رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ کا سعودی عرب میں فوج بھیجنے کا اعلان


امریکہ کے سیکریٹری دفاع مارک ایسپر۔ (فائل فوٹو)

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حملے کے بعد سعودی عرب کے میزائل شکن نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے فوج بھیجنے کی منظوری دے دی ہے۔

خیال رہے کہ چند روز قبل سعودی عرب میں موجود دنیا کی سب سے بڑی تیل تنصیبات آرامکو پر میزائل حملے کیے گئے تھے۔ جس سے تیل کی پیداوار بھی کم ہو گئی تھی۔ یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی لیکن امریکہ نے اس حملے کا ذمہ دار ایران کو ٹھہرایا تھا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پینٹاگون نے تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب میں مناسب تعداد میں فوج بھیجی جا رہی ہے۔ یہ تعداد ہزاروں میں نہیں تاہم اس کا بنیادی مقصد دفاع ہے۔ اس سے قبل امریکہ سعودی عرب میں انٹی میزائل سسٹم، ڈرونز اور طیارہ بردار جنگی بیڑہ تعینات کرنے کا بھی عندیہ دے چکا ہے۔

امریکہ کے سیکریٹری دفاع مارک ایسپر نے نیوز کانفرنس کے دوران بتایا کہ سعودی عرب کی درخواست پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوج بھیجنے کی منظوری دے دی ہے۔ ان کے بقول فوج دفاعی نوعیت کے فرائض سرانجام دے گی اور اس کا بنیادی مقصد میزائل حملوں کا دفاع کرنا ہو گا۔

سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی تھی۔
سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی تھی۔

مارک ایسپر کا کہنا تھا کہ امریکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو اسلحے کی فروخت کا عمل بھی تیز کر دے گا تاکہ یہ دونوں ممالک اپنی دفاعی صلاحیت میں اضافہ کر سکیں۔

جمعے کو ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی نہ کرنے کی ان کی پالیسی کے بہتر نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ ان کے بقول انہوں نے ایران پر مزید پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

خیال رہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے قومی بینک پر پابندیاں لگا دی تھیں۔ صدر کا کہنا تھا کہ یہ کسی بھی ملک پر نافذ کی جانے والی سخت ترین پابندیاں ہیں۔

صدر کا کہنا تھا کہ ان کے لیے یہ بہت آسان ہے کہ ایران میں 15 مختلف مقامات کو تباہ کر دیں لیکن وہ ایسا نہیں چاہتے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ کی جانب سے سعودی عرب میں فوج بھیجنے کا اعلان ایران کو مزید ناراض کر سکتا ہے۔ جو اس قبل بھی خطے میں امریکی فوج کی موجودگی پر معترض رہا ہے۔ ایران سعودی عرب میں ہونے والے حالیہ حملوں کی سختی سے تردید کرتا رہا ہے۔

یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کی تیل کی دو بڑی تنصیبات پر ڈرون حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے اور واشنگٹن ڈی سی اور تہران ایک بار پھر آمنے سامنے آگئے ہیں۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک سال قبل اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کرلی تھی جس کے بعد سے ان کی حکومت ایران پر اقتصادی پابندیاں سخت کرتی جا رہی ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران پر مزید اقتصادی پابندیاں عائد کر دی گئیں ہیں۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران پر مزید اقتصادی پابندیاں عائد کر دی گئیں ہیں۔

امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ پابندیاں مزید سخت کرنے کا مقصد ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانا اور اسے مزید سخت شرائط کے حامل کسی نئے جوہری معاہدے پر مجبور کرنا ہے۔

لیکن امریکی پابندیوں کے ردِ عمل میں ایران بتدریج جوہری معاہدے میں طے کی جانے والی شرائط کی خلاف ورزیاں بڑھا رہا ہے ۔ تہران حکومت کا مؤقف ہے کہ اگر معاہدے میں شریک یورپی طاقتوں نے ایران کو امریکی پابندیوں سے بچانے کے لیے کردار ادا نہ کیا تو وہ جوہری معاہدے پر مکمل طور پر عمل درآمد روک دے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG