رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں بس حادثہ، 35 افراد ہلاک


(فائل فوٹو)

بھارت کے زیرِ انتطام کشمیر میں مسافر بس گہری کھائی میں گرنے سے 35 افراد ہلاک اور 17 زخمی ہو گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق حادثہ سرمائی صدر مقام جموں سے 230 کلومیٹر دور کشتواڑ کے قریب پیش آیا۔

حکام کے مطابق بس میں گنجائش سے زیادہ افراد سوار تھے اور یہ نواحی ہمالیائی علاقے سے ضلع کشتواڑ جا رہی تھی۔ موڑ کاٹتے ہوئے ڈرائیور بس پر قابو نہ رکھ سکا اور بس گہری کھائی میں جا گری۔

حادثے کے بعد امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو مقامی اسپتال منتقل کیا گیا۔

28 افراد موقع پر ہلاک ہو گئے جب کہ سات افراد اسپتال میں دم توڑ گئے۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں حالیہ دنوں میں پیش آنے والا یہ دوسرا بڑا حادثہ ہے۔ اس سے قبل 27 جون کو ضلع شوپیاں میں ایک حادثے میں 11 طلبہ ہلاک ہو گئے تھے۔

جموں میں ایک اعلیٰ عہدیدار سنجیو ورما نے بتایا کہ حادثے میں شدید زخمی ہونے والے افراد کو ہیلی کاپٹرز کے ذریعے جموں کے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

کشتواڑ کے ڈپٹی کمشنر انگریز سنگھ رانا نے بتایا کہ حادثے کی خبر ملتے ہی امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں تھیں۔ واقعے میں متعدد افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے تھے۔

بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے بس حادثے میں انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ نریندر مودی کا کہنا ہے کہ 'میری ہمدردیاں حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کے ساتھ ہیں۔'

گزشتہ جمعرات کو ریاست کے سرحدی ضلع پونچھ کے سورنکوٹ علاقے کے ایک کمپیوٹر انسٹی ٹیوٹ میں زیرِ تربیت 11 طالب علم بھی ایک حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر، خاص طور پر اس کے پہاڑی علاقوں میں اس طرح کے حادثے معمول بنتے جارہے ہیں۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ خراب سڑکیں اور تنگ راستے حادثات میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔ جب کہ ڈرائیوروں کی تیزرفتاری بھی ایک وجہ ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ریاست میں سال 2018ء میں (نومبر کے مہینے تک) 5529 سڑک حادثے پیش آئے جن میں 908 افراد ہلاک اور 7250 افراد زخمی ہو گئے تھے۔

انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارتی زیر انتظام کشمیر میں ٹریفک حادثات میں اموات اور معذور ہونے کی شرح بھارت کی دیگر ریاستوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔

گورنر ہاؤس سری نگر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ گورنر کی واضح ہدایات ہیں کہ روڈ سیفٹی کو یقینی بنایا جائے۔ اس ضمن میں ایک اجلاس بھی ہوا تھا جس میں پرانی گاڑیوں کو سڑکوں سے ہٹانے کا فیصلہ بھی کیا گیا تھا۔

گورنر ستیہ پال ملک نے حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو فی کس پانچ لاکھ روپے دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG