رسائی کے لنکس

امریکہ طالبان امن مذاکرات بحال ہونے کے امکان


فائل

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طالبان کے ساتھ افغانستان میں امن مذاکرات پھر سے شروع ہونے کا عندیہ دیا ہے، اور ساتھ ہی ایک بار پھر ملک سے امریکی فوج واپس بلانے کے عہد کا اظہار کیا ہے۔

ٹرمپ کے بیان پر رد عمل معلوم کیے جانے پر طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ''اس کے متعلق کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا''۔

ٹرمپ کے اس بیان سے قبل پیر کو کامیابی کے ساتھ ایک امریکی اور ایک آسٹریلیائی پروفیسر کے بدلے امریکی حمایت یافتہ افغان حکومت کی قید سے چوٹی کے باغی قیدیوں کی رہائی عمل میں آئی۔ ''خیرسگالی کے طور پر''، طالبان نے 10 افغان فوجیوں کو بھی رہا کیا۔

عام تاثر یہی ہے کہ امریکی شہری کیون کنگ اور آسٹریلیائی ٹموتھی ویکز کی رہائی، جو اگست 2016ء میں یرغمال بنائے گئے تھے، امریکہ طالبان مذاکرات کی بحالی کا موجب بنے گی۔

مغوی مغربی پروفیسروں کی رہائی کو سراہتے ہوئے، منگل کے روز ٹرمپ نے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ ''توقع کرتے ہیں کہ اس کے بعد امن کے محاذ پر جنگ بندی جیسی مزید اچھی باتیں سامنے آئیں گی، جن کی مدد سے طویل عرصے کی یہ لڑائی ختم کی جائے گی''۔

امریکہ کے ساتھ معطل بات چیت بحال ہو گئی ہے، اس پر طالبان کی جانب سے کوئی فوری رد عمل سامنے نہیں آیا۔

کابل میں طالبان کے حملوں کے نتیجے میں ایک امریکی فوجی کی ہلاکت کا حوالہ دیتے ہوئے، ستمبر کے اوائل میں ٹرمپ نے اس سال سے جاری مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ٹرمپ نے جمعے کو اپنے اُس فیصلے کا دفاع کیا۔

ٹرمپ نے اس بات کی وضاحت کی کہ ''پچھلی بار جب مجھے توقع تھی کہ سمجھوتا ہونے والا ہے، پھر انھوں (طالبان) نے سوچا کہ شاید یہ بہتر ہو گا کہ ہم لوگوں کو ہلاک کریں، تاکہ ہم مضبوط موقف سے ساتھ بات چیت کر سکیں گے''۔

جب امریکہ نے طالبان کے ساتھ مذاکرات معطل کیے، 18 سال سے جاری افغان لڑائی کے دوران مخاصمانہ فریق سمجھوتے پر دستخط کے قریب تھے تاکہ انسداد دہشت گردی کی نوعیت کی ضمانتوں اور بین الافغان امن مذاکرات میں شامل ہونے کے عزم کے اظہار کے بعد امریکی فوجی انخلا کی جانب بڑھا جا سکے۔

امن عمل میں امریکی مذاکرات کار، زلمے خلیل زاد نے جمعے کے روز کہا کہ انھیں امید ہے کہ قیدیوں کے تبادلے کے نتیجے میں ''تشدد کی کارروائیوں میں کمی آئے گی اور پیش رفت میں تیزی آئے گی''، جس سے افغان حکومت، طالبان اور دیگر افغان رہنماؤں کی شمولیت سے سیاسی تصفیہ ممکن ہو گا۔

افغان نژاد امریکی سفارت کار نے ٹوئٹ کیا کہ ''افغان عوام امن اور سلامتی کے متلاشی ہیں، اور ہم ان کے ساتھ کھڑا ہیں''۔

تاہم، طالبان ترجمان، سہیل شاہین نے اس ہفتے کے اوائل میں ان رپورٹوں کو غیر درست قرار دے کر مسترد کیا کہ قیدیوں کے کامیاب تبادلے کے بعد ان کے گروپ نے افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات میں براہ راست شریک ہونے سے اتفاق کیا ہے۔

طالبان کابل انتظامیہ کے ساتھ امن بات چیت کے سخت مخالف رہے ہیں، جسے وہ امریکہ کی کٹھ پلی قرار دیتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG