رسائی کے لنکس

logo-print

ٹرمپ کو 50 فی صد ریپبلکن ووٹروں کی حمایت حاصل: سروے


کروز اور کسیک کی ٹرمپ کا راستہ روکنے کی حرفت کا مقصد انڈیانا کی ریاست میں ایک ہفتہ بعد ہونے والی پرائمری کی ووٹنگ سے پہلے ٹرمپ کو جیتنے نہیں دینا ہے، جہاں کیسک نے اپنی انتخابی مہم روک دی ہے، تاکہ ٹرمپ کو نیچا دکھانے کے لیے کروز کو زیادہ ووٹ پڑ سکیں

ایسے روز جب توقع کی جا رہی ہے کہ ٹرمپ پانچ ریاستوں میں ریپبلیکن صدارتی پرائمری جیتنے والے ہیں، قومی سطح پر اُنھیں 50 فی صد ریپبلیکن یا ریپبلیکن پارٹی کے لیے نرم گوشہ رکھنے والے ووٹروں کی حمایت حاصل ہے۔ یہ بات ’این بی سی نیوز/سروے مَنکی‘ کی تازہ عام جائزہ رپورٹ میں بتائی گئی ہے۔

دسمبر میں، جب سے ’این بی سی نیوز/سروے مَنکی‘ نے ہفتہ وار بنیاد پر انتخابی عمل کا جائزہ لینا شروع کیا ہے، ٹرمپ نے پہلی بار اتنی حمایت حاصل کی ہے۔

ٹرمپ کے چیلنجروں۔۔ ٹیکساس کے سینیٹر ٹیڈ کروز اور اوہائیو کے گورنر جان کسیک ۔۔ سروے کے شمار کے مطابق، بہت ہی پیچھے ہیں۔

انتخابی مہم میں ٹرمپ کی مجموعی حمایت اب مستحکم ہوتی جارہی ہے، جو مارچ کے وسط میں 40 فی صد سے تھوڑی ہی زیادہ تھی۔ جو بات اہمیت کی حامل ہے وہ یہ کہ رائے عامہ کے تازہ ترین سروے میں ریپبلیکنز میں اُن کی حمایت اِس تازہ جائزے کے مطابق چھ فی صد کی شرح سے بڑھی ہے، جو سروے 18 سے 24 اپریل کے دوران آن لائن پر کیا گیا۔ اس میں 18 برس کےکُل 10707 جوان شامل ہیں، جن میں سے 9405 رجسٹرڈ ووٹر ہیں۔

ٹرمپ کو منگل کے روز ڈیلیگیٹس کی اکثریت کی حمایت حاصل کرنی ہوگی تاکہ وہ اپنی پارٹی کی نامزدگی پکی کر سکیں۔

حریف امیدواروں کا حربہ

کنیٹی کٹ، ڈلاوئیر، میری لینڈ، پنسلوانیہ اور رہوڈ آئی لینڈ میں بھی ووٹنگ ہونے والی ہے، جہاں ٹرمپ کے حریف امیدواروں نے حکمت عملی بدل کر مشترکہ جدوجہد کا اعلان کیا ہے، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ ڈیلیگیٹس کی اکثریت ٹرمپ کو ووٹ نہ دے۔

ٹرمپ نے کروز اور کسیک کی جانب سے اِس قسم کی کوشش کو ’’افسوس ناک‘‘ قرار دیا ہے، اور پیر کے روز اپنی تقاریر میں نامزدگی کے عمل پر نکتہ چینی دہرائی ہے۔

اُنھوں نے ریپبلیکن پارٹی پر الزام لگایا ہے کہ اس کا رویہ نامناسب ہے اور یہ کہ نظام ’’دھاندلی‘‘ پر مبنی ہے۔

کروز اور کسیک کی جانب سے ٹرمپ کا راستہ روکنے کی حرفت کا مقصد انڈیانا کی ریاست میں ایک ہفتہ بعد ہونے والی پرائمری کی ووٹنگ سے پہلے ٹرمپ کو جیتنے نہیں دینا ہے، جہاں کیسک نے اپنی انتخابی مہم روک دی ہے، تاکہ ٹرمپ کو نیچا دکھانے کے لیے کروز کو زیادہ ووٹ پڑ سکیں۔

اس معاہدے کے پیش نظر، کچھ ووٹر برہم بھی دکھائی دیتے ہیں۔

انڈیانا میں، کیتھی ہائل نے کہا ہے کہ اتوار کو ٹرمپ کے حریفوں کی طرف سے مخالفانہ انداز اپنانے کے بعد اب وہ ٹرمپ ہی کو ووٹ دیں گی۔ ’’اب مجھے اُنہی کی حمایت کرنی ہے‘‘، سرکردہ امیدوار کے حق میں اُنھوں نے کھل کر یہ اعلان کیا۔

اوریگن سٹی میں کریگ ہرمن نے کہا کہ اس سمجھوتے سے ’’مجھے کوئی پریشانی نہی ہوئی۔ یہ سب تھیٹر کا معاملہ ہے۔۔۔ میرے خیال میں وہ یہ تماشہ اِسی لیے رچا رہے ہیں، اور پریس رلیز اِسی لیے جاری کی جارہی ہیں‘‘۔

اُن کے اس اعلان کے باوجود، اس منصوبے کی زبانی کلامی بات کرنا آسان ہے، جب کہ کسیک نے پیر کی شام گئے کہا ہے کہ حالانکہ وہ انڈیانا میں اپنی انتخابی مہم ترک کر رہے ہیں، پھر بھی وہ چاہیں گے کہ ووٹر اُنہی کو ووٹ دیں۔

اب تک ٹرمپ کو 845 ڈیلیگیٹس کی حمایت حاصل ہے، جب کہ کروز کو 559؛ جب کہ کسیک کو 148کی حمایت ہے، اور وہ فلوریڈا کے سینیٹر مارکو روبیو سے بھی پیچھے ہیں، جنھیں مارچ کے وسط تک 171 ڈیلیگیٹس کی حمایت حاصل تھی۔

XS
SM
MD
LG