رسائی کے لنکس

logo-print

برطانوی عدالت نے اسانج کو امریکہ کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کر دی


جولیان اسانج (فائل فوٹو)

برطانیہ کی ایک عدالت نے 'وکی لیکس' کے بانی جولیان اسانج کو امریکہ کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ برطانوی جج کے بقول اُنہیں خدشہ ہے کہ امریکی جیل میں سخت حالات کے پیشِ نظر اسانج خود کشی کر سکتے ہیں۔

منگل کو فیصلہ سناتے ہوئے ڈسٹرکٹ جج وینیسا بارائٹسر نے ان الزامات کو مسترد کردیا کہ اسانج پر سیاسی وجوہات کی بنا پر قانونی کارروائی کی جا رہی ہے یا امریکہ میں اُن کا شفاف ٹرائل نہیں ہو گا۔ البتہ جج کا کہنا تھا کہ امریکی جیل میں ممکنہ تنہائی کی وجہ سے اُن کی ذہنی حالت خراب ہو سکتی ہے۔

جج وینیسا کا کہنا تھا کہ "مجھے اسانج کی ذہنی حالت دیکھ کر لگتا ہے کہ انہیں امریکہ منتقل کرنا اُن پر جبر کرنے کے مترادف ہو گا۔"

اُن کا کہنا تھا کہ اسانج ڈپریشن اور مایوسی کی کیفیت سے گزر رہے ہیں۔ لیکن وہ اس قابل ہیں کہ وہ امریکی حکام کی جانب سے اُنہیں خود کشی سے روکنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کو غیر مؤثر کر سکیں۔

عدالت کے اس فیصلے کے خلاف امریکی حکام نے اپیل دائر کرنے کا عندیہ دیا ہے جب کہ اسانج کے وکیل کا کہنا ہے کہ وہ عدالت سے استدعا کرتے ہیں کہ اسانج کی ڈیڑھ سال سے زیرِ سماعت ضمانت کی درخواست پر فیصلہ کرتے ہوئے اُنہیں لندن کی جیل سے رہا کیا جائے۔

سماعت کے موقع پر جولیان اسانج کے علاوہ اُن کی پارنٹر اور دو بچے بھی کمرۂ عدالت میں موجود تھے۔

جولیان اسانج کے حامی اُن کی رہائی کے مطالبات کرتے رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)
جولیان اسانج کے حامی اُن کی رہائی کے مطالبات کرتے رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

اسانج کے امریکی وکیل کا کہنا تھا کہ عدالت کا فیصلہ اُن کے لیے باعثِ مسرت ہے۔

خیال رہے کہ جولیان اسانج پر 10 سال قبل عراق اور افغانستان کی جنگ سے متعلق امریکہ کی خفیہ فوجی دستاویزات لیک کرنے کا الزام ہے۔

امریکہ محکمۂ انصاف نے جولیان اسانج پر جاسوسی کے قانون کی خلاف ورزی اور خفیہ عسکری اور سفارتی راز افشا کرنے کے 17 الزامات عائد کرتے ہوئے مقدمہ قائم کیا تھا۔ ان جرائم کے ثابت ہونے پر زیادہ سے زیادہ 175 سال قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔

49 سالہ آسٹریلوی شہری اسانج کے وکلا کا مؤقف ہے کہ وہ بطور صحافی کام کر رہے تھے اور امریکی آئین کی پہلی ترمیم کے تحت اُنہیں اظہارِ رائے کی آزادی کا حق حاصل ہے۔

جولیان اسانج نے سات برس لندن میں ایکواڈور کے سفارت خانے میں گزارے تھے جس کے بعد اُنہیں برطانوی پولیس نے گرفتار کر لیا تھا۔

سال 2006 میں اپنے قیام سے لے کر جولیان اسانج کا اشاعتی ادارہ 'وکی لیکس' اپنی ویب سائٹ پر دنیا بھر میں جنگوں، فلم انڈسٹری، سفارتی گفتگو، سیاست، قومی سلامتی اور دیگر معاملات سے متعلق خفیہ معلومات پر مبنی ہزاروں دستاویزات لیک کر چکا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG