رسائی کے لنکس

logo-print

آبائی زبانوں میں اے اسٹار گریڈ لانے والے طلبہ کی تعداد میں اضافہ


اعداد و شمار سے ظاہر ہوا کہ کمیونٹی زبانوں میں امتحان دینے والے طالب علموں میں سے 36 فیصد طالب علم اے اسٹار گریڈ کے ساتھ پاس ہوتے ہیں

ایک رپورٹ سے پتا چلا ہے کہ برطانوی اسکولوں میں 'جی سی ایس ای' یا میٹرک کے نصاب میں دستیاب غیر ملکی زبانوں میں سے اردو، پولش اور مینڈارن یا چینی زبانوں میں امتحانات دینے والے طالب علموں کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔

روزنامہ انڈی پینڈنٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کمیونٹی زبانوں میں امتحانات دینے والے طالب علموں میں سے ہر تین میں سے ایک طالب علم اے اسٹار گریڈ کے ساتھ کامیابی حاصل کرتا ہے۔

اعداد و شمار سے ظاہر ہوا کہ کمیونٹی زبانوں میں امتحان دینے والے طالب علموں میں سے 36 فیصد طالب علم اے اسٹار گریڈ کے ساتھ پاس ہوتے ہیں جو کسی بھی دوسرے مضمون کے مقابلے میں اعلی ترین شرح ہے اور ریاضی میں اے اسٹار لانے والے طلبہ کے مقابلے میں سات گنا زیادہ ہے۔

بکنگھم یونیورسٹی کے ایجوکیشن اینڈ ایمپلائمنٹ ریسرچ سینٹر کے پروفیسر ایلن اسمتھ نے جی سی ایس ای کے رجحانات پر ایک مطالعے کی قیادت کی ہے ان کا کہنا تھا کہ تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ کمیونٹی زبانوں میں امتحانات دینے والے طلبہ کی تعداد میں 362 گنا اضافہ ہوا ہے اور پچھلی دو دہائیوں میں ایسے طلبہ کی تعداد 31,865 تک پہنچ گئی ہے۔

پروفیسر ایلن اسمتھ کے مطابق اسکول امتحانات کے نتائج بہتر بنانے کے لیے اور لیگ ٹیبل پر درجہ بندی کے فروغ کے لیے طلبہ کی آبائی زبانیں مثلاً اردو اور پولش کا استعمال کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان زبانوں کا مطالعہ کرنے والے طلبہ کی بڑی تعداد ایسے بچوں کی ہے جن کی یہ مادری زبانیں ہیں جبکہ کمیونٹی زبانوں کے امتحانات کو پہلی زبان کے طور پر انگریزی بولنے والے طلبہ کے لیے ڈیزائن کیا جاتا ہے اور جن طلبہ کی یہ مادری زبان ہے انھیں اس کا کافی فائدہ ہے جبکہ دوسری طرف فرانسیسی اور جرمن زبانوں میں امتحانات دینے والوں کی تعداد میں کمی ہو رہی ہے۔

دیگر غیر ملکی زبانوں میں ہسپانوی زبان کے طلبہ کی تعداد میں 1994 سے اب تک 156 فیصد اضافہ ہوا ہے جیسا کہ ہسپانوی زبان دنیا بھر میں انگریزی کی طرح کثرت سے بولی جاتی ہے۔

ایسوسی ایشن فار سکول اینڈ کالج کے جنرل سیکرٹری برائن لائٹ مین نے کہا کہ برطانوی اسکولوں میں کمونٹی زبان پڑھنے والے طلبہ کی تعداد میں اضافے سے ملک میں داخل ہونے والے تارکین وطن کی زبانوں اور آبادیاتی رجحانات کی عکاسی ہوتی ہے۔

تاہم محکمہ تعلیم کے ترجمان نے اس رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے ایک بیان میں کہا کہ یہ درست نہیں ہے کہ ان زبانوں میں جی سی ایس ای کے امتحانات آسان ہیں کیونکہ یہ زبان جاننے والوں کے لیے بھی بولنے، لکھنے اور فہم کی مہارت کی جانچ پڑتال کا امتحان ہے۔

رپورٹ سے یہ بھی پتا چلا کہ مذہبی تعلیم کے مضامین میں جی سی ایس ای پاس کرنے والے طلبہ کی تعداد میں بھی پچھلے سالوں میں حیران کن اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2014 میں پولش زبان کا امتحان دینے والے طالب علموں کی تعداد دیگر تمام زبانوں کے طالب علموں سے زیادہ تھی اس کے بعد دوسرے نمبر پر 4,498 طلبہ نے اردو زبان میں امتحان دیا۔ ان کے علاوہ پرتگالی، ترک، بنگالی، پنجابی، گجراتی اور فارسی میں امتحان دینے والے طالب علموں کی تعداد نمایاں رہی۔

XS
SM
MD
LG