رسائی کے لنکس

گیارہ جولائی کے امریکی حملے میں داعش کے دیگر رہنما بھی ہلاک ہوئے


امریکی فوج کی جانب سے اتوار کے روز جاری کیے گئے ایک بیان میں صفایا کیے گئے چار دیگر دہشت گردوں کے نام دیے گئے ہیں، جنھیں داعش کے اعلیٰ مشیر بتایا گیا ہے، جن میں شیخ ضیا اللہ، مولوی حبیب، حاجی شیراللہ اور اسد اللہ شامل ہیں

امریکی فوج کے اہل کاروں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ 11 جولائی کو افغانستان کے شمال مشرق میں کی گئی فضائی کارروائی کے دوران داعش کے مزید چار چوٹی کے راہنما ہلاک ہوئے، جس حملے میں اس دہشت گرد گروپ کا چوٹی کا سرغنہ ہلاک ہوا۔

صوبہ کُنڑ میں، جس کی سرحدیں پاکستان سے ملتی ہیں، داعش کے ہیڈکوارٹر پر کیے گئے اس ڈرون حملے میں ابو سید ہلاک ہوا، جو صوبہ خوراسان میں داعش کی خودساختہ شاخ کا امیر تھا۔

امریکی فوج کی جانب سے اتوار کے روز جاری کیے گئے ایک بیان میں صفایا کیے گئے چار دیگر دہشت گردوں کے نام دیے گئے ہیں، جنھیں داعش کے اعلیٰ مشیر بتایا گیا ہے، جن میں شیخ ضیا اللہ، مولوی حبیب، حاجی شیراللہ اور اسد اللہ شامل ہیں۔

امریکی فوج نےاُس حملے میں سید کی ہلاکت کی تصدیق کی، جب کہ پہلے فوری طور پر میزائل حملے میں ہلاک ہونے والے دیگر کمانڈروں کے نام فراہم نہیں کیے گئے تھے۔

گذشتہ سال کے دوران سید 'داعش خوراسان شاخ' کا تیسرا سربراہ تھا جسے امریکی فوج نے ہلاک کیا، یہ سعی کرتے ہوئے کہ یہ شدت پسند گروپ افغانستان میں قدم نہ جما سکے۔

بیان میں ملک میں امریکی افواج کے کمانڈر، جنرل جان نکلسن کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ''داعش (خوراسان شاخ) کے خلاف ہماری کارروائی پختگی سے جاری رہے گی''۔ اُنھوں نے دولت اسلامیہ کو 'داعش' کے مخفف سے پکارا۔

اُنھوں نے مزید کہا کہ ''افغانستان میں محفوظ ٹھکانے نہیں ہیں۔ ہم اُنھیں ہدف بنائیں گے، جب تک اُن کا کوئی نشان باقی نہ رہے اور یہ افغان عوام اور خطے کے لیے خطرے کا باعث نہ رہیں''۔

مبصرین نے ابو سید اور چوٹی کے دیگر راہنمائوں کی ہلاکت کو تسلیم کیا ہے کہ افغانستان میں گروپ کی سرگرمیوں کو قابل ذکر دھچکا پہنچا ہے۔

کابل میں قائم 'افغانستان انلسٹس نیٹ ورک (اے اے این)' نے اس جانب دھیان مبذول کرایا ہے کہ ملک میں شدت پسندوں کے خلاف گذشتہ دو برس کے دوران امریکی فوج کی فضائی کارروائیوں میں اب تک 'داعش خوراسان شاخ' کے تقریباً 20 بانی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سے کچھ ''دوسری نسل'' کے شدت پسند بھی شامل ہیں۔

اس غیر سرکاری تنظیم کی جانب سےگذشتہ ہفتے تحریر کردہ ایک مضمون میں بتایا گیا تھا کہ ''گذشتہ دو برس سے داعش خوراسان شاخ کا صفایا کرنے کا کام بخوبی جاری ہے، ایسے میں جب امریکی فوج نے اپنی فوجی کارروائی تیز کردی ہے، جس دوران خصوصی طور پر ننگرہار میں گروپ کے خلاف فضائی کارروائی جاری ہے''۔

مشرقی صوبہ ننگرہار کی سرحدیں کُنڑ سے ملتی ہیں، جس کے متعدد اضلاع کو داعش کے مضبوط ٹھکانے خیال کیا جاتا ہے۔ افغان سلامتی افواج، جنھیں امریکی فضائی کارروائی کی مدد حاصل ہے، صوبے میں داعش کے اڈوں کا صفایا کرنے کے لیے کلیدی کارروائیاں کرتی رہی ہیں۔

اے اے این نے متنبہ کیا ہے کہ افغانستان میں طالبان سرکشوں کی جانب سے بھی داعش کو حملوں کا سامنا ہے، جب کہ اُس کے اندر داخلی مسائل سامنے آئے ہیں، لیکن اس بات کے آثار نہیں کہ کچھ قدامت پسند حلقوں کی نگاہوں میں اس کا قد کاٹھ کم ہوا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG