رسائی کے لنکس

logo-print

یوکرین: باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں کو فنڈز کی فراہمی بند


خودساختہ طور پر علیحدگی اختیار کرنے والے اِن علاقوں نے یوکرین کے احکامات کی انحرافی کرتے ہوئے، اتوار کو انتخابات منعقد کیے، جن کا مقصد کئیف سے خودمختاری کا ڈھونگ رچانا تھا

یوکرین نے ملک کے اُن مشرقی علاقوں کو حکومتی رقوم کی فراہمی بند کرنے کا اعلان کیا ہے، جو روس نواز علیحدگی پسندوں کے زیر کنٹرول ہیں۔

بدھ کے دِن، وزیر اعظم آرسنی یاتسنیک نے اعلان کیا ہے کہ دونیسک اور لہانسک کے علاقوں کو فنڈز کی فراہمی اُس وقت تک بند رہے گی جب تک یہ ’دہشت گردوں‘ کے قبضے میں ہیں۔

مسٹر یاتسینک نے یہ بیان کابینہ کے اجلاس سے خطاب کے دوران دیا۔ اُنھوں نے کہا کہ حکومت اِن علاقوں کو گیس اور بجلی فراہم کرتی رہے گی۔

خودساختہ طور پر ملک سے علیحدہ ہونے والے اِن علاقوں نے یوکرین کے احکامات کی انحرافی کرتے ہوئے، اتوار کو انتخابات منعقد کیے، جن کا مقصد کئیف سے خودمختاری کا ڈھونگ رچانا تھا۔

اب تک، صرف روس نے ہی اِن انتخابات کو تسلیم کیا ہے، جن کی مذمت کرتے ہوئے، امریکہ، اقوام متحدہ اور دیگر ملکوں نے اِنھیں ’بےفائدہ اور غیر قانونی‘قرار دیا ہے۔

باغیوں کے زیر قبضہ علاقے میں دو ماہ پرانی جنگ بندی بمشکل جاری ہے، جب کہ یوکرین کی فوجوں اور علیحدگی پسند دھڑوں کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپیں جاری ہیں۔

شہری انتظامیہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بدھ کے دِن ہونے والی گولہ باری کے نتیجے میں، دو نوجوان ہلاک جب کہ تین زخمی ہوئے، ایسے میں جب وہ دونیسک کے باغیوں کے زیرِ کنٹرول علاقے میں واقع ایک اسکول کے کھیل کے میدان میں کھیل کود میں مصروف تھے۔

یوکرین کی قومی سلامتی اور دفاعی کونسل کے ایک ترجمان، ایندری لسینکو نے بتایا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران یوکرین کے دو فوجی اہل کار ہلاک جب کہ نو زخمی ہوئے۔

XS
SM
MD
LG