رسائی کے لنکس

logo-print

موبائل فون کے استعمال کی عادت اور شخصیت کا تعلق


جیسا کہ ایک حالیہ مطالعے کا نتیجہ بتاتا ہے کہ موبائل فون بار باردیکھنے والے لوگ اپنی روزمرہ زندگیوں میں اتنے ہی زیادہ بےچین ہو سکتے ہیں۔

موبائل فون درحقیقت ہماری زندگی یا یوں کہہ لیں کہ ہمارے خاندان کا ایک حصہ بن چکا ہے جو ہر وقت ہر جگہ ہمارے لیے موجود ہوتا ہے اور اب ہم سے زیادہ ہم کو بہتر سمجھنے میں مدد فراہم کر رہا ہے۔

جیسا کہ ایک حالیہ مطالعے کا نتیجہ بتاتا ہے کہ موبائل فون بار بار دیکھنے والے لوگ اپنی روزمرہ زندگیوں میں اتنے ہی زیادہ بے چین ہو سکتے ہیں۔

امریکی ریاست فلوریڈا کی 'ٹیمپل یونیورسٹی' سے منسلک ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ اگرچہ موبائل فونز ہماری روزمرہ کی سرگرمیوں میں تیزی سے وسیع کردار ادا کر رہے ہیں لیکن اس کے باوجود بہت کم تحقیقات میں فون استعمال کرنے کی عادت اور شخصیت میں انفرادی اختلافات کےدرمیان تعلقات کو ظاہر کیا گیا ہے۔

تجزیہ کے مزید تسلسل سے ظاہر ہوا کہ جو لوگ چند منٹ کے لیے بھی اپنے فون سے علیحدہ ہونے کے لیے تیار نہیں تھے وہ اپنی روزمرہ کی زندگیوں میں اضطراب کے مسائل پر قابو پانے میں بھی ناکام تھے۔

ٹیمپل یونیورسٹی سے منسلک ماہر نفسیات ڈاکٹر جیسن چین نے کہا کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ بار بار فون دیکھنا آپ کے بےقابو بےچینی کی طرف سے ہوتا ہے۔

نئی تحقیق جریدہ 'سائیکونومک بلیٹن اینڈریویو' میں شائع ہوئی ہے، جس میں محققین نے 91 انڈر گریجویٹ طلبہ سے سوشل میڈیا کے لیے ان کے فون کے استعمال کے بارے میں سوالات کیے۔

تحقیق کے اگلے مرحلے میں طالب علموں نے ٹیسٹوں کی ایک سیریز میں حصہ لیا، جہاں انھیں فوری انعام حاصل کرنے یا بڑی انعامی رقم حاصل کرنے کے درمیان فرضی انتخاب کی پیشکش کی گئی تھی۔

مطالعے کے ایک تیسرے حصے میں طالب علموں نے کمپیوٹر پر ایک ذہنی امتحان دیا۔

نتائج کے مطابق شرکاء جو زیادہ بے چین اور مضطرب نظر آئے تھے وہ ان لوگوں کے مقابلے میں زیادہ کثرت سے فون کی جانچ میں مصروف تھے، جنھوں نے بڑے انعام کے لیے تاخیر کا مظاہرہ کیا تھا۔

محققین کو نتائج سے پتا چلا کہ کثرت سے فون کا استعمال اور سوشل میڈیا پر اپنا زیادہ وقت گزارنے والے طلبہ بڑا انعام حاصل کرنے کے بجائے فوری اطمینان حاصل کرنا چاہتے تھے۔

نتائج سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ ایسے طلبہ نے اضطراری شخصیت کی خصوصیات کے لیے زیادہ نمبر حاصل کئے تھے۔

تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر جیسن چین نے کہا کہ ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ جو لوگ اس رویے میں مشغول تھے ان میں بڑے انعامات حاصل کرنے کی خواہش نہیں تھی۔

انھوں نے مزید کہا کہ ان کی یہ بے تابی مستقبل میں کم قابل قدر انعامات حاصل کرنے کی ایک وجہ بن سکتی ہے جبکہ حقیقت میں وہ زیادہ فائدہ حاصل کر سکتے تھے۔

ڈاکٹر جیسن چین کے مطابق نتائج کو ان لوگوں کی مدد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جن کا موبائل فون کا زیادہ استعمال ان کی زندگیوں کے ساتھ مداخلت کر رہا تھا۔

حتیٰ کہ ایک اوسط شخص نے ایک دن میں 85 مرتبہ موبائل فون کو چیک کیا تھا اور دن میں پانچ گھنٹے موبائل فون ایپلیکیش اور ویب براؤزنگ میں گزارے تھے۔

XS
SM
MD
LG