رسائی کے لنکس

logo-print

برطانیہ: پرانی گاڑیاں الیکٹرک کاروں سے بدلنے والوں کے لیے معاوضے پر غور


لندن میں ایک الیکٹرک کار ایک پاور پوائنٹ پر چارج کی جا رہی ہے (فائل فوٹو)

برطانیہ کی حکومت ڈیزل اور پیٹرول سے چلنے والی اپنی پرانی گاڑیوں کی جگہ الیکٹرک کاریں خریدنے والے شہریوں کو 6000 پاؤنڈ تک معاوضہ دینے پر غور کر رہی ہے۔

برطانوی اخبار 'ٹیلیگراف' کی ایک رپورٹ کے مطابق وزیرِ اعظم بورس جانسن کی حکومت کے زیرِ غور اس منصوبے کا مقصد برطانیہ کی کار مینو فیکچرنگ کے شعبے کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑے ہونے میں مدد دینا ہے جو کرونا وائرس کی وبا کے باعث بری طرح متاثر ہوا ہے۔

اخبار کے مطابق مذکورہ منصوبہ ان کئی مجوزہ اقدامات میں شامل ہے جن پر برطانیہ کی حکومت کرونا بحران سے متاثرہ معیشت کی دوبارہ بحالی کی غرض سے غور کر رہی ہے۔

اطلاعات ہیں کہ وزیرِ اعظم بورس جانسن ان اقدامات کا اعلان آئندہ ماہ کریں گے۔

مجوزہ منصوبے کے تحت برطانیہ کی حکومت ان تمام شہریوں کو چھ ہزار پاؤنڈز تک ادائیگی کرے گی جو اپنی پرانی الیکٹرک یا ڈیزل کار کو نئی الیکٹرک گاڑیوں سے تبدیل کرائیں گے۔

منصوبے کے مطابق برطانوی حکومت الیکٹرک گاڑیوں کے لیے نئے چارجنگ اسٹیشنز کے قیام کے لیے بھی ایک ارب پاؤنڈز کی سرمایہ کاری کرے گی۔

واضح رہے کہ برطانیہ کی حکومت پہلے ہی 2035 تک ملک میں پیٹرول، ڈیزل اور ہائبرڈ گاڑیوں کی فروخت پر مکمل پابندی عائد کرنے کا اعلان کرچکی ہے جس کے بعد ملک میں صرف الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت کی اجازت ہوگی۔

برطانیہ کے تینوں بڑے کار مینوفیکچررز – نسان، جیگوار اور بی ایم ڈبلیو – پہلے ہی بڑے پیمانے پر الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری شروع کرچکے ہیں اور حکومت چاہتی ہے کہ کرونا کی وبا کے دوران گاڑیوں کی فروخت میں آنے والی نمایاں کمی کے باوجود بھی ان تینوں کمپنیوں کی برطانیہ میں واقع فیکٹریاں ہر صورت کھلی رہیں۔

اخبار کے مطابق حکام کو توقع ہے کہ اس منصوبے کے نتیجے میں ملک میں گاڑیوں کی فروخت بڑھے گی جس سے معیشت میں تیزی آنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے بھی مزید مواقع پیدا ہوں گے۔

کرونا کی وبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے نافذ کی جانے والی پابندیوں اور لاک ڈاؤن نے عالمی معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے جس کے بعد اب کئی ملکوں کی حکومتیں کاروبار اور معیشت کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG