رسائی کے لنکس

logo-print

مغربی افریقہ میں ایبولا مزید تیزی سے پھیل سکتا ہے: رپورٹ


عالمی ادارہ صحت کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق ایبولا وائرس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد 5800 سے زائد ہوچکی ہے جن میں 2800 موت کا شکار ہو چکے ہیں۔

ایک نئی مطالعاتی رپورٹ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر مہلک ایبولا وائرس پر قابو پانے کے لیے تیزی سے اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے مہینوں میں مغربی افریقہ میں ہزاروں افراد اس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

یہ رپورٹ "نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن" میں شائع ہوئی ہے جس میں ایبولا کے پھیلاؤ سے متعلق نئی معلومات ظاہر کی گئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایبولا وائرس کی وبا پر ردعمل ظاہر کرنے میں عالمی برادری سے دیر ہوئی اور اس وائرس کو بڑھنے سے روکنے کے لیے اب بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

گنی میں عالمی ادارہ صحت کی طرف سے ایبولا وائرس کی وبا پھوٹنے کا انکشاف کیے ہوئے 23 ستمبر کو چھ ماہ ہوگئے لیکن ادارے کے ایک اعلیٰ عہدیدار اور اس رپورٹ کے معاون مصنف کرسٹوفر ڈیئی کے مطابق یہ وبا دراصل نو ماہ پہلے پھیلنا شروع ہوئی۔

"یہ اس وبا کے پھیلاؤ کے تیسرے دہانے پر ہیں۔ اب اس سے ہر ہفتے متاثر ہونے وال سینکڑوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچ سکتی ہے اگر ہم نے اسے روکنے کے لیے فوری اقدام نہ کیے، یہ آفت تباہی میں تبدیل ہوسکتی ہے۔"

عالمی ادارہ صحت کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق ایبولا وائرس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد 5800 سے زائد ہو چکی ہے جن میں 2800 موت کا شکار ہو چکے ہیں۔

چند ہفتے قبل ہی ڈبلیو ایچ او نے پیش گوئی کی تھی کہ ایبولا سے متاثرہ کیسز کی تعداد آئندہ چھ ماہ میں بیس ہزار سے تجاوز کرسکتی ہے۔

حالیہ ہفتوں میں مغربی افریقہ میں پھوٹنے والی اس وبا سے نمٹنے کے لیے عالمی کوششوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔ بہت سے ممالک ڈاکٹر اور دیگر طبی عملہ یہاں بھیج رہے ہیں۔

اقوام متحدہ نے ایبولا وائرس سے نمٹنے کی کوششوں کے لیے ایک ارب ڈالر دینے کی منظوری بھی دی ہے۔

XS
SM
MD
LG