رسائی کے لنکس

تیل کی بھارتی طلب پوری کریں گے، عرب امارات کا اعلان


فائل
فائل

امارات کے وزیرِمعیشت نے صحافیوں کو بتایا کہ ملاقات کے دوران وزیرِاعظم مودی نے بھارت میں سرمایہ کاری کے کئی منصوبے پیش کیے ہیں جن کی مالیت 10 کھرب ڈالر سے زیادہ ہے۔

متحدہ عرب امارات کے وزیر برائے معاشی امور نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک بھارت کی تیل کی طلب پوری کرنے کے لیے تیار ہے۔

اتوار کو ابو ظہبی میں بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کے ساتھ ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سلطان بن سعید المنصوری نے کہا کہ بھارت عالمی منڈی سے تیل خریدنے والا ایک بڑا ملک ہے اور بھارت کو تیل کی جتنی بھی طلب ہو متحدہ عرب امارات اسے پورا کرنے کے لیے تیار ہے۔

اماراتی وزیر نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تیل کی خریداری کی تفصیلات وفود کی سطح پر ہونے والی بات چیت میں طے کی جائیں گی۔

تیل کی کھپت کے اعتبار سے بھارت دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے جو اپنی ضرورت کا 80 فی صد تیل درآمد کرتا ہے۔ بھارتی درآمدات میں ابو ظہبی کا حصہ فی الوقت نو فی صد ہے۔

امارات کے وزیرِمعیشت نے صحافیوں کو بتایا کہ ملاقات کے دوران وزیرِاعظم مودی نے بھارت میں سرمایہ کاری کے کئی منصوبے پیش کیے ہیں جن کی مالیت 10 کھرب ڈالر سے زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کا ملک بھارت میں انفراسٹرکچر، ریلوے، طب، سیاحت اور ریئل اسٹیٹ کے شعبوں میں سرمایہ کاری کا خواہش مند ہے۔

اماراتی وزیر نے کہا کہ بھارتی وزیرِاعظم نے انہیں بتایا ہے کہ وہ سرمایہ کاری کے منصوبوں پر بات چیت کے لیے جلد اپنے وزیرِ تجارت کو ابو ظہبی بھیجیں گے۔

وزیرِ اعظم نریندر مودی اتوار کو دو روزہ دورے پر ابو ظہبی پہنچے تھے جہاں وہ اپنے قیام کے دوران متحدہ عرب امارات کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔

مودی گزشتہ 34 برسوں میں متحدہ عرب امارات کا دورہ کرنے والے بھارت کے پہلے وزیرِاعظم ہیں۔ ان سے قبل 1981ء میں اندرا گاندھی نے مملکت کا دورہ کیا تھا۔

اتوار کو ابوظہبی پہنچنے کے بعد بھارتی وزیرِاعظم نے عرب امارات کے وزیرِ ثقافت شیخ نہیان بن مبارک النہیان کے ہمراہ شہر کی معروف شیخ زید مسجد کا دورہ کیا۔

شیخ زید مسجد کا شمار دنیا کی چند بڑی مساجد اور عرب امارات کے اہم سیاحتی مراکز میں ہوتا ہے جہاں دنیا کا سب سے بڑا ہاتھ سے بنا گیا قالین بھی موجود ہے۔

مسجد کے دورے کے موقع پر بھارتی وزیرِاعظم نے صحافیوں کے ساتھ گفتگو سے گریز کیا جب کہ ان کے دفتر سے بھی اس دورے سے متعلق کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق مسلم دنیا کی ایک بڑی اور نمایاں مسجد میں بھارتی وزیرِاعظم کی آمد کا ایک مقصد ان کی جانب سے اپنے ملک کی مسلمان اقلیت کو یہ پیغام دینا ہوسکتا ہے کہ وہ ہندو قوم پرستی سے متعلق اپنا ماضی دفن کرنے پر آمادہ ہیں۔

مسجد کے دورے کے بعد مودی نے ابوظہبی کے سب سے بڑے لیبر کیمپ کا دورہ کیا، جہاں 50 ہزار تارکین وطن رہتے ہیں۔ انہوں نے دس منٹ تک وہاں مقیم لوگوں سے ہاتھ ملائے اور لوگوں سے میں بات چیت کی۔

وزیراعظم مودی پیر کو دبئی کرکٹ اسٹیڈیم میں عرب امارات میں مقیم بھارتی تارکینِ وطن سے بھی خطاب کریں گے۔ روزنامہ ’گلف نیوز‘ کے مطابق ان کا خطاب سننے کے لیے 52 ہزار لوگوں نے رجسٹریشن کرائی ہے۔

سات ریاستوں پر مشتمل متحدہ امارات میں لگ بھگ 26 لاکھ بھارتی تارکین وطن آباد ہیں جو مملکت کی کل آبادی کا ایک تہائی حصہ ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں مقیم بھارتی اندازاً سالانہ 14 ارب ڈالر زرمبادلہ بھارت بھیجتے ہیں۔

بھارت متحدہ عرب امارات کا دوسرا بڑا تجارتی ساتھی ہے جبکہ امارات، امریکہ اور چین کے بعد بھارت کا تیسرا بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔

گزشتہ برس بھارت اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تجارت کا حجم 60 ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG