رسائی کے لنکس

logo-print

ناول پڑھنے والوں میں ہمدردی کا جذبہ بڑھتا ہے: رپورٹ


پروفیسر اوٹلے نے کہا کہ مزید تجربات نے یہ ثابت کیا کہ بیانیہ افسانوں نے ایک نسل یا ثقافت کے لیے ہمدردیاں پیدا کی تھیں ان لوگوں کے لیے جو قاری سے مختلف پس منظر کے حامل تھے۔

جدید ڈیجیٹل دنیا میں ناول اور کہانیاں پڑھنا وقت کاٹنے کا پرانا فیشن بن گیا ہے ایسے میں ماہرین نفسیات کی طرف سے یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ کہانیاں سنانے کی صدیوں پرانی روایت دوسروں کے ساتھ ہمدردی بڑھانے میں ہماری مدد کرتی ہیں۔

اگرچہ کئی مطالعاتی جائزوں میں دکھایا گیا ہے کہ ناول پڑھنے سے دماغ وسیع ہوتا ہے لیکن کینیڈین ماہرین نفسیات کی طرف سے پیش کئے جانے والے نتائج بتاتے ہیں کہ ناول پڑھنے سے ہمیں دوسروں کے جذبات اور نقطہ نظر کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے اور ہمارا ان کے ساتھ ہمدردی کا رشتہ گہرا ہوتا ہے۔

ٹورنٹو یونیورسٹی میں اطلاقی سائنس اور انسانی ترقی کے شعبے سے منسلک پروفیسر کیتھ اوٹلے نے ناول پڑھنے کے اثرات پر تجربات کا انعقاد کیا تھا۔

انھوں نے اپنے نتائج کے خاکے اور فکشن کے اثرات پر دیگر مطالعوں پر مشتمل جائزہ رپورٹ جریدہ 'کوگنیٹیو سائنس' میں شائع کی ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ سائنسی تجربے سے پہلے غیر افسانوی ادب پڑھنے کے مقابلے میں بیانیہ افسانے پڑھنے سے نمایاں طور پر شرکاء کے ٹیسٹ کے اسکور میں اضافہ ہوا تھا۔

پروفیسر اوٹلے نے کہا کہ انسانوں کے بارے میں کیا مخصوص ہے کہ وہ لوگوں کے ساتھ سماجی تعلقات بڑھاتے ہیں اور یہ فطری طور پر پہلے سے پروگرام نہیں ہے جبکہ ناول پڑھنے سے ہمیں اپنے سماجی تجربوں کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

پروفیسر اوٹلے نے کہا کہ مزید تجربات نے یہ ثابت کیا کہ بیانیہ افسانوں نے ایک نسل یا ثقافت کے لیے ہمدردیاں پیدا کی تھیں ان لوگوں کے لیے جو قاری سے مختلف پس منظر کے حامل تھے۔

اسی طرح کے ایک جائزے سے پتا چلا کہ مصنفہ شہلا عبداللہ کی تصنیف زعفران ڈریمز جس میں نیویارک میں رہنے والی ایک عرب عورت کی فرضی کہانی بیان کی گئی تھی اس ناول کے قارئین میں عرب چہروں کے حوالے سے تعصب میں کمی پائی گئی تھی۔

ڈاکٹر اوٹلے نے کہا کہ تقریباً تمام ہی ثقافتوں میں کہانیاں بنائی جاتی ہیں لیکن اب ان کہانیوں کو انٹرٹینمنٹ کا نام دے دیا گیا ہے لیکن مجھے ایسا لگتا ہے کہ ناول میں بہت کچھ اہم ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ افسانہ کیا ہوتا ہے، ناول کیا ہے اور مختصر افسانے کیا ہوتے ہیں یا ٹی وی ڈرامہ، فلم اور ٹی وی سیریز کیا ہوتی ہیں اور میرا جواب یہ ہے کہ یہ شعور کا ایک حصہ ہے جو دماغ سے دماغ میں منتقل کیا جاتا ہے۔

جب آپ مطالعہ کرتے ہیں یا ڈرامہ دیکھتے ہیں تو آپ اس شعور کو اپنا بنانے کے لیے اسے حاصل کرتے ہیں اور یہ ایک دلچسپ خیال معلوم ہوتا پے۔

ناول کے کرداروں کی اندرونی زندگی کی تلاش کے ذریعے قارئین دوسروں کے جذبات محرکات اور خیالات کی تشکیل کر سکتے ہیں۔

پروفیسر اوٹلے کے مطابق ادب اور نفسیات کے درمیان تعلقات پر گزشتہ چند سالوں میں چھان بین کی گئی ہے اور محققین یہ تسلیم کر رہے ہیں کہ تخیل سے متعلق بہت کچھ اہم ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ برین امیجنگ کے مطالعوں نے اس طرح کے خیالات کے لیے تحقیق کے میدان کو کھول دیا ہے جیسا کہ جائزے میں شامل ایک تحقیق میں دکھایا گیا ہے کہ ایم آر آئی اسکین سے گزرنے والے شرکاء سے جب کہا گیا کہ وہ گہرے نیلے رنگ کے کارپٹ اور نارنجی دھاری دار پینسل کا تصور کریں تو صرف تین جملوں کا تصور ہیپو کیمپس کو متحرک کرنے کے لیے کافی تھے دماغ کا حصہ جو سیکھنے اور یاداشت سے منسلک ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ پڑھنے والے کے اپنے دماغ کی طاقت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ایک ادیب کو قاری کے تخیل کو متوجہ کرنے کے لیے وسیع منظر نامہ پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے انھیں صرف ایک منظر بیان کرنا چاہیئے۔

XS
SM
MD
LG