رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت کی ٹرینیں جو پیاس بجھانے کا بھی ذریعہ ہیں!


بھارت میں ٹرینیں صرف آمد و رفت کا ہی ذریعہ نہیں بلکہ لوگوں کی پانی کی ضرورت پوری کرنے کا بھی آسرا ہیں۔ ہزاروں خاندانوں کی زندگی کی ڈوریں ان ٹرینوں سے بندھی ہوئی ہیں۔

بھارت کی مختلف ریاستوں میں پانی کے حصول کے لیے بے شمار بچوں کو والدین کے ہمراہ ہر روز کئی کلومیٹر سفر طے کرنا پڑتا ہے۔ ان بچوں کو گاؤں کے قریب سے گزرنے والی ٹرینوں سے دوسرے علاقے جا کر بھی پانی بھرنے کی مشقت اٹھانی پڑتی ہے۔

نو سالہ ساکشی گوڑ اور اس کے پڑوس میں رہنے والا 10 سالہ سدھارتھ دھاگہ بھی ایسے ہی بچوں میں شامل ہیں۔ جو اسکول کے بعد دیگر ہم جماعت بچوں کی طرح کھیلنے کے لیے میدان کا رخ نہیں کر سکتے۔

انہیں اپنے علاقے سے گزر کر جانے والی ایک ٹرین تک پہنچنا ہوتا ہے اور اس ٹرین کے ذریعے پانی لے کر گھر واپس آنا ہوتا ہے۔ جس کے لیے انہیں طویل سفر پیدل بھی طے کرنا پڑتا ہے۔

بھارت کے اکثر علاقوں میں پانی کی تلاش کے لیے دور دراز پیدل سفر طے کرنا معمول کی بات سمجھی جاتی ہے۔ ساکشی اور سدھارتھ کی طرح ان گنت بچے روزانہ یہ مشقت بھرا کام کرتے ہیں۔

ساکشی اور سدھارتھ کا تعلق ریاست مہاراشٹر کے ایک چھوٹے سے گاؤں مکند واڑی کے نہایت غریب گھرانوں سے ہے۔

ریاست مہاراشٹر کا یہ علاقہ کئی سال سے خشک سالی کا سامنا کر رہا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کی رپورٹ کے مطابق اگرچہ بھارت کے بہت سے علاقوں میں مون سون بارشیں ہو رہی ہیں۔ متعدد علاقوں کو سیلابی صورت حال کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مکند واڑی اور اس کے اطراف کے علاقوں میں رواں سال 14 فیصد سے بھی کم بارش ریکارڈ ہوئی ہے جس کے سبب پانی کے ذخائر اور کنویں خشک ہو چکے ہیں۔

سدھارتھ کا کہنا ہے کہ انہیں پانی لانا وقت کا زیاں لگتا ہے لیکن ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں ہے۔

اُن کا گھر ریلوے اسٹیشن سے 220 گز کی دوری پر ہے جہاں ان کو اسکول سے آنے کے بعد روزانہ پانی بھرنے کے لیے آنا پڑتا ہے۔

سدھارتھ کے بقول اس کام میں اتنا وقت لگ جاتا ہے کہ انہیں کھیلنے کا موقع ہی نہیں مل پاتا۔

ساکشی اور سدھارتھ کی ہی یہ کہانی نہیں ہے بلکہ لاکھوں بھارتی صاف پانی کے حصول سے محروم ہیں۔

برطانوی خیراتی ادارے 'واٹر ایڈ' کے مطابق 16 کروڑ 63 لاکھ افراد کے گھروں میں پانی نہیں آتا، نہ ہی گھر کے قریب انہیں یہ سہولت حاصل ہے بلکہ پانی کی تلاش میں خواتین اور بچوں کو گھروں سے میلوں دور جانا پڑتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پانی کے حصول کے لیے طویل سفر کرنے کا یہ کسی بھی ملک کی آبادی کا سب سے بڑا تناسب ہے۔

مکند واڑی اور ارد گرد کے علاقوں کے بچوں کو پانی بھرنے کے لیے قریبی شہر اورنگ آباد جانا پڑتا ہے۔

دوران سفر بچے ریلوے کے عملے کی نظروں سے بچ بچا کر مختلف برتنوں اور بوتلوں میں پانی بھر لیتے ہیں اور پھر ٹرین سے اتر کر واپس گھر جانے کے لیے مڑ جاتے ہیں۔

سدھارتھ کے بقول یہ ان کا معمول ہے۔

سدھارتھ کا کہنا ہے کہ کچھ لوگ پانی بھرنے میں ان کی مدد کرتے ہیں، کچھ ڈانٹ دیتے ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ بعض اوقات ٹرین یا اسٹیشن پر موجود ریلوے کا عملہ بھی انہیں پانی کے برتن اندر لے جانے سے روک دیتا ہے۔

ایسے میں وہ برتن پلیٹ فارم کے دروازوں پر رکھ کر انہیں کسی چیز سے چھپا دیتے ہیں اور جیسے ہی ٹرین آتی ہے، ان برتنوں یا بوتلوں کو لے کر وہ ٹرین میں سوار جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسٹیشن سے باہر نکلنا بھی ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے ہم جلد پانی باہر بھی نہیں لے کر جا سکتے۔ کبھی کبھی کئی گھنٹے انتظار کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریلوے کا عملہ انہیں پکڑ بھی لیتا ہے اور سزا کے طور پر ان کا پانی ضائع کر دیا جاتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ریلوے عملے کو پانی زمین پر بہا دینا منظور ہوتا ہے مگر کسی کو لے جانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔

اورنگ آباد جانے سے پہلے ٹرین 30 منٹ اسٹیشن پر رکتی ہے لہذا اس دوران بچے ریلوے لائنوں کے درمیان بنے نلوں اور ٹرین کے ڈبوں میں بنے بیت الخلا سے برتنوں میں پانی بھر لیتے ہیں۔

سدھارتھ کی طرح علاقے کے دیگر بچوں کو بھی ضرورت کے لیے پانی ٹرین سے ہی مل پاتا ہے۔

ایک اور بچی 14 سالہ انجلی اور ان کی بہنوں کو بھی پانی بھرنے کے لیے کئی کئی دن ٹرین تک جانا پڑتا ہے۔

ان کو اپنے کپڑے دھونے کے لیے ٹرین کا پانی استعمال کرنا ہوتا ہے۔

سدھارتھ کے پڑوسی پرکاش ناگری اکثر صابن اور شیمپو لیے ٹرینوں کا رخ کرتے ہیں۔

پرکاش ناگری کہتے ہیں کہ گھر میں نہانے کے لیے پانی نہیں ہوتا، اس لیے ٹرین کے لیے موجود پانی سے نہانا آسان ہو جاتا ہے۔

جب ٹرین سدھارتھ اور ان کے ساتھ موجود ان کی ماں جیوتی کو مکند واڑی واپس لاتی ہے تو صرف ایک منٹ کے لیے وہاں رکھتی ہے۔

اتنے کم وقت میں پانی کے برتنوں سمیت اترنا سدھارتھ اور ان کی والدہ کے لیے بہت مشکل ہوجاتا ہے۔

ٹرین سے برتنوں سمیت اترنا ان کے لیے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں ہوتا۔ ان کے بقول بعض اوقات کسی نہ کسی کی مدد کے لیے بھی طویل انتظار کرنا پڑتا ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ اکثر اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ مٹی کے برتن یا مٹکے ٹرین سے جلدی اترنے یا چڑھنے کی کوشش میں دروازے سے ٹکرا جاتے ہیں۔ جس سے وہ ٹوٹ جاتے ہیں یا بعض اوقات ہاتھ سے گر جاتے ہیں۔ ایسے میں ساری محنت رائیگاں چلی جاتی ہے۔

سدھارتھ کی چھوٹی بہن صرف چار ماہ کی ہے اور گھر میں سنبھالنے والا ان کی ماں جیوتی کے علاوہ کوئی نہیں ہے۔

اس لیے جیوتی کو ایک ہاتھ میں بیٹی اور دوسرے ہاتھ سے پانی کا مٹکا اٹھانا پڑتا ہے۔

ایسے میں ٹرین سے اترنا اور پانی کے برتنوں کے ساتھ بچی کو سنبھالنا کتنا خطرناک ہوسکتا ہے، اس کا اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں ہے۔

بھارت کے موجودہ وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اس مسئلے کو حل کرنے کی غرض سے تین کھرب روپے کی لاگت سے منصوبہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس منصوبے کے تحت 2024 تک ہر شہری کو اس کے گھر پر پانی فراہم کیا جا سکے گا۔

مکند واڑی میں آباد 100 سے زیادہ خاندانوں کو پائپ کے ذریعے بھی پانی کی رسائی ممکن نہیں اس لیے انہیں پانی خریدنا پڑتا ہے۔

گرمیوں کے موسم میں پانچ ہزار لیٹر کا واٹر ٹینکر تین ہزار روپے میں ملتا ہے۔

تین ہزار کے اس واٹر ٹینکر کے حوالے سے سدھارتھ کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ وہ یہ بھاری بوجھ برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

سدھارتھ کے والد راہول کا کہنا ہے کہ اُن کے گھر کا خرچ بہت مشکل سے چلتا ہے ایسے میں وہ پانی خریدنے کے لیے اتنی رقم کہاں سے لائیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG