رسائی کے لنکس

logo-print

نیو یارک: انتخابی عمل میں نوجوان ووٹروں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی


نیویارک یونیورسٹی کی طالبہ، میلسا برونو پائیگر نے اس بات کو اجاگر کیا کہ ''کسی کو بھی ووٹ دیں، لیکن دیں ضرور۔ کیونکہ امریکہ میں لوگ ووٹ دینے میں تساہل برتتے ہیں۔ اس لیے، اگر آپ ریپبلیکن ہیں، آپ ٹرمپ کو ووٹ دینا چاہتے ہیں، ضرور دیں۔ لیکن ووٹ دیں ضرور''

نیویارک شہر میں امریکی صدارتی امیدواروں کے بارے میں لوگوں کے آرا اتنی ہی مخلتف ہیں جتنا کہ شہر خود بھانت بھانت کی آبادی پر مشتمل ہے۔

نیویارک کے کچھ مکین ڈونالڈ ٹرمپ کے حامی ہیں، مثلاً جین جمینز۔ وہ کہتی ہیں کہ ''میرے خیال میں وہ ایک اچھے کاروباری شخص ہیں۔ اور میں سمجھتی ہوں کہ، مالی اعتبار سے، ہمیں ایسے ہی شخص کی ضرورت ہے جو اِس قسم کا تجربہ رکھتا ہو''۔

دوسری جانب، نیویارک میں مقیم، شیرون سمپکنس ٹرمپ کو پسند نہیں کرتیں۔ وہ کہتی ہیں ''ٹرمپ؟ اُن کو بھول جائیں۔ ہم اُن کے لیے بات کرکے وقت ضائع نہیں کرنا چاہتے''۔

تاہم، گذشتہ بدھ کو واشنگٹن اسکوائر پارک میں منعقد ہونے والی ایک ریلی میں، اس بات میں کوئی شک نہیں کے لوگوں کی خاصی بھیڑ تھی۔ ایک اطلاع کے مطابق، مجمے میں 27000 افراد تھے جو برنی سینڈرز کی حمایت میں جمع تھے، جنھوں نے گھروں پر تیار کردہ اسٹکرز اور بینر ہاتھوں میں اٹھا رکھے تھے، جن میں 'برنی 2016' تحریر تھا۔ ریلی میں زیادہ تر نوجوان تھے جو پہلی بار ووٹ دے رہے ہیں، جیسا کہ نیویارک یونیورسٹی کے طالب علم، عزا اود۔

تاریخ کی پرکھ

اود کے بقول، ''میں تاریخ کا حصہ بننا چاہتا ہوں۔ میں پہلی بار ووٹ دوں گا۔۔۔ اور بعد میں اسے یاد کرکے مجھے اچھا محسوس ہوگا کہ ووٹنگ کا عمل کیا ہوتا ہے''۔ ایک نوجوان مسلمان کی حیثیت سے، اود کا بھی یہی کہنا ہے کہ دوسرے امیدوار کے مقابلے میں سینڈرز میں برداشت کا رویہ زیادہ ہے۔ بقول اُن کے'' وہ مجھے محسوس کراتے ہیں کہ میں امریکی ہوں، اور اُن کی یہ بات اچھی لگتی ہے، خاص طور پر آج کل کے دور میں''۔

اود نے مزید کہا کہ ''وہ ہمیں بُرا نہیں سمجھتے، جیسا کہ کچھ دیگر امیدوار خیال کرتے ہیں''۔

نیویارک یونیورسٹی کی طالبہ، فٹس مورس کہتی ہیں کہ اُنھیں لگا کہ اس ریلی میں شرکت کی جانی چاہیئے۔ بقول اُن کے، ''میرے خیال میں یہ دکھانا بہت ضروری ہے کہ اُنھیں کافی حمایت حاصل ہے، چونکہ میں سمجھتی ہوں کہ اس وقت ذرائع ابلاغ میں اُنھیں مناسب تشہیر نہیں مل رہی''۔

تاریخی 'واشنگٹن اسکوائر آرک' کے سائے تلے موسیقی کے بینڈ 'ویمپائر ویک اینڈ' اور 'ڈرٹی پرجیکٹرز' نے گانے گا کر ریلی کے شرکا کو گرمائے رکھا۔ نوجوان حامیوں نے یہ بتانے میں دیر نہیں لگائی کہ اُن کے خلاف میں برنی سینڈرز کو کیوں صدر ہونا چاہیئے۔

نیویارک یونیورسٹی کے نئے طالب علم، اسٹفنی ہوک نے کہا کہ ''اُن کے پیغام میں یکسوئی کا عنصر غالب رہا ہے، یہی وہ پیغام ہے جو اُٗس وقت بھی دیا کرتے تھے جب وہ شہری حقوق کی تحریک کا حصہ تھے''۔

نیتزا اِپیفانو 'جان جے کالج' میں 'کریمینل جسٹس' کی تعلیم حاصل کررہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ کالج کی بڑھتی ہوئی فی ایک اور وجہ ہے جس بناپر ہم سینڈرز کی حمایت کرتے ہیں۔ بقول اُن کے، ''برنی ہمارے لیے لڑ رہا ہے، تاکہ ہمیں مفت تعلیم ملے، لیکن یہ اعلیٰ معیار کی تعلیم ہو۔ اور میرے خیال میں مجھے فائدہ نہیں ہوگا، لیکن آئندہ کالج جانے والی نسل کو یقیناً فائدہ ہوگا''۔

دیگر لوگ اس لیے ریلی کا حصہ بنے کہ اُنھیں جاننے کی ضرورت تھی کہ کسے ووٹ دیا جائے۔

ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا

کیٹی نامی طالب علم نے ابھی یہ فیصلہ نہیں کیا آیا وہ ہیلری کلنٹن یا سینڈرز کو ووٹ دیں گے۔ اُن کے الفاظ میں ''مجھے ابھی فیصلہ کرنا ہے۔ میں ہمیشہ سے ہیلری کلنٹن کو پسند کرتا رہا ہوں کیونکہ وہ ایک طاقتور خاتون ہیں اور اِسی کی ہمارے ملک کو ضرورت ہے۔ لیکن، میں برنی کے لیے بھی اچھے خیالات رکھتا ہوں، جس موقف پر وہ کھڑے ہیں''۔

شہر کی سڑکوں پر، کچھ نوجوان ووٹروں نے خاص نوعیت کی تشویش کا اظہار کیا۔ میکسی آرم اسٹرونگ بہت خوش ہیں کہ وہ پہلی مرتبہ ووٹ ڈالیں گی، اور وہ چاہتی ہیں کہ 'ہم جنس پرست' اور' گے' کمیونٹی کی ضروریات کو اجاگر کیا جائے۔

بقول اُن کے، ''میرے خیال میں ہم جنس پرست، خاص طور پر وہ جن کا تعلق سیاہ فام خواتین سے ہے، اُن کے خلاف بہت امتیاز برتا جا رہا ہے۔ برنی نے اُس برادری کے حق میں آواز بلند کی ہے، لیکن میں نے ہیلری کو کچھ کہتے نہیں سنا''۔

نیو یارک کی باسی، جنیفر جونز اقلیتوں کے لیے روزگار کے زیادہ مواقع کی خواہاں ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ''ہیلری کلنٹن ایک ہی قسم کے کام کے لیے مساوی اجرت کی بات کرتی ہیں، لیکن زیادہ تر اقلیتیں، ہماری طرح کے لوگ اچھا روزگار چاہتے ہیں''۔

اُن کی پسند مختلف ہے، لیکن سارے ایک ہی بات پر متفق ہیں کہ انتخابی عمل میں شرکت کرنا اہمیت کا حامل ہے۔

نیویارک یونیورسٹی کی طالبہ، میلسا برونو پائیگر نے اس بات کو اجاگر کیا کہ ''کسی کو بھی ووٹ دیں، لیکن دیں ضرور۔ کیونکہ امریکہ میں لوگ ووٹ دینے میں تساہل برتتے ہیں۔ اس لیے، اگر آپ ریپبلیکن ہیں، آپ ٹرمپ کو ووٹ دینا چاہتے ہیں، ضرور دیں۔ لیکن ووٹ دیں ضرور''۔

XS
SM
MD
LG