رسائی کے لنکس

logo-print

طالبان مذاکرات میں شریک نہ ہوئے تو تشدد میں اضافہ ہو گا: جان کربی


طالبان نے ہفتے کو کہا تھا وہ افغانستان، پاکستان، چین اور امریکہ کے نمائندوں کی کوششوں سے ہونے والے مذاکرات میں شریک نہیں ہوں گے جس سے امن عمل کی بحالی کے بارے میں شبہات نے جنم لیا ہے۔

امریکہ نے ایک بار پھر طالبان سے کہا ہے کہ وہ مذاکرات میں شریک ہوں اور اگر ایسا نا ہوا تو افغان اور امریکی فورسز کو موسم بہار اور گرما میں بڑھتے ہوئے تشدد کے لیے تیار رہنا ہو گا۔

طالبان نے ہفتے کو کہا تھا کہ وہ افغانستان، پاکستان، چین اور امریکہ کے نمائندوں کی کوششوں سے ہونے والے مذاکرات میں شریک نہیں ہوں گے جس سے امن عمل کی بحالی کے بارے میں شبہات نے جنم لیا ہے۔

محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے پیر کو کہا کہ امریکہ افغان صدر اشرف غنی کی طرف سے شدت پسند گروہوں کو کابل حکومت سے مذاکرات کی اپیل کی حمایت کرتا ہے۔

جان کربی نے کہا کہ ’’ان (طالبان) کے پاس اور کوئی چارہ نہیں۔ اپنے افغان ہم وطنوں سے جنگ جاری رکھنے اور ملک میں عدم استحکام پھیلانے کی بجائے انہیں امن کے عمل میں شریک ہونا چاہیئے اور ایک خود مختار افغانستان میں سیاسی عمل کا جائز حصہ بننا چاہیئے۔‘‘

انہوں نے محکمہ خارجہ کی معمول کی بریفنگ میں مزید کہا کہ ’’مذاکرات کا عمل شروع کرنے کی فوری ضرورت کا احساس ہونا چاہیئے۔‘‘

"اگر امن کا عمل شروع نہ کیا گیا اور طالبان مفاہمت کے لیے مذاکرات میں شریک نہ ہوئے ۔۔۔ تو ہمیں اور افغان سکیورٹی فورسز کو موسم بہار اور گرما کے دوران تشدد میں ممکنہ اضافے کے لیے تیار رہنا ہو گا۔‘‘

جان کربی کا کہنا تھا کہ ’’یہ جنگ کا موسم کہلاتا ہے اور جب موسم گرم ہوتا ہے تو ہم نے اس سے قبل بھی یہ دیکھا ہے ۔۔۔ میں اس بات پر زور دینا چاہوں کا کہ ہم ایسا ہوتا نہیں دیکھنا چاہتے۔‘‘

فروری میں چار فریقی رابطہ گروپ کے ایک اجلاس کے بعد حکام نے کہا تھا کہ وہ مارچ کے اوائل میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات کی توقع کر رہے ہیں۔

گزشتہ سال بھی پاکستان کی میزبانی میں ان دونوں کے درمیان مذاکرات شروع ہوئے تھے مگر طالبان کے سربرہ ملا عمر کے انتقال کی خبر سامنے آنے کے بعد مذاکرات منسوخ کر دیے گئے تھے۔ اس وقت بتایا گیا کہ ملا عمر دو سال قبل انتقال کر گئے تھے لیکن اس خبر کو "مصلحتاً" خفیہ رکھا گیا۔

XS
SM
MD
LG