رسائی کے لنکس

logo-print

عالمی حدت کا باعث بننے والی گیسوں کے اخراج میں ریکارڈ اضافہ


عالمی موسمیاتی ادارے کی سیکرٹری جنرل مشیل ژارو نے بدھ کو جاری کیے گئے بیان میں کہا کہ اگر حالات میں تبدیلی نہیں آئی تو 2100ء تک عالمی حدت میں 4.6 ڈگری سینٹی گریڈ تک اضافہ ممکن ہے۔

اقوامِ متحدہ کے موسمیات سے متعلق ذیلی ادارے کا کہنا ہے کہ عالمی حدت کی وجہ بننے والی تین بنیادی گیسوں کا ماحول میں تناسب 2012ء میں اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا۔

عالمی موسمیاتی ادارے نے بدھ کو کہا کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ، میتھین اور نائیٹرس آکسائڈ کی نئی بلند ترین سطح کے تناظر میں عالمی حدت کو دو ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود کرنے سے متعلق اقوام متحدہ کا ہدف حاصل کرنے کے امکانات پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔

یہ اعداد و شمار ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب ماحولیاتی معاہدے سے متعلق 190 ممالک کے نمائندے وارسا میں ملاقات کرنے والے ہیں، جس میں وہ 2015ء تک گرین ہاؤس گیسوں میں کمی سے متعلق عالمی معاہدے پر تبادلہ خیال کریں گے۔

عالمی موسمیاتی ادارے کی سیکرٹری جنرل مشیل ژارو نے بدھ کو جاری کیے گئے بیان میں کہا کہ اگر حالات میں تبدیلی نہیں آئی تو 2100ء تک عالمی حدت میں 4.6 ڈگری سینٹی گریڈ تک اضافہ ممکن ہے۔
XS
SM
MD
LG