رسائی کے لنکس

سگریٹ نوشی صحت عامہ ہی نہیں معیشت کو بھی متاثر کررہی ہے، ڈاکٹر جاوید خان


ڈاکٹر جاوید خان

دنیا بھر میں سگریٹ نوشی کے خلاف آگہی میں اضافہ ہورہا ہے اور حکومتیں اس کے سدِباب کیلیے اقدامات اٹھا رہی ہیں۔ تاہم پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں سے ایک ہے جہاں تمباکو نوشی کے رجحان میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور ماہرین کے مطابق صورتِ حال خطرناک ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان میں تمباکو نوشی اور اس سے متعلق امراض سے ہر سال ایک لاکھ کے لگ بھگ افراد ہلاک ہورہے ہیں جبکہ پاکستانی سالانہ 438 ارب روپے تمباکو نوشی پر پھونک دیتے ہیں۔

سگریٹ نوشی صحت عامہ ہی نہیں معیشت کو بھی متاثر کررہی ہے، ڈاکٹر جاوید خان
سگریٹ نوشی صحت عامہ ہی نہیں معیشت کو بھی متاثر کررہی ہے، ڈاکٹر جاوید خان

کراچی میں واقع آغا خان یونیورسٹی کے شعبہ امراضِ سینہ کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر جاوید اے خان نے 'وائس آف امریکہ' سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں سگریٹ نوشی کرنے والے افراد کی تعداد میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوچکا ہے اور ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان کی نصف کے لگ بھگ بالغ آبادی کسی نہ کسی شکل میں تمباکو کے استعمال کی عادی ہے۔

ڈاکٹر جاوید - جو پاکستان میں تمباکو نوشی کے خلاف سرگرم تنظیم 'نیشنل الائنس فار ٹوبیکو کنٹرول' کے سربراہ بھی ہیں – نے 'وی او اے' کو بتایا کہ پاکستان میں 3 کروڑ سے زائد افراد سگریٹ نوشی کے عادی ہیں جبکہ لگ بھگ اتنے ہی افراد شیشہ، پان، گٹکا، نسوار اور ایسی ہی دیگر نشہ آور اشیاء کے ذریعے تمباکو استعمال کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر جاوید کے بقول پاکستان کے نوجوانوں میں سگریٹ نوشی کی شرح 32 فی صد جبکہ خواتین میں 8 فی صد ہے جبکہ ان کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران کالجز اور یونیورسٹیز کی طالبات میں تمباکو نوشی کی شرح 6 فی صد سے بڑھ کر 16 فی صد تک پہنچ چکی ہے جو دیگر ممالک کے مقابلے میں تشویشناک حد تک زیادہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سگریٹ اور تمباکو نوشی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث ملک میں صحتِ عامہ کی صورتِ حال انتہائی خراب ہے اور ان سے جنم لینے والی بیماریوں سے آبادی کا بہت بڑا حصہ متاثر ہورہا ہے۔

ڈاکٹر جاوید کے مطابق پاکستان میں کینسر کی جو اقسام سب سے زیادہ اموات کا سبب بنتی ہیں وہ پھیپھڑے اور منہ کے کینسر ہیں جو دونوں تمباکو نوشی کے باعث جنم لیتے ہیں۔ ان کے بقول معدے، مثانے، سانس کی نالی اور گلے کے کینسر اور سانس کی پچاس فیصد بیماریاں بشمول دمہ اور نمونیہ بھی سگریٹ نوشی کے سبب ہوتے ہیں اور پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد ان امراض کا شکار ہے۔

ڈاکٹر جاوید کے بقول سگریٹ نوشی صرف پاکستانیوں کی صحت ہی متاثر نہیں کر رہی بلکہ اس کے باعث پاکستان کی معیشت کو بھی اربوں ڈالرز کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

ان کی تحقیق کے مطابق پاکستان میں سگریٹ نوشی کے عادی افراد روزانہ 1 ارب 20 کروڑ روپے کی سگریٹ پھونک دیتے ہیں جس کے باعث سالانہ 438 ارب روپے غیر ملکی کمپنیوں کی جیبوں میں جارہے ہیں۔

