رسائی کے لنکس

logo-print

انسان نے دس لاکھ سے زیادہ جاندار اقسام کی بقا خطرے میں ڈال دی


امریکہ کا گنجا عقاب، فائل فوٹو

حیاتیات کے گونا گوں اقسام سے متعلق اقوام متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وسیع تر تحقیق سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انسانی سرگرمیاں 10 لاکھ سے زیادہ اقسام کے پودوں، کیڑوں مکوڑوں اور جانوروں کی بقا کے لیے خطرہ بن ر ہی ہیں۔ تاہم اس رپورٹ میں اس اہم مسئلے کا حل بھی پیش کیا گیا ہے۔

انٹر گورنمینٹل سائنس پالیسی پلیٹ فارم آن بائیو ڈائیورسٹی اینڈ ایکو سسٹم سروسز کی جاری کردہ رپورٹ میں حیاتیات کی لاکھوں اقسام کی معدومی کے خطرے کو موضوع بنایا گیا ہے۔

رپورٹ میں چونکا دینے والے انکشافات کیے گئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ کرہ ارض کے تنوع میں جس تیزی سے کمی آ رہی ہے، اس کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔

دس لاکھ سے زیادہ اقسام کی نباتات، اور چرند پرند معدومی کے خطرے سے دوچار ہیں۔ ان میں ہمارے قریب ترین رشتہ داروں سے لے کر، ہمارے سمندروں، فضاؤں اور زمین پر رہنے والے سب سے بڑے جانور تک شامل ہیں۔

ایکواڈور کی نایاب شارک
ایکواڈور کی نایاب شارک

​رپورٹ جاری کرنے والی تنظیم کے سربراہ، رابرٹ واٹسن کہتے ہیں کہ ہم اپنے زیادہ تر قدرتی جنگلات اور قدرتی دلدلی علاقے کھو چکے ہیں، اور اسی لیے ہمیں متنوع حیات کی معدومی کے مسئلے کو بھی اتنی ہی زیادہ اہمیت دینے کی ضرورت ہے جتنی کہ ماحولیاتی تبدیلی کو دی جا رہی ہے۔ یہ صرف ماحول سے جڑا معاملہ نہیں ہے، یہ ایک معاشی معاملہ بھی ہے، ترقی سے متعلق، سلامتی سے متعلق، یہ ایک سماجی اور اخلاقی مسئلہ بھی ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 1990 سے اب تک زمین پر رہنے والے جانوروں کی اقسام میں لگ بھگ 20 فی صد کمی ہو چکی ہے۔ اس وقت خشکی اور پانی کے جانوروں کی 40 فی صد، جب کہ آبی حیات کی ایک تہائی اقسام کو معدومی کےخطرے کا سامنا ہے۔​

برفانی چیتا جس کی نسل کو مٹنے کا خطرہ درپیش ہے۔
برفانی چیتا جس کی نسل کو مٹنے کا خطرہ درپیش ہے۔

​انسانی سرگرمیاں، جن میں سمندروں کو آلودہ کرنے اور زیادہ سے زیادہ مچھلیاں پکڑنے، اس کے نتیجے میں ماحولیاتی تبدیلیاں، اور اس کے ساتھ ساتھ درخت کاٹنے اور زیادہ سے زیادہ کھتی باڑی سے زمین کا بنجر ہونا، معدومی اور انحطاط کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔

اس رپورٹ کی توثیق کرنے والے امریکہ سمیت ایک سو پچاس ممالک میں یہ واضح اتفاقِ رائے پایا جاتا ہے کہ کچھ نہ کچھ تو تبدیل ہونا چاہئیے۔

اس بارے میں باب واٹسن کہتے ہیں کہ صورت حال کو جوں کا توں چلتے رہنے دینا تباہ کن ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح ہم ٕماحول میں آنے والی تبدیلی کو جاری رکھیں گے۔ ہم متنوع حیات کو بھی معدوم ہوتے دیکھتے رہیں گے، لیکن اگر ہم درست پالیسیاں اور ٹیکنالوجی اپنائیں تو ہم ایک پائیدار مستقبل حاصل کر سکتے ہیں۔ اگر ہم رویوں کو تبدیل کریں تو ہم اپنے بچوں اور اُن کے بچوں کو کہیں بہتر اور پائیدار مستقبل دے سکتے ہیں۔

الاسکا میں پایا جانے والا ایک نایاب آبی جانور
الاسکا میں پایا جانے والا ایک نایاب آبی جانور

​رپورٹ کے مصنفین کہتے ہیں کہ اس مسئلے کے حل کا آغاز اس وقت ہو گا جب ہم زرافوں اور ہاتھیوں سے لے کر چھپکلیوں اور پرندوں سمیت تمام اقسام کی حیات کی ایک جیسی اہمیت اور قدر جانیں گے۔

مصنفین کہتے ہیں کہ وہ خرابی جو ہم نے خود پیدا کیا ہے، اس کا درستگی کا عمل تب شروع ہو گا جب ہم اپنی کوششوں میں حیات کی تمام اقسام کی قدر و قیمت کو شامل کریں گے۔ رابرٹ واٹس کہتے ہیں کہ ہمیں ستھری قسم کی ٹیکنالوجی کو تحریک اور ترغیب دینے کی ضرورت ہے، اور ہمیں صرف جی ڈی پی کی جانب توجہ دینے کی ہی ضرورت نہیں ہے، بلکہ ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہو گا کہ فطرت از خود سب سے بڑا سرمایہ ہے، اور ہمیں انسانی سرمائے سمیت سماجی اور قدرتی سرمائے کو بھی ترقی دینے کی ضرورت ہے۔

نایاب نسل کا گینڈا
نایاب نسل کا گینڈا

​رپورٹ کے اختتام میں کہا گیا ہے کہ اگر انسان نے جوش و خروش کے ساتھ پائیدار مستقبل کی تشکیل کے لیے کام شروع کر دیا، تو بدترین ممکنات سے بچنا ممکن ہو سکے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG