رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان میں ہلاک و زخمی افراد کی تعداد میں اضافہ: رپورٹ


اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق رواں برس اب تک 1592 افراد ہلاک اور 3329 زخمی ہو چکے ہیں جو کہ گزشتہ برس اس عرصے میں ہونے والے جانی نقصان سے ایک فیصد زائد ہیں۔

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ جنگ سے تباہ حال ملک افغانستان میں رواں سال اندازہ ہے کہ مسلح تنازعات کے باعث شہری ہلاکتوں کی تعداد سب سے ہلاکت خیز برس کے برابر یا اس سے زائد ہو سکتی ہے۔

یہ بات اقوام متحدہ کے معاون مشن برائے افغانستان (یو این اے ایم اے) نے بدھ کو کابل میں "مسلح تنازعات میں شہری تحفظ کی ابتدائی رپورٹ برائے 2015" میں بتائی۔

2014ء افغانستان میں شہری ہلاکتوں کے ضمن میں سب سے ہلاکت خیز سال رہا اور رواں برس اب تک 1592 افراد ہلاک اور 3329 زخمی ہو چکے ہیں جو کہ گزشتہ برس اس عرصے میں ہونے والے جانی نقصان سے ایک فیصد زائد ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ہلاک و زخموں ہونے والوں میں نوے فیصد سڑک میں نصب بم پھٹنے، خودکش حملوں اور ہدف بنا کر قتل کی وارداتوں کا نشانہ بنے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ شہری جانی نقصان میں سے 15 فیصد افغان فورسز اور حکومت کی حامی ملیشیا کی کارروائیوں اور ایک ایک فیصد نیٹو اور امریکی فورسز کی کارروائیوں میں ہوا۔

مشن کے سربراہ نکولس ہیسوم کا کہنا ہے کہ افغان شہریوں نے اس تباہ کن تنازع کے باعث بے حد نقصان اٹھایا ہے۔

ان کے بقول رپورٹ میں بتائے گئے اعداد و شمار اس بات کے متقاضی ہیں کہ "یہاں جلد از جلد امن قائم کرنے کی ضرورت ہے۔"

افغانستان میں انسانی حقوق کے ایک کارکن اور ایک مقامی تنظیم سے وابستہ لال گل لال نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ان ہلاکتوں میں سے زیادہ تر تو حکومت کے خلاف برسرپیکار جنگجوؤں کے حملوں میں ہوئیں۔

’’عام شہریوں کا جو جانی نقصان ہو رہا ہے وہ تو یقیناً ہمارے لوگوں کے لیے فکر مندی اور تشویش کی بات ہے، کیوں عام شہریوں کا جانی نقصان (بہت) بڑھ گیا۔ کسی بھی طرف سے اس میں کمی (نہیں ہو رہی)، کیوں بین الاقوامی قانون، اسلامی قانون اور ملکی قانون کا احترام نہیں کیا جا رہا ہے۔‘‘

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق کے اشتراک سے تیار کی گئی تازہ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ خواتین کے جانی نقصان میں 23 فیصد اور ہلاک و زخمی ہونے والے بچوں کی تعداد میں 13 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

’یو این اے ایم اے‘ نے 2007ء سے افغانستان میں ہونے والی شہری ہلاکتوں کا ریکارڈ جمع کرنا شروع کیا تھا اور اس کے مطابق گزشتہ برس دس ہزار سے زائد شہری ہلاک و زخمی ہوئے تھے۔

بدھ کو جاری ہونے والی رپورٹ میں تمام فریقین سے کہا گیا کہ شہری جانی نقصان سے بچنے کے لیے کلیدی اقدام کریں۔

XS
SM
MD
LG