رسائی کے لنکس

logo-print

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہم سے آگے، ہمارے بچے


ایک نئی تحقیق کے نتیجے نے اس بات کا ثبوت پیش کردیا ہے کہ ڈیجٹل آلات کے ماہر بچے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں بالغان سے دوچار قدم آگے نکل گئے ہیں۔

انسانی تاریخ میں یہ شاید پہلا موقع ہے جب والدین اس بات کو تسلیم کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے کہ ان کے بچے ایک ایسی چیز پر ان سے زیادہ عبور رکھتے ہیں جسے ڈیجٹل ورلڈ کا نام دیا گیا ہے۔

ایک نئی تحقیق کے نتیجے نے اس بات کا ثبوت بھی پیش کردیا ہے کہ ڈیجٹل آلات کے ماہر بچے - جن کی حقیقی دنیا بھی بہت حد تک اب ڈیجٹل دنیا میں سما چکی ہے - جدید ٹیکنالوجی کےاستعمال میں بالغان سے دوچار قدم آگے نکل گئے ہیں۔

تجزیہ کار مطالعے میں یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ آیا کالج کے نوجوانوں کے مقابلے میں کیا چار سے پانچ برس کے بچے کسی ایسی تٹکنالوجی کو سیکھنے اور استعمال کرنے میں زیادہ بہتر ہوسکتے ہیں جسے انھوں نےپہلےکبھی نہیں دیکھا ہو؟

تجربے میں چار سے پانچ برس کے بچوں اور کالج کے طلبہ کو شامل کیا گیا جس میں چھوٹے بچوں کے گروپ نے نوجوانوں کو شکست دے کر ثابت کردیا کہ نئی ٹیکنالوجی سیکھنے کے لحاظ سے وہ نوجوانوں کےمقابلے میں زیادہ بہتر ہیں۔

'یونیورسٹی آف کیلیفورنیا' کےتجزیہ کاروں نے تجربے میں شامل 106 بچوں اور 170 نوجوانوں کے درمیان ایک ٹاسک رکھا جس میں 'ٹیک گیجٹ' کے مخصوص خانوں میں مٹی سے بنی ہوئی اشکال کو رکھ کر اسے روشن کرنا تھا۔

تجزیہ کاروں نے دیکھا کہ چھوٹے بچوں نے گیجٹ چلانے کے لیے درست کمبی نیشن کا انتخاب میں نوجوانوں سے نہ صرف سبقت حاصل کی بلکہ ان سے کم وقت میں ٹاسک مکمل کر لیا۔

تحقیق سے منسلک تجزیہ کار گوپنک کا کہنا ہے کہ ہمارے نزدیک یہ ایک اہم سوال تھا کہ کیا بچے اس ٹیک مشین کو چلانے کے لیے 'عمل اور رد عمل' کے تعلق کو تلاش کر سکیں گے۔

لیکن ہمارے نتائج اس لحاظ سے حیرت انگیز رہے کیونکہ چار سے پانچ برس کے بچوں نے نہ صرف نوجوانوں کے مقابلے میں زیادہ اچھا کام کیا بلکہ وہ ٹیکنالوجی سیکھنے کے حوالے سے ان سے کہیں زیادہ بہتر تھے۔

پروفیسر گوپنک نے کہا کہ اس نتیجے نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ بچوں کی ایسی کونسی خاصیت ہے جو انھیں سیکھنے کے معاملے میں بالغان کی نسبت زیادہ لچک دار بنا دیتی ہے۔

یہ تحقیق سائنسی جریدے 'جرنل کوگنیشن' میں شائع ہوئی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بچے عمل اور ردعمل کے باہمی تعلق کو زیادہ جلدی سمجھتے ہیں اور جو کچھ بھی ان کا مشاہدہ ہوتا ہے، اس کی مدد سے زیادہ دور رس نتائج قائم کرلیتے ہیں۔ حتی کہ عمل اور رد عمل کے باہمی تعلق کو سمجھنے کے لیے ان کے چھوٹے چھوٹے مشاہدات ہی کافی ہوتے ہیں۔

تحقیق کے معاون مصنف کرسٹوفر لکاس کا کہنا ہے کہ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ بچے بالغان کے مقابلے میں مفروضے سے زیادہ موجود ثبوت پرتوجہ مرکوز رکھتے ہیں۔ بلکہ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ بچے کسی چیز کے لیے پیش بندی کرنے کے معاملے میں آزاد ہوتے ہیں یا پھر وہ بنیادی طور پر زیادہ لچک دار ہوتے ہیں۔ یا ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ شاید وہ ایک مہم جو کی نظر سے دنیا کو دیکھتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG