رسائی کے لنکس

logo-print

شدت پسندی کا الزام، دو لاکھ سے زائد ٹوئٹر اکاؤنٹ بند


ٹوئٹر کی جانب سے یومیہ بنیادوں پر بند کیے جانے والے اکاؤنٹس کی تعداد میں 2015 ءکے بعد سے 80 فی صد تک اضافہ ہوگیا ہے۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر نے دہشت گردی اور شدت پسندی میں ملوث ہونے کے شبہ میں مزید دو لاکھ 35 ہزار اکاؤنٹس بند کردیے ہیں۔

ٹوئٹر انتظامیہ نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ اکاؤنٹس گزشتہ چھ ماہ کے عرصے کے دوران بند کیے گئے جس کے بعد 2015ء کے وسط سے بند کیے جانے والے ایسے اکاؤنٹس کی تعداد تین لاکھ 60 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔

بیان کے مطابق ٹوئٹر کی جانب سے یومیہ بنیادوں پر بند کیے جانے والے اکاؤنٹس کی تعداد میں 2015 ءکے بعد سے 80 فی صد تک اضافہ ہوگیا ہے۔ ان میں سے بیشتر اکاؤنٹس مختلف ملکوں میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے فوراً بعد بند کیے گئے۔

ٹوئٹر انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اسے ان صارفین کی دوسرے ناموں سے ٹوئٹر پر فوری واپسی روکنے میں بھی نمایاں کامیابی ہوئی ہے جن کے اکاؤنٹس شدت پسندی کے شبہ میں بند کیے گئے تھے۔ ٹوئٹر انتظامیہ کے مطابق کہ وہ اپنے پلیٹ فارم پر موجود دہشت گردی سے متعلق مواد کی نشان دہی کے لیے سماجی رابطوں کی دیگر ویب سائٹوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔

تجزیہ کاروں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ شدت پسند تنظیم داعش نوجوانوں کو اپنے پروپیگنڈے سے متاثر کرنے اور انہیں بھرتی کرنے کے لیے بڑی حد تک ٹوئٹر پر انحصار کرتی رہی ہے جس کے باعث ٹوئٹر انتظامیہ شدت پسندی پھیلانے والے اکاؤنٹس کے خلاف کارروائی کے لیے خاصے دباؤ میں تھی۔

XS
SM
MD
LG