رسائی کے لنکس

logo-print

ہیلمند: امریکی فضائی کارروائی، طالبان ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا


مزید تفصیل بتائے بغیر، امریکی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ ’’اِن حملوں میں طالبان کے حربی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ایسے میں جب سنگین کے دفاع کی کوششیں جاری ہیں، ہم اپنے افغان ساتھیوں کی جارحانہ حکمتِ عملی پر مبنی مدد جاری رکھیں گے‘‘

امریکی فوج نے منگل کے روز جنوبی صوبہٴ ہیلمند کے کلیدی ضلع کے وسط میں فضائی کارروائی کی، تاکہ افغان سکیورٹی فورسز طالبان کے اس اہم حملے سے نمٹ سکیں۔
پیر کے روز علی الصبح سنگین کے قصبے کے قرب و جوار میں شدید لڑائی جاری رہی، جب باغیوں نے اس پر دھاوا بولنے کے لیے ایک مربوط حملہ کیا۔

امریکی فوج کے ترجمان نے منگل کے روز ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سنگین کے مضافات میں اندازاً 10 فضائی حملے کیے گئے۔

مزید تفصیل بتائے بغیر، ترجمان نے ایک تحریری بیان میں کہا ہے کہ ’’اِن حملوں میں طالبان کے حربی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ایسے میں جب سنگین کے دفاع کی کوششیں جاری ہیں، ہم اپنے افغان ساتھیوں کی جارحانہ حکمتِ عملی پر مبنی مدد جاری رکھیں گے‘‘۔

صورتِ حال کا جائزہ لینے کے لیے، افغانستان کے چیف اگزیکٹو، عبداللہ عبداللہ منگل کے روز صوبائی دارالحکومت، لشکر گاہ پہنچے۔

ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ عبد اللہ نے سکیورٹی افواج کو ہدایات جاری کیں کہ باغیوں کو ہیلمند سے باہر نکال دیا جائے، قبل اس کے کہ موسمِ بہار میں لڑائی شدت اختیار کرے۔

طالبان کے ایک ترجمان، قاری یوسف احمدی نے پیر کے روز بتایا کہ اُس کے لڑاکوں نے کم از کم 25 سرکاری چوکیوں پر قبضہ کر لیا ہے، جب کہ 100 سے زائد فوجیوں اور پولیس والوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔

علاقائی فوجی کمانڈر، جنرل ولی محمد نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ باغیوں نے شہری آبادی میں واقع گھروں کی اوٹ سے سرنگیں نکال کر یہ حملہ کیا۔

ہیلمند کے زیادہ تر علاقے پر طالبان کا کنٹرول ہے۔ حکومت کا مؤثر کنٹرول صرف لشکر گاہ اور چند مضافاتی اضلاع کے مراکز تک ہی محدود ہے۔

XS
SM
MD
LG