رسائی کے لنکس

logo-print

ٹرمپ جونیئر کا خاندانی کاروبار کے سلسلے میں دورۂ بھارت


ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر۔ فائل فوٹو

’’جو افراد ٹرمپ رہائشی منصوبوں میں اپارٹمنٹ کی خریداری کیلئے 22 فروری سے قبل بکنگ کرائیں گے اُنہیں ٹرمپ جونیئر کے ساتھ ملاقات اور اُن کے ساتھ ڈنر کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔‘‘

بھارت میں ٹرمپ خاندان کے رہائشی منصوبوں میں مہنگی جائیدادیں خریدنے کے خواہشمند لوگوں کو ترغیب دینے کیلئے ایک منفرد پیشکش کی جا رہی ہے اور یہ پیشکش ہے امریکی صدر ٹرمپ کے بیتے ٹرمپ جونیئر کے ساتھ شام گزارنے کا موقع۔

صدر ٹرمپ کے بیٹے ٹرمپ جونیئر بھارت کے ایک ہفتے کے دورے پر آج پیر کے روز نئی دہلی پہنچے۔ اُن کی آمد سے پہلے ہی بھارت کے ممتاز اخبارات میں پورے صفحے کے اشتہارات شائع ہو ئے جن میں کہا گیا ہے:

’’ٹرمپ یہاں پہنچ گئے ہیں۔ کیا آپ کو بھی دعوت موصول ہوئی ہے؟‘‘

اشتہارات میں ٹرمپ جونیئر کی قد آدم تصویر بھی شائع کی گئی ہے اور اس میں کہا گیا ہے کہ جو افراد ٹرمپ رہائشی منصوبوں میں اپارٹمنٹ کی خریداری کیلئے 22 فروری سے قبل بکنگ کرائیں گے اُنہیں ٹرمپ جونیئر کے ساتھ ملاقات اور اُن کے ساتھ ڈنر کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔

جب سے ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی صدر کا عہدہ سنبھالا ہے، اُس وقت سے ٹرمپ جونیئر اور اُن کے بھائی ایرک ہی ٹرمپ خاندان کے کاروبار کی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔

نئی دہلی کے مضافاتی علاقے گروگرام میں ٹرمپ آرگنائزیشن کی طرف سے لائسینس کے تحت ایک مقامی تعمیراتی کمپنی کی طرف سے دو 47 منزلہ رہائشی عمارتیں تعمیر کی جا رہی ہیں ۔ ان عمارتوں کا نام ٹرمپ کے برانڈ پر رکھا گیا ہے اور ان کے رہائشی حصے میں 250 لگژری اپارٹمنٹ ہوں گے جن کی بکنگ 10 لاکھ ڈالر سے 15 لاکھ ڈالر تک میں کی جا رہی ہے۔

امریکہ سے باہر ٹرمپ آرگنائزیشن کی سب سے بڑی سرمایہ کاری بھارت میں کی جا رہی ہے جہاں سے ٹرمپ خاندان کو 2016 میں 30 لاکھ ڈالر کی رائیلٹی موصول ہوئی تھی۔

بھارتی حکومت کی جانب سے ٹیکس ادا نہ کرنے والی کمپنیوں کے خلاف کارروائی کے پس منظر میں حالیہ طور پر جائیداد کی قیمتوں میں 30 فیصد تک کمی دیکھنے میں آئی ہے اور نئی دہلی کے اطراف میں واقع پر تعیش رہائشی عمارات میں بھی بلڈرز کو اپارٹمنٹ کی فروخت کے سلسلے میں مسائل کا سامنا ہے۔ ایسی صورت حال میں کچھ حلقے اس اُمید کا اظہار کر رہے ہیں کہ ٹرمپ جونیئر کے اس دورے سے بھارت میں جائیداد کی گرتی ہوئی قیمتوں کو سہارا ملے گا۔

دوسری جانب کچھ لوگ اس بات کا بھی اظہار کر رہے ہیں کہ صدر ٹرمپ کے عہدہ صدارت پر رہتے ہوئے خاندانی کاروبار میں اضافے کی غرض سے جونیئر ٹرمپ کے دورہ بھارت جیسے اقدامات سے مفادات کے تصادم کا خطرہ بھی موجود ہے۔ تاہم بھارت میں ٹرمپ آرگنائزیشن کی طرف سے شروع کئے گئے تعمیراتی منصوبوں میں سے دو مومبئی اور پونے میں ٹرمپ کے صدر بننے سے پہلے شروع کئے گئے جبکہ باقی دو بعد میں شروع ہوئے۔ لیکن بعد میں شروع ہونے والے منصوبوں کے معاہدے ٹرمپ کے صدر بننے سے پہلے طے پا چکے تھے۔

ٹرمپ جونیئر کے بھارتی دورے سے پہلے صدر ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا بھی بھارت کا دورہ کر چکی ہیں جہاں اُنہوں نے سرمایہ کاری سے متعلق عالمی سربراہ کانفرنس سے خطاب کیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG