رسائی کے لنکس

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ہفتہ کو سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں تین مشتبہ عسکریت پسندوں کی ہلاکت کے بعد بھارت مخالف مظاہروں میں ایک بار پھر شدت آ گئی ہے۔

پولیس کے سربراہ منیر احمد خان کے مطابق سرکاری فورسز کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ سوپور کے علاقے میں بعض گھروں میں مشتبہ علیحدگی پسند چھپے ہوئے ہیں۔

ان کے بقول جیسے ہی سکیورٹی اہلکاروں نے گھروں کی تلاشی لینا شروع کی تو ان پر مشتبہ عسکریت پسندوں کی طرف سے فائرنگ شروع کر دی گئی۔

اس پر فورسز نے بھی جوابی فائرنگ اور اس لڑائی کے دوران تین مشتبہ عسکریت پسندوں ہلاک اور ایک پولیس اہلکار زخمی ہو گیا۔

جیسے ہی اس واقعے کی خبر منظر عام پر آئی بھارتی کشمیر کے متعدد علاقوں میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے جس میں مظاہرین بھارت مخالف اور علیحدگی پسندوں کے حق میں نعرے لگاتے رہے۔

بانڈی پوری کے علاقے میں مشتعل ہجوم کی طرف سے سکیورٹی فورسز پر پتھراؤ کے جواب میں فائرنگ کی جسے تین شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

گزشتہ ایک ہفتے کے دوران مختلف جھڑپوں اور مظاہروں کے دوران کم از کم دس مشتبہ عسکریت پسند اور چار شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایک جھڑپ کے دوران بھارتی فوج کے دو اہلکار بھی مارے گئے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG