رسائی کے لنکس

رحمان بابا کے عرس کی تقریبات بحال


پشاور میں رحمان بابا کا مزار۔ فائل فوٹو

عبدالرحمان بابا کو اسلامی فقہ اور تصوف پر بھی عبور حاصل تھا جس کی وجہ سے بابا کی شاعری میں اسلامی تعلیمات، امن اور برداشت کا درس ملتا ہے۔

پشتو کے صوفی شاعر عبدالرحمن بابا کے تین روزہ سالانہ عرس کا باقاعدہ آغاز جمعہ 13 اپریل سے ہوا جس میں ختم قران اور دعا کے بعد مزار پر پھولوں کی چادر چڑھائی گئی۔

دوسرے دن رحمان بابا کے حوالے سے آرکائیو ہال میں صبح نو بجے سیمینار منعقد کیا گیا جبکہ اتوار کو اختتامی تقریب رحمان بابا کمپلکیس میں ہوئی جہاں پر مشاعرے کا انعقادکیا گیا۔

رحمان بابا کا تعلق مہمند قبیلے کی شاخ غوریہ خیل سے تھا۔ وہ 1650 عیسوی میں پشاور شہر کے جنوب مشرق میں واقع ہزار خوانی میں پیدا ہوئے جبکہ وفات 1715ء میں ہوئی۔ اُن کا مزار بھی پشاور میں ہے۔

عبدالرحمان بابا کو اسلامی فقہ اور تصوف پر بھی عبور حاصل تھا جس کی وجہ سے بابا کی شاعری میں اسلامی تعلیمات، امن اور برداشت کا درس ملتا ہے۔ رحمان بابا کا مجموعہ کلام "دیوان" کے نام سے شائع ہو چکا ہے جس میں پانچ ہزار کے قریب اشعار ہیں۔

1962ء سے رحمان بابا کا تین روزہ عرس ہرسال باقاعدگی سے منایا جاتا ہے جس میں دو دن مشاعرہ اور ایک دن دوسری تقریبات کیلئے مختص ہوتا ہے۔

دوسرے اور تیسرے دن عام لنگر تقسیم کیا گیا اور پشتو کی روائتی تالوں پر رحمان بابا کی شاعری گائی گئی جبکہ عقیدت مندوں نے ڈھول کی تھاپ پر دھمال بھی کیا۔

رحمان بابا کمپلکس کو دہشت گردوں نے 4 مارچ 2009ء کو بارودی مواد سے مکمل طور تباہ کر دیا تھا جس کو تقریباً چار روپے کے لاگت سے دوبارہ تعمیر کیا گیا اور 5 مارچ 2012 کو زائرین کے لئے دوبارہ کھول دیا گیا۔

پچھلے کئی سالوں سے علاقے میں خراب امن وامان کے حالات اور رحمان بابا کے مزار کو بارودی مواد سے نقصان پہنچنے کے بعد عرس کی سرگرمیاں کچھ حد تک متاثر ہوئی تھیں اور زیادہ سرگرمیاں کمپلکیس کے بجائے دوسرے مقامات پر منعقد کی جاتی رہی ہیں۔

مگر حکومت کی طرف سے پویس کی طعیناتی کے علاوہ رضاکاروں کی جماعت بھی موجود تھی جنہیں یہاں "خاکساروں کی جماعت" کہا جاتا ہے جو مزار کی حفاظت کے علاوہ دیگر انتظامات کی بجا آوری میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔

یہاں آئے ہوئے عقیدت مند بیازبین ملنگ نے امن وامان کی صورت حال کے بارے میں کہا کہ 2009 میں ہونے والے دھماکے سے قبل یہاں قوالی اور مشاعرہ ہوتا تھا اور ’’یہاں عرس کے دنوں میں عید کا سماں ہوتا تھا۔ مگر اب کئی سالوں کے بعد بھی یہاں لوگوں میں ایک خوف بایا جاتا ہے۔‘‘

مزار کے قریب ایک لائبریری بھی بنائی گئی ہے جس میں رحمان بابا کے اشعار اور زندگی سے متعلق کتابوں کے علاوہ پشتو ادب کے کئی دوسرے نامور مصنفوں کی کتابیں بھی موجود ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں عبدالرحمان بابا کی شخصیت کے حوالے سے پروگرام و سیمینار منعقد کرنے کی غرض سے ایک ہال بھی قائم کیا گیا ہے مگر وہاں کرسیاں، بجلی اور ساونڈ سسٹم جیسی سہولیات کی عدم موجودگی کی وجہ سے تقریبات کا انعقاد ممکن نہیں۔

منتظمین کے مطابق سالانہ عرس کے انعقاد کیلئے صوبائی حکومت نے ایک لاکھ روپے جاری کئے ہیں۔ رحمان ادبی جرگے نے رواں سال عرس میں خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں کے علاوہ افغانستان سے آنے والے مہمانوں کے رہائش کیلئے بھی انتظام کیا ہے۔

افغانستان سے آئے ہوئے شعراء میں شامل پروفیسر قاسم محمود نے کہا کہ رحمان بابا کی شاعری میں عمل کا درس ملتا ہے۔ رحمان بابا کہ ایک شعر کا ترجمہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "حالات خود ہی ٹھیک ہو جائیں گے مگر اس کے لئے ہر ایک کو پھول لگانے میں پہل کرنی ہوگی"۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG