رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت: راجستھان میں ہندو مسلم تصادم، تین ہلاک


فائرنگ کے ان واقعات کے بعد مشتعل افراد نے 20 سے زائد دکانوں اور گھروں کو نذرِ آتش کردیا جس کے بعد علاقے میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔

بھارت کی ریاست راجستھان میں ہندووں اور مسلمانوں کے درمیان ہونے والے تصادم میں کم از کم تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں جب کہ مشتعل گروہوں نے 20 گھروں اور دکانوں کو نذرِ آتش کردیا ہے۔

بھارتی خبر رساں ادارے 'پی ٹی آئی' کے مطابق تصادم کا آغاز ضلع پرتاب گڑھ کے قصبہ کوٹڑی میں منگل کی شب اس وقت ہوا جب ایک مذہبی اجتماع سے لوٹنے والے نوجوانوں کے ایک گروہ کی دوسرے مذہب سے تعلق رکھنے والے گروہ کے ساتھ تلخ کلامی ہوگئی۔

ضلع کے ایک پولیس افسر نے 'پی ٹی آئی' کوبتایا کہ تلخ کلامی کے واقعے کے فوراً بعد دونوں جانب کے سیکڑوں افراد ایک نزدیکی بس اڈے پر جمع ہوگئے جہاں "اقلیتی گروہ" سے تعلق رکھنے والے بعض افراد نے فائرنگ کردی۔

فائرنگ سے ایک 20 سالہ نوجوان راجہ خان ہلاک اور دیگر افراد زخمی ہوگئے۔ فائرنگ کے بعض زخمیوں کو طبی امداد کے لیے ادے پور منتقل کیا گیا ہے۔

پولیس افسر کے مطابق فائرنگ کرکے فرار ہونے والے ملزمان کو ایک نزدیکی گاؤں 'موہیدا' کے رہائشیوں نے روکنے کی کوشش کی جس پر انہوں نے وہاں بھی فائرنگ کی جس سے مزید دو افراد ہلاک ہوگئے۔

فائرنگ کے ان واقعات کے بعد مشتعل افراد نے کوٹڑی کے علاقے میں 20 سے زائد دکانوں اور گھروں کو نذرِ آتش کردیا جس کے بعد علاقے میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔

تصادم کی اطلاع پھیلنے کے بعد کوٹڑی کے بعض نواحی قصبوں اور دیہات میں بھی مشتعل افراد نے گھروں اور دکانوں پر حملے کیے ہیں۔

پرتاب گڑھ کے ایس پی یو کے چھنوال کے مطابق فسادات سے متاثرہ علاقوں میں پولیس کے اضافی دستے تعینات کردیے گئے ہیں جب کہ متصل اضلاع سے بھی پولیس کی نفری طلب کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ بھارت میں ہندووں اور مسلمان اقلیت کے درمیان تصادم کے واقعات معمول کی بات ہیں۔

گزشتہ سال ستمبر میں ریاست اتر پردیش کے ضلع مظفر نگر میں بھی ہندو مسلم فسادات میں درجنوں افراد مارے گئے تھے۔ فسادات سے متاثرہ علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے ہزاروں مسلمان اب بھی پناہ گزین کیمپوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
XS
SM
MD
LG