آنے والی چیزیں نہیں ہیں، بلکہ ممکنہ طور پر ڈرون ہیں جو زمین پر موجود حریفوں کی جانب سے خفیہ معلومات اکھٹی کرنے کے لیے اڑائے جاتے ہیں۔

اس سلسلے میں دسمبر 2017 اور مارچ 2018 کے درمیان اسٹارز اکیڈمی آف آرٹس اینڈ سائنسز نے پہلی بار نیوی کی ویڈیوز ریلیز کیں تھیں۔ اکیڈمی کے بانیوں میں شامل ایک سابق موسیقار ٹام ڈی لانگ کا کہنا تھا کہ ان کا ادارہ اڑن طشتریوں پر تحقیق کا کام کرتا ہے۔

اس سے قبل فضا میں اڑنے والے ان نامعلوم اور غیرشناخت شدہ چیزوں کے مطالعے کے لیے نیواڈا کے سابق سینیٹر ہیری ریڈ نے 2007 میں ایک پروگرام شروع کیا تھا جسے 2012 میں بند کر دیا گیا کیونکہ ضرورت کے مطابق فنڈز دستیاب نہیں تھے۔

امریکی ایئرفورس کی جانب سے جاری ایک تصویر میں ایک اڑن طشتری نظر آ رہی ہے جو 1972 میں ایک صحرائی علاقے میں اتری تھی۔
امریکی ایئرفورس کی جانب سے جاری ایک تصویر میں ایک اڑن طشتری نظر آ رہی ہے جو 1972 میں ایک صحرائی علاقے میں اتری تھی۔

اس پروگرام کے سابق سربراہ لوئس ایلی زونڈو نے 2017 میں سی این این کو بتایا تھا کہ وہ ذاتی طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ ایسے قابل یقین شواہد موجود ہیں کہ ممکنہ طور پر اس کائنات میں ہم اکیلے نہیں ہیں۔

یہ نئی مہم کئی برسوں سے جاری ان تحقیقات کا حصہ ہے جن کا سامنا امریکی فوج کو محو پرواز غیرشناخت شدہ اشیا یا اڑن طشتریوں سے ہوا تھا اور امریکی نیوی کے جیٹ طیاروں نے ان کی ویڈیوز ریکارڈ کی تھیں۔ جنہیں اس سال اپریل میں پینٹاگون نے جاری کر دیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG