رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان: گزشتہ چھ ماہ میں عام شہریوں کی ریکارڈ ہلاکتیں


عالمی ادارے کے مطابق گزشتہ ایک دہائی کے دوران کسی بھی سال کی پہلی ششماہی میں افغانستان میں عام شہریوں کی اتنی ہلاکتیں نہیں ہوئیں۔

اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ 2018ء کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران افغانستان میں پیش آنے والے مختلف پرتشدد واقعات اور حملوں میں لگ بھگ 1700 عام شہری ہلاک ہوئے۔

عالمی ادارے کے مطابق گزشتہ ایک دہائی کے دوران کسی بھی سال کی پہلی ششماہی میں افغانستان میں عام شہریوں کی اتنی ہلاکتیں نہیں ہوئیں۔

افغانستان میں ہلاکتوں سے متعلق یہ ششماہی رپورٹ اقوامِ متحدہ کے افغان مشن نے اتوار کو جاری کی ہے جس کے مطابق جنوری سے جون 2018ء کے دوران ملک بھر میں مختلف پرتشدد واقعات میں ساڑھے تین ہزار کے قریب عام شہری زخمی بھی ہوئے۔

عالمی ادارے کے افغان مشن کے سربراہ تادامیچی یاما موتو نے رپورٹ کے اجرا کے موقع پر کہا ہے کہ اقوامِ متحدہ افغان تنازع کے تمام فریقوں پر زور دیتی ہے کہ وہ اس مسئلے کے پرامن حل کا کوئی موقع ضائع نہ جانے دیں کیوں کہ ان کے بقول تمام شہریوں کی حفاظت یقینی بنانے کا یہی بہترین راستہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق رواں سال کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران افغانستان میں 1692 عام شہری ہلاک ہوئے۔ یہ تعداد 2017ء کی ابتدائی ششماہی کے مقابلے میں ایک فی صد زیادہ ہے۔

افغانستان کے لیے اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی تادامیچی یاماموتو (فائل فوٹو)
افغانستان کے لیے اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی تادامیچی یاماموتو (فائل فوٹو)

البتہ اس عرصے کے دوران زخمی ہونے والے افراد کی تعداد 3430 رہی جو گزشتہ سال کے ابتدائی چھ ماہ کے مقابلے میں پانچ فی صد کم ہے۔

رپورٹ میں اس تاثر کی تصدیق کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ عید الفطر کے موقع پر افغان حکومت اور طالبان کی جانب سے کی جانے والی جنگ بندی کے دوران ملک بھر میں کوئی ایسا قابلِ ذکر واقعہ پیش نہیں آیا جس میں عام شہریوں کو نقصان پہنچا ہو۔

البتہ اس جنگ بندی کے دوران شدت پسند تنظیم داعش کی جانب سے مشرقی صوبے ننگرہار میں کیے جانے والے دو خود کش حملوں میں عام شہری ہلاک اور زخمی ہوئے۔

عالمی ادارے کے افغان مشن کے سربراہ نے کہا ہے کہ مختصر جنگ بندی کی کامیابی سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ افغانستان میں لڑائی مستقل طور پر روکی جاسکتی ہے اور افغان شہریوں کو اس جنگ کا ایندھن بننے سے بچایا جاسکتا ہے۔

کابل میں ایک حملے کے بعد جائے واقعہ پر تعینات برطانوی فوجیوں کے نزدیک سے افغان خواتین گزر رہی ہیں۔
کابل میں ایک حملے کے بعد جائے واقعہ پر تعینات برطانوی فوجیوں کے نزدیک سے افغان خواتین گزر رہی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں عام شہریوں کو سب سے زیادہ نقصان گھریلو ساختہ بموں سے پہنچ رہا ہے جو گزشتہ کئی برسوں کی طرح اس سال بھی ملک بھر میں شہری ہلاکتوں کی سب سے بڑی وجہ رہے۔

یہ گھریلو ساختہ بم عموماً طالبان اور دیگر شدت پسند گروہ حکام اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ چھ ماہ کے دوران مرنے والے عام شہریوں کی نصف تعداد ایسے ہی خود کش اور غیر خود کش گھریلو ساختہ بموں کا نشانہ بنی۔ یہ تعداد گزشتہ سال کے ابتدائی چھ ماہ کے مقابلے میں 22 فی صد زیادہ ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے مقابلے میں داعش کے حملوں میں زیادہ عام شہری ہلاک ہوئے اور گزشتہ چھ ماہ کے دوران کل مرنے والے عام شہریوں میں سے 52 فی صد داعش کے خود کش اور دیگر حملوں میں مارے گئے۔

رپورٹ کے مطابق افغان حکومت اور اس کے اتحادیوں کے فضائی حملوں میں جنوری سے جون 2018ء کے دوران 149 عام شہری ہلاک ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق افغان حکومت اور اس کے اتحادیوں کے فضائی حملوں میں جنوری سے جون 2018ء کے دوران 149 عام شہری ہلاک ہوئے۔

طالبان کے حملوں میں مرنے والوں کی تعداد 40 فی صد رہی جب کہ باقی ماندہ آٹھ فی صد رپورٹ کے مطابق دیگر "حکومت مخالف عناصر" کے حملوں کے نتیجے میں جان سے گئے۔

عالمی ادارے کے افغان مشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ افغان حکومت اور اس کے اتحادیوں کے فضائی حملوں میں جنوری سے جون 2018ء کے دوران 149 عام شہری ہلاک ہوئے۔

ان ہلاکتوں میں سے 52 فی صد افغان فورسز جب کہ 45 فی صد نیٹو فورسز کے فضائی حملوں میں ہوئیں۔

اپنی رپورٹ میں اقوامِ متحدہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ افغانستان میں طویل تاخیر کے بعد رواں سال 20 اکتوبر کو ہونےو الے پارلیمانی اور صوبائی کونسلوں کے انتخابات کے دوران شدت پسندوں کے حملوں میں اضافہ ہوسکتا ہے جس کا زیادہ نقصان عام شہریوں کو ہی پہنچے گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG