رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی فضائی کارروائی میں 33 افغان شہریوں کی ہلاکت کا اعتراف


فائل فوٹو

امریکہ کی فوج نے جمعرات کو کہا کہ "اپنے اور افغان فورسز کے دفاع میں امریکی فورسز نے طالبان پر جوابی گولہ باری کی جو عام شہریوں کے گھروں کو فائرنگ کے لیے استعمال کر رہے تھے۔"

امریکہ کی فوج نے جمعرات کو ایک بیان میں تصدیق کی کہ گزشتہ سال نومبر میں شمالی افغانستان میں ایک فضائی کارروائی کے دوران 33 افغان شہری ہلاک ہوئے۔

یہ بات اس واقعہ کے بارے میں جاری کی جانے والی تحقیقاتی رپورٹ میں بتائی گئی ہے۔

مقامی افراد اور طالبان کے مطابق شورش کے شکار قندوز صوبے کے بوز گاؤں پر ہونے والے مہلک حملے میں درجنوں مکان زمین بوس ہو گئے تھے۔ امریکی اور افغان عہدیداروں کے مطابق یہ مشترکہ کارروائی ان طالبان راہنماؤں کے خلاف کی گئی تھی جو قندوز کے صوبائی دارالحکومت پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔

امریکہ کی فوج نے جمعرات کو کہا کہ "اپنے اور افغان فورسز کے دفاع میں امریکی فورسز نے طالبان پر جوابی گولہ باری کی جو عام شہریوں کے گھروں کو فائرنگ کے لیے استعمال کر رہے تھے۔"

بیان میں افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل جان نکلسن کے حوالے سے بتایا گیا کہ "اس بات سے قطع نظر کہ کیا حالات تھے مجھے معصوم جانوں کے ضیاع پر افسوس ہے۔۔۔میں صدر غنی اور افغانستان کے عوام کو یہ یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہم افغان شہریوں کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائیں گے۔"

امریکی فوج نے اپنے تحقیقاتی رپورٹ کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی خصوصی فورسز نے امریکی مشیروں کے ایک چھوٹے سے گروپ کے ساتھ قندوز میں طالبان کے ایک خفیہ ٹھکانے کے خلاف کارروائی کا منصوبہ بنایا۔ تاہم باغیوں نے تیزی سے ان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے کئی عام عمارتوں سے ان پر فائرنگ شروع کر دی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ "امریکی اور افغان فورسز اپنے دفاع کے لیے امریکی فضائی مدد کی درخواست کرنے پر مجبور ہو گئیں۔ ان طالبان کو خاموش کروانے کے لیے فضائی کارروائی کی گئی جو امریکہ کے طبی امدادی عملے پر بھی فائرنگ کر رہے تھے جو زخمی اور مرنے والوں کو وہاں سے نکال رہے تھے۔"

بیان کے اختتام میں یہ کہا گیا کہ (اس واقعہ سے متعلق) کوئی مزید کارروائی نہیں کی جائے گی کیونکہ امریکی فورسز نے تمام قابل اطلاق قانون اور پالیسی کے تحت اپنے دفاع میں کارروائی کی۔

بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ فائرنگ کے تبادلے میں دو امریکی اور تین افغان کمانڈو ہلاک ہوئے جب کہ 26 طالبان بشمول ان کے راہنما کے بھی مارے گئے اور دیگر 26 زخمی ہوئے۔

"طالبان کے ایک گولہ بارود کا ایک ذخیرہ بھی نشانہ بنا اور اس میں دھماکا ہوا جس کی وجہ سے کئی عام عمارتیں تباہ ہو گئیں اور اس کی وجہ سے شاید عام شہری بھی ہلاک ہوئے۔''

طالبان نے اس وقت دعویٰ کیا تھا کہ علاقے میں ان کے صرف تین لوگ موجود تھے جب وہ افغان اور امریکی فورسز کے حملے کی زد میں آئے تھے۔

قندوز میں اکتوبر 2015ء میں ایک بین الاقوامی طبی امدادی تنظیم "ڈاکٹرز ود آوٹ بارڈرز" کے زیر انتظام اسپتال کو امریکی فضائی کارروائی میں نشانہ بنایا گیا تھا جس میں 42 افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں 24 مریض اور 14 عملے کے افراد تھے۔ اس کارروائی کے دوران تقریباً 40 افراد زخمی بھی ہوئے اور اس علاقے میں موجود واحد طبی مرکز بھی تباہ ہو گیا تھا۔

یہ حملہ اس دوران ہوا تھا جب طالبان نے کچھ دن کے لیے قندوز پر قبضہ کر لیا تھا تاہم افغان فورسز نے امریکی فضائی مدد سے جنگجوؤں کو شہر سے نکال باہر کیا۔

امریکی فوج نے اس حملے کو ایک غلطی قرار دیتے ہوئے اس پر معذرت کی تھی تاہم اس اعتراف کے باوجود نا تو تنقید اور نا ہی اس واقعہ کی غیر جانبدار تحقیقات کے مطالبات میں کمی آئی۔

اس وقت سے قندوز صوبہ طالبان حملوں کی زد میں ہے اور گزشتہ سال اکتوبر میں جنگجو صوبے کے دارالحکومت پر قبضہ کرنے کے قریب پہنچ گئے تھے۔

XS
SM
MD
LG