ڈاکٹر جاوید کا کہنا ہے کہ اس سے کئی گنا زائد رقم ان ادویات کی درآمد پر خرچ کی جارہی ہے جو سگریٹ نوشی سے جنم لینے والی بیماریوں کے علاج کیلیے درکار ہوتی ہیں۔ ان کے بقول ان میں سے اکثر دوائیں نہ صرف مہنگی ہیں بلکہ پاکستان میں تیار نہیں ہوتیں اور ان کی درآمد کے باعث ملکی معیشت کو بھاری زرِ مبادلہ سے محروم ہونا پڑ رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سگریٹ ساز کمپنیاں دنیا کے ترقی یافتہ ممالک سے اپنا کاروبار سمیٹ کر تیسری دنیا کے ملکوں میں منتقل ہورہی ہیں کیونکہ یہاں ان کی سرگرمیوں پر روک ٹوک لگانے کیلیے قوانین یا تو سرے سے موجود ہی نہیں یا ان پر عمل درآمد نہیں کیا جارہا۔

ڈاکٹر جاوید نے 'وی او اے' کو بتایا کہ حکومت کو گزشتہ برس ٹوبیکو انڈسٹری سے 60 ارب روپے کے محصولات وصول ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں سگریٹ روٹی سے بھی سستی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام میں سگریٹ نوشی کو کنٹرول کرکے صحت کی سہولیات پر اٹھنے والے اربوں روپے کے اخراجات کی بچت کی جاسکتی ہے۔

ڈاکٹر جاوید نے بتایا کہ پاکستان میں 2002ء میں منظور کردہ قانون کے تحت دفاتر، تعلیمی اداروں، بس اسٹاپس، پبلک ٹرانسپورٹ اور دیگر عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی کی ممانعت ہے تاہم ان کے بقول اس قانون کی کھلی خلاف ورزی کی جارہی ہے جس کا کوئی نوٹس نہیں لیا جارہا۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی تنظیم 'نیشنل الائنس فار ٹوبیکو کنٹرول' کی جانب سے کیے گئے ایک حالیہ سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ کراچی کے 90 فی صد ریستوران اس قانون کی پابندی نہیں کر رہے۔ ان کے بقول غیرملکی ریستورانوں نے بھی اپنی حدود میں 'اسموکنگ زونز' قائم کررکھے ہیں حالانکہ دیگر ممالک میں یہی ریستوران تمباکو نوشی کی ممانعت کے قوانین پرسختی سے عمل درآمد یقینی بناتے ہیں۔

سگریٹ نوشی کے سدِباب کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں ڈاکٹر جاوید کا کہنا تھا کہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے طے کردہ اصولوں کی پابندی کرکے پاکستان میں اس لعنت پر قابو پایا جاسکتاہے۔

ان کے بقول ان اصولوں میں سرِ فہرست سگریٹ کی قیمت میں اتنا اضافہ ہے کہ یہ عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوجائے۔ عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی کی ممانعت کے قوانین پر سختی سے عمل درآمد، سگریٹ نوشی کے نقصانات اور اس سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے متعلق عوام میں آگہی پیدا کرکے اور تعلیمی اداروں کے نصاب میں اس حوالے سے اسباق کی شمولیت اس ضمن میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سگریٹ نوشی کے سدِ باب کیلیے اس کی تشہیر پر بھی مکمل پابندی عائد کرنا ہوگی۔ ان کے بقول پاکستان میں سگریٹ کمپنیوں کے ٹی وی اشتہارات تو محدود کریے گئے ہیں البتہ سگریٹ ساز کمپنیاں اب بھی بڑے بڑے اسپورٹس ایونٹس، میوزیکل کانسرٹس اور نوجوانوں کی دلچسپی کی دیگر سرگرمیوں کو اسپانسر کرکے اپنی مصنوعات کی تشہیر کر رہی ہیں جس پر فوری پابندی عائد کرنا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ نجی شعبہ کو بھی اس مقصد کیلیے آگے آنا ہوگا اور دفاتر اور دیگر کاروباری مراکز میں تمباکو نوشی پر ممانعت کے قانون پر عمل درآمد یقینی بنانا ہوگا۔

ڈاکٹر جاوید کے بقول معاشرے میں سگریٹ اور تمباکو نوشی کے رجحان کی حوصلہ شکنی کیلیے علماء کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اور عوام کو اس حوالے سے شعور دینا ہوگا اس عمل کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔ انہوں نے کہا کہ معروف اسلامی اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائک اپنی ایک تقریر میں تمباکو نوشی کو ناجائز قرار دے چکے ہیں جبکہ ڈاکٹر اسرار احمد نے اس حوالے سے ایک کتابچہ بھی تحریر کیا ہے جس میں سگریٹ نوشی کو حرام قرار دیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG