رسائی کے لنکس

logo-print

یوکرین: ’جاسوسی‘، رُوسی ملٹری اتاشی ملک بدر


جمعرات کو یوکرین کی وزارت ِخارجہ نے ایک بیان میں، جس میں سفارتکار کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، بتایا ہے کہ سفارتکار کو ایک روز پہلے ’ناپسندیدہ شخص‘ قرار دے کر، ملک بدر کر دیا گیا ہے

یوکرین نے روس کے ملٹری اتاشی کو ملک بدر کر دیا ہے۔ یوکرین کا دعویٰ ہے کہ اس نے روس کے ملٹری اتاشی کو یوکرین کی نیٹو کے ساتھ تعاون پر مبنی حساس نوعیت کی معلومات تک رسائی پر ’رنگے ہاتھوں‘ پکڑا ہے۔

یوکرین کی وزارت ِخارجہ کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ ایک بیان میں، جس میں سفارتکار کا نام نہیں ظاہر کیا گیا، بتایا گیا ہے کہ سفارتکار کو ایک روز پہلے یوکرین سے بے دخل کر دیا گیا ہے اور انہیں ’ناپسندیدہ شخص‘ بھی قرار دیا گیا ہے۔

یوکرین کی سیکورٹی سروس کا کہنا ہے کہ مذکورہ سفارتکار مبینہ طور پر روس کا ایک انٹیلی جنس اہل کار تھا جو یوکرین اور نیٹو کے درمیان سیاسی و فوجی تعاون کے حوالے سے حساس معلومات اکٹھی کر رہا تھا۔

اِس سلسلے میں، روس کی جانب سے کوئی فوری رد ِعمل ظاہر نہیں کیا گیا۔

جمعرات ہی کے روز روس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں روسی صدر ولا دیمیر پوٹن نے جرمن چانسلر آنگلا مرخیل کو کہا ہے کہ یوکرین کی جانب سے جنوبی مشرقی سرحدوں سے فوج کو ہٹانا، پُرتشدد کارروائیاں روکنا اور قومی سطح پر مذاکرات کا آغاز کیا جانا ضروری ہے۔

روسی حکومت کے مطابق، دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ گفتگو جرمن چانسلر کی جانب سے روس کے صدر کو کیے جانے والی ٹیلی فون کال پر ہوئی۔

جرمن چانسلر نے روسی صدر سے کہا کہ وہ یوکرین میں روس نواز علیحدگی پسندوں کے قبضے میں موجود یورپین ملٹری آبزرورز کو آزاد کرانے میں مدد کریں۔

اس سے قبل جمعرات ہی کے روز روسی وزیر ِخارجہ سرگئی لاوروف نے ایک بیان میں یوکرین اور روس نواز علیحدگی پسندوں کے درمیان مذاکرات پر زور دیا تھا۔


XS
SM
MD
LG