رسائی کے لنکس

امریکہ: 'وی چیٹ' کو ایپ اسٹور سے ہٹانے کا حکم معطل


فائل فوٹو
فائل فوٹو

امریکہ کی ایک عدالت نے محکمۂ تجارت کے اُس فیصلے پر عمل درآمد روک دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ سماجی رابطے کے پلیٹ فارم 'وی چیٹ' کو امریکہ میں ایپ اسٹور سے ہٹا دیا جائے۔

سان فرانسسکو کی مجسٹریٹ جج لورل بیلر نے اتوار کو اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ درخواست گزاروں نے 'وی چیٹ' پر پابندی سے متعلق سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں جو مدعی کے حق میں جاتے ہیں۔

امریکہ کے محکمۂ تجارت نے جمعے کو اپنے ایک حکم نامے میں چین کی موبائل ایپلی کیشن 'وی چیٹ' کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے اس پر پابندی کا حکم دیا تھا۔

تاہم مجسٹریٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ چین سے متعلق قومی سلامتی کو لاحق خطرات کے حوالے سے عام شواہد اہم ہیں لیکن 'وی چیٹ' سے متعلق مخصوص شواہد بہت معمولی سے ہیں۔

محکمۂ انصاف نے مجسٹریٹ بیلر پر زور دیا تھا کہ وہ محکمۂ تجارت کے اس حکم نامے کو نہ روکیں۔

البتہ اتوار کو سماعت کے موقع پرمجسٹریٹ نے محکمۂ تجارت کے اُس حکم نامے پر بھی عمل درآمد کو روک دیا جس میں کہا گیا تھا کہ امریکہ میں 'وی چیٹ' سے لین دین پر پابندی ہو گی۔

عدالتی فیصلے پر امریکہ کے محکمۂ تجارت نے فوری طور پر کوئی ردِ عمل نہیں دیا ہے۔

اینیلیٹکس فرم ایپٹوپیا نے گزشتہ ماہ اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ امریکہ میں 'وی چیٹ' استعمال کرنے والے یومیہ ایک کروڑ 90 لاکھ صارفین ہیں۔

یاد رہے کہ 'وی چیٹ' چین کے طلبہ اور چین میں مقیم امریکیوں میں بہت مقبول ہے۔ وہ امریکی بھی اس ایپلی کیشن کا استعمال کرتے ہیں جن کا چین میں ذاتی یا کاروباری لین دین ہے۔

محکمہ تجارت کے پابندی کے فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے والے درخواست گزاروں نے فیصلے کو 'وی چیٹ' استعمال کرنے والے لاکھوں امریکی شہریوں کے لیے اہم اور بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔

درخواست گزاروں کے وکیل مائیکل بین کا کہنا تھا کہ امریکہ نے حالتِ جنگ میں بھی کمیونی کیشن کے کسی پلیٹ فارم کو بند نہیں کیا۔ 'وی چیٹ' پر پابندی چین میں رہنے والی امریکی کمیونٹی کو نشانہ بنانے کے مترادف ہے اور اس پر پابندی لگانے کے متعلق امریکی آئین کی پہلی ترمیم کے تحت آزادی راے کے سنجیدہ مسائل بھی جڑےہو ے ہیں۔

یاد رہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چھ اگست کو ایک صدارتی حکم نامہ جاری کیا تھا جس کے تحت چین کی ایپلی کیشنز 'ٹک ٹاک' اور 'وی چیٹ' کے مالکان کو 45 دن کا موقع دیا تھا کہ وہ امریکہ میں اپنے کاروبار سے متعلق فیصلہ کریں۔

امریکی حکام کو خدشہ ہے کہ چین کی موبائل ایپلی کیشنز ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بن رہی ہیں جو صارفین کا ڈیٹا چینی حکومت کے ساتھ شیئر کر سکتی ہیں۔

XS
SM
MD
LG