رسائی کے لنکس

logo-print

کابل: امریکی فوج کے سینئر جنرل کی افغان صدر سے ملاقات


فوج کے چیف آف اسٹاف اور چوٹی کے امریکی جنرل، جنرل مارک مائلی نے صدارتی محل میں افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کی ہے، جس سے ایک ہی روز قبل امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے لڑائی کے نتیجے میں تباہ حال ملک میں کی جانے والی امریکی کوششوں پر تنقید کی تھی۔

امریکی اور افغان حکام نے ’وائس آف امریکہ‘ سے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مائلی اور غنی نے جمعرات کی ملاقات کے دوران افغانستان اور خطے پر امریکی حکمت عملی کے ’’مثبت اثرات‘‘ پر گفتگو کی۔

افغان صدر کے معاون ترجمان، صمیم عارف نے ایک ٹوئیٹ میں بتایا ہے کہ ’’جنرل مائلی نے کہا ہے کہ امریکہ افغان قیادت اور افغان عملداری والے امن عمل کی حمایت جاری رکھے گا‘‘۔

صدر کے ایک اور ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دونوں نے ’’خود کفالت پر مبنی طویل مدتی اقدام‘‘ پر بھی گفت و شنید کی، تاکہ افغانستان کی حکومت کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ ’’اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکے‘‘۔

افغانستان میں تعینات اعلیٰ امریکی کمانڈر، جنرل آسٹن ’’اسکوٹ‘‘ مِلر بھی جمعرات کو ہونے والی اس ملاقات میں موجود تھے۔

ایک روز قبل امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے افغانستان میں کی جانے والی امریکی کوششوں پر تنقید کرتے ہوئے فوجی قیادت کو آڑے ہاتھوں لیا۔

بدھ کے روز ٹرمپ نے کہا کہ ’’میرے جنرلوں نے جو رقوم مانگیں میں نے ان کو دیں۔ اُنھوں میں افغانستان میں اتنا اچھا کام کرکے نہیں دکھایا‘‘۔

سابق وزیر دفاع جم میٹس کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے، ٹرمپ نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ افغانستان میں میٹس کی کارکردگی ’’اتنی اچھی نہیں تھی‘‘۔

ٹرمپ نے کہا کہ ’’میں اُس سے خوش نہیں ہوں جو کچھ اُنھوں نے افغانستان میں کیا، اور مجھے خوش ہونا بھی نہیں چاہیئے‘‘۔

میٹس نے 20 دسمبر کو عہدے سے استعفیٰ دیا۔ اُنھوں نے استعفیٰ کا خط صدر کے حوالے کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کو ’’حق حاصل ہے کہ وہ ایسا وزیر دفاع رکھیں جن کے خیالات اُن سے مطابقت رکھتے ہوں‘‘۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG