رسائی کے لنکس

نریندر مودی 25 جون سے امریکہ کا دورہ کریں گے

  • سہیل انجم

فائل

سرکاری اعلان کے مطابق، ”دونوں رہنماؤں کی بات چیت سے باہمی مفاد کے امور میں دوطرفہ تعاون مزید گہرا ہوگا اور بھارت اور امریکہ کے مابین کثیر رُخی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید استحکام حاصل ہوگا“

وزیر اعظم نریندر مودی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر 25 اور 26 جون کو واشنگٹن کا دورہ کریں گے۔ وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ایک بیان کے مطابق، وہ 26 جون کو ڈونلڈ ٹرمپ سے مذاکرات کریں گے۔

اِسی سال 20 جنوری کو مسٹر ٹرمپ کے صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد وزیر اعظم مودی کا امریکہ کا یہ پہلا دورہ ہوگا۔

وزارت خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ”دونوں رہنماؤں کی بات چیت سے باہمی مفاد کے امور میں دوطرفہ تعاون مزید گہرا ہوگا اور بھارت اور امریکہ کے مابین کثیر رُخی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید استحکام حاصل ہوگا“۔

مسٹر ٹرمپ کے صدر کا منصب سنبھالنے کے بعد دونوں رہنماؤں میں ٹیلی فون پر تین بار بات چیت ہو چکی ہے۔ یہ دورہ ٹرمپ کے ذریعے ’ایچ ون بی‘ ویزا کے ضابطوں کو مزید سخت کرنے اور پیرس ماحولیاتی معاہدے سے امریکہ کو الگ کرنے کے بیان کی روشنی میں کافی اہم سمجھا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر نے پیرس معاہدے سے الگ ہونے سے متعلق اپنے بیان میں بھارت پر سخت تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ ”اس نے غیر ملکی امداد کی شکل میں اربوں ڈالر حاصل کرنے کے لیے معاہدے پر دستخط کیے ہیں“۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے اس بارے میں براہِ راست جواب دینے سے بچتے ہوئے کہا تھا کہ ”ہم پیرس معاہدے سے قطع نظر مستقبل کی نسلوں کو ایک بہتر ماحول فراہم کرنے کے اپنے عہد کے پابند ہیں“؛ جبکہ وزیر خارجہ سشما سوراج نے کہا تھا کہ ”ہم نے پیرس معاہدے پر دستخط کسی کے دباؤ یا لالچ میں نہیں کیے“۔

انھوں نے یہاں تک کہا کہ ”امریکہ اس معاہدے میں شامل رہے یا نہ رہے بھارت معاہدے کی پابندی کرے گا“۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG