رسائی کے لنکس

logo-print

بھارتی کشمیر: پنچایتی انتخابات لڑنے والوں پر تیزاب حملوں کی دھمکی


سری نگر میں سیکورٹی اہلکاروں کا پہرہ (فائل فوٹو)

’’جو بھی الیکشن میں حصہ لے گا اُسے اُس کے گھر سے گھسیٹ کر باہر نکالا جائے گا اور پھر اُس کی آنکھوں میں گندھک یا نمک کا تیزاب ڈالا جائے گا تاکہ وہ اپنی بینائی کھودے اور باقی ماندہ زندگی میں اپنے کنبے کے لئے بوجھ بن جائے۔"

نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر میں سرگرم سب سے بڑی مقامی عسکری تنظیم حزب المجاہدین نے مبینہ طور پر یہ دھمکی دی ہے کہ ریاست میں پنچا یتوں کے لئے اگلے ماہ سے کرائے جانے والے انتخابات میں حصہ لینے والوں پر تیزاب پھینکا جائے گا۔

یہ انتخابات گزشتہ سال کرائے جانے والے تھے لیکن حزب المجاہدین کے معروف کمانڈر برہان مظفر والی کی ہلاکت کے بعد بڑے پیمانے پر بھڑکے تشدد اور بد امنی کی وجہ سے انہیں ملتوی کیا گیا تھا ۔

وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی نے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ پنچا یتی انتخابات فروری کے وسط سے کرائے جائیں گے۔ انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ "لوگ اس عمل کے دوران گولیوں کے مقابلے میں ووٹ کی پرچیوں کا انتخاب کریں گے"۔

لیکن استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والے کشمیری لیڈروں کے اتحاد 'مشترکہ مزاحمتی قیادت' نے فوری ردِ عمل میں ان انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل جاری کردی - اس کے بقول بھارت انتخابات کا ڈرامہ رچاکر کشمیریوں کے مطالبہِ حقِ خود ارادیت کی نفی کرنا چاہتا ہے ۔ اتحاد نے اس موقف کا اعادہ کیا تھا کہ بھارتی آئین کے تحت ہونے والے انتخابات چاہے یہ پارلیمنٹ کے لئے کرائے جائیں یا اسمبلی یا بدلیاتی اداروں کے لئے ، اُس رائے شماری کا نعمل البدل نہیں ہوسکتے جسے کرانے کا وعدہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں کیا گیا ہے۔

اب حزبِ المجاہدین کے ایک اعلیٰ کمانڈر ریاض نائیکو سے منسوب ایک آڈیو سامنے آگئی ہے جس میںُ اُنہیں یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ مجاہدینِ حزب سے کہا گیا ہے کہ جو لوگ آئندہ پنچایتی انتخابات لڑیں گے اُن کی آنکھوں میں تیزاب ڈال دیا جائے۔

آڈیو میں جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے نائیکو اپنے ایک ساتھی سمیر ٹائیگر سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں ۔"تم نے دیکھا 2016 میں (بھارتی حفاظتی دستوں کی طرف سے چھرے والی بندوقوں کے استعمال کے نتیجے میں) بہت سے نوجوان اپنی بینائی کھو بیٹھے۔ اس لئے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ جو بھی الیکشن میں حصہ لے گا اُسے اُس کے گھر سے گھسیٹ کر باہر نکالا جائے گا اور پھر اُس کی آنکھوں میں گندھک یا نمک کا تیزاب ڈالا جائے گا تاکہ وہ اپنی بینائی کھودے اور باقی ماندہ زندگی میں اپنے کنبے کے لئے بوجھ بن جائے"۔

اس دھمکی پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے سابق وزیرِ اعلیٰ اور حزب اختلاف کی بھارت نواز جماعت نیشنل کانفرنس کے کار گزار صدر عمر عبداللہ نے اپنی ایک ٹویٹ میں کہا ۔"اگر پیلٹ نہیں ہیں ، تیزاب ہے۔ لوگوں کو ایک یا دوسرے طریقے سے اندھا بنانے کی دھمکی دی جاتی ہے"

پولیس عہدیداروں نے بتایا کہ انہوں نے دھمکی کا انتہائی سخت نوٹس لیا ہے اور اس سلسلے میں جو بھی موزوں اقدامات اُٹھانے کی ضرورت محسوس کی جائے گی ، اُٹھائے جائیں گے۔

کیا آڈیو کِلپ میں سنی جانے والے آواز واقعی نائیکو کی ہے؟ آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ خود حزب المجاہدین کی طرف سے تاحال آڈیو کی صداقت یا اس پر ہوئے ردِ عمل کے بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

ادھر نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کی پولیس نےعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کرنے والے ایک ایسے مقامی طالب علم کو پکڑنے کے لئے مہم تیز کردی ہے جس کے بارے میں یہ اطلاع ہے کہ اُس نے مبینہ طور پر حزب المجاہدین میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔

عبد المنان وانی نامی طالب علم کےوالدین نے پولیس کو بتایا ہے کہ اُسے گزشتہ ہفتے چھٹیوں پر گھر لوٹنا تھا لیکن وہ یہ سنکر سکتے میں آگئے کہ شوشل میڈیا پر ایسی تصویریں ڈالی گئی ہیں جن میں منان کو اے کے 47 بندوق تھامے دیکھا جاسکتا ہے اور ایک منسلک پیغام کے مطابق وہ حزب المجاہدین میں شامل ہوگیا ہے۔

منان علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں جیالوجی یعنی ارضیات پر ڈاکٹریٹ کررہا تھا۔ یونیورسٹی حکام نے اُس کی تصاویر کے وائرل ہونے کے بعد اسے معطل کردیا ہے۔

اسکالر مبینہ طور پر عسکریت پسندوں کی صف میں ایک ایسے وقت شامل ہوا ہے جب حکومت مقامی نوجوانوں کو تشدد کا راستہ ترک کرکے گھروں کو لوٹنے پر آمادہ کرنے کی سر توڑ کوشش کررہی ہے۔ اتوار کو ایڈشنل ڈائرکٹر جنرل آف پولیس منیر احمد خان نے ایسے نوجوانوں کو راغب کرنے کے لئے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ اب پولیس کے سامنے ہتھیار ڈالے بغیر اپنے گھر والوں سے رابطہ قائم کرکے گھر لوٹ سکتے ہیں اور پھر اپنی زندگیوں کا نئے سرے سے آغاز کرسکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ منان کا عسکریت پسندوں کی صف میں شامل ہونا کوئی نئی یا انہونی بات نہیں ہے ۔ بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کے پروفیسر ڈاکٹر شیخ شوکت حسین نے کہا۔" یہ کوئی نئی یا حیران کُن بات نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ کشمیری نوجوان جن میں ڈاکٹر، انجینئر اور دوسرے پیشہ ور اور اچھی طرح آباد لوگ بھی شامل تھے جو جنگجوؤں کی صفوں سے جاملے۔ دراصل یہاں کے لوگوں باالخصوص نوجوانوں میں اجنبیت کچھ اس قدر گہری ہوچکی ہے کہ وہ تیزی کے ساتھ بندوق کی طرف مائیل ہورہے ہیں۔"

اسی دوران پیر کو سرینگر کے مضافات میں واقع چاڈورہ علاقے میں حفاظتی دستوں کے ساتھ ایک مقابلے میں جو آخری اطلاع آنے تک جاری تھا تین عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔ علاقے میں ہوئے عوامی مظاہروں اور پتھراؤ کے واقعات کے دوران حفاظتی دستوں کی طرف سے چھرے والی بندوقوں کے استعمال میں کئی شہری زخمی ہوگئے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG