رسائی کے لنکس

logo-print

کوئلے کے بجلی گھر اور موسمیاتی تبدیلیاں


کوئلے سے چلنے والے ایک بجلی گھر سے گیسوں کا اخراج۔ فائل فوٹو

پاکستان میں اس وقت کوئلے سے چلنے والے 9 بجلی گھر کام کر رہے ہیں، جن سے 4,868 میگاواٹ بجلی پیدا کی جا رہی ہے اور پاکستان۔چین اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت 25 ارب ڈالر کی مالیت سے کوئلے سے چلنے والے متعدد بڑے منصوبے تکمیل کے مراحل میں ہیں جن سے مزید 12,334 میگاواٹ بجلی پیدا کی جائے گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے والے 7861 بجلی گھر موجود ہیں، جن سے نکلنے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس سے عالمی حدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کوئلہ جلنے سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے علاوہ سلفر ڈائی آکسائیڈ، نائٹروجن آکسائید اور پارہ بڑی مقدار میں پیدا ہوتا ہے اور یہ تمام علاقے کے رہائشیوں کے لیے انتہائی مضر صحت ہیں۔

ماحولیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں اب کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے رجحان میں نمایاں کمی آ رہی ہے اور مختلف ممالک توانائی کے لیے کوئلے کی بجائے پن بجلی، ونڈ ملز اور شمسی توانائی کے استعمال پر زیادہ سے زیادہ بھروسہ کرنے لگے ہیں۔

یوں پاکستان سمیت ایسے ملکوں اور برادریوں میں اس حوالے سے بحران کی سی کیفیت پیدا ہو گئی ہے جن میں کوئلہ ہی ان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔

مثال کے طور پر امریکہ کی ریاست کولوراڈو کے 9,000 کی آبادی والے شہر کرگ سٹیشن میں کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر میں 300 افراد کام کرتے ہیں اور یوں قلیل آبادی کے اس شہر کے لیے بہت سے لوگوں کا روزگار اس سے وابستہ ہے۔

اس بجلی گھر میں کام کرنے والے ایک الیکٹریشن میٹ کنچلو کا کہنا ہے کہ اس شہر میں حدت پیدا کرنے والی گیسوں کے اخراج پر عائد کی جانے والی پابندی سے اس بجلی گھر کا مستقبل غیر یقینی ہو گیا ہے اور اس سے ان جیسے بہت سے لوگوں کا روزگار داؤ پر لگ گیا ہے۔

تاہم کولوراڈو کے دارالحکومت ڈینور میں ایوان نمایندگان کے سپیکر کے سی بیکر کہتے ہیں کہ اگر ہم موسمیاتی تبدیلی سے متعلق مسائل کو حل نہیں کریں گے تو ہماری معیشت تباہ ہو جائے گی۔

ان کا کہنا ہے کہ علاقے میں موجود برف پوش پہاڑیاں اسکی کے لیے مشہور ہیں اور موسمیاتی حدت سے برف پگھل رہی ہے جس سے نہ صرف سیاحت سے ہونے والی آمدنی متاثر ہو رہی بلکہ پانی کی سطح کم ہونے سے زراعت پر بھی برا اثر پڑ رہا ہے۔

کولوراڈو کی حکومت نئی قانون سازی کے ذریعے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 2050 تک 90 فیصد کمی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس مقصد کے لیے کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر بند کر دیے جائیں گے۔

تاہم حکومت کوئلے کے بجلی گھر سے وابستہ افراد کے روزگار پر اس کا اثر کم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ اس کے لیے کارکنوں کو دوسرے شعبوں میں کھپانے کی خاطر تربیت کے پروگرام شروع کیے گئے ہیں۔

یوں دنیا بھر میں جہاں کوئلے کے استعمال سے پیدا ہونے والی گیسوں کے اثرات ختم کرنے کے لیے توانائی کے ایسے ذرائع کی طرف منتقلی کی کوششیں کی جا رہی ہیں جو ماحول کے لیے نقصان دہ نہ ہوں، ان کے لیے کولوراڈو میں حکومت کی طرف سے کارکنوں کے روزگار کو بچانے کے اقدامات مشعل راہ بن سکتے ہیں۔

تاہم پاکستان جیسے ملک میں جہاں کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر خطیر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، ان کے لیے توانائی کے دیگر ذرائع کی طرف منتقلی کا فیصلہ مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